Categories
حرکات کے بارے میں

شاگرد سازی کے مواد اور وسائل کی ترتیب و تشکیل – قابلِ منتقلی اور قابلِ افزائش ہونا

شاگرد سازی کے مواد اور وسائل کی ترتیب و تشکیل – قابلِ منتقلی اور قابلِ افزائش ہونا

– ایلا ٹیسے –

 میں نیروبی کینیامیں واقع لائف وے مشن کا صدر ہوں۔ میں نیو جنریشنز ،ایسٹ افریقہ ریجن کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیتا ہوں۔ میں شاگرد سازی کے وسائل اور مواد کی ترتیب و تشکیل کی اہمیت کے بارے میں کچھ باتیں آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔ جب آپ شاگرد بناتے ہیں تو آپ کے پاس وہ مطلوبہ مواد اور وسائل ہونا ضروری ہیں جو اس عمل میں آپ کی مدد کریں ۔بہت سے چرچز اور مشنری تنظیموں نے یسوع  کےاس حکم کی تعمیل   کرنے کی کوشش کی ہے  کہ "جاؤ اور شاگرد بناؤ” ۔لیکن ان میں سے کچھ تنظیمیں شاگرد بنانے میں غیر مؤثر رہی ہیں ،کیو نکہ اُن کے پاس دوسرے لوگوں کو یسوع کے شاگرد بنانے کے لئے ضروری وسائل کی کمی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہم مل کر شاگرد سازی کے مواد کی ترتیب وتشکیل کے عمل پر تحقیق کریں، جو ہمیں لوگوں کو یسوع کے شاگرد بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

 میرے خیال کے مطابق شاگرد سازی  کے مواد کی ترتیب کے تین  مرحلے ہیں۔ پہلا مرحلہ تیاری کا ہے۔ اس مرحلے پر اُن چیزوں کو دیکھا جاتا ہے جنہیں شاگرد سازی کے مواد کی ترتیب کا آغاز کرنے سے پہلے جاننا ضروری ہے۔ دوسرا مرحلہ اپنے وسائل اور تربیتی مواد کو سیشنز اور موضوعات میں ترتیب دینا ہے، جو کہ نئے شاگردوں کی ضروریات سے ہم آہنگ ہو ۔تیسرا مرحلہ  مواد کی تیاری اور ترتیب ہے۔ ہم شاگرد سازی کے مواد کی ترتیب وتشکیل کے اصولوں پر نظر ڈالیں گے اور ہماری توجہ کا مرکز اُس کی تیاری ہو گا ۔

تیاری میں چار کام کرنے ضروری ہیں ،جو کہ ہر اُس شخص کو کرنے ہوتے ہیں جو شاگرد سازی کا  مواد ترتیب دے رہا ہو۔ سب سے پہلا کام ہے دعا۔ شاگرد ساز کے لئے ضروری ہے کہ وہ خُدا سے دعا کرے کہ وہ نئے شاگردوں کی ضروریات کے مطابق مواد کی تشکیل میں اُس کی راہنمائی کرے۔ ہمیں خُدا کے دل کو جاننا ہے اور روح القدس کی راہنمائی  کے لئے دعا کرنی ہے۔ روح القدس، بہترین مواد تیار کرنے میں ہماری راہنمائی کرے گا ،اور یہ مواد اُتنا ہی ا ہم ہے جیسے ایک نو مولود بچے کو اُس کے لئے موزوں غذا دینا ۔ یہ اس لئے ہے کہ نئے شاگرد کو بہت سی نئی چیزیں سیکھنی ہوتی ہیں ۔ اگر ہم موثر طور پر دعا نہیں کر سکیں گے  تو ہم اس معاملے میں نہ ہی خُدا کی مرضی جان سکیں گے، اور نہ ہی روح القدس کی راہنمائی حاصل کر سکیں گے۔ سو سب سے پہلا مرحلہ دعا کے ذریعے خُدا کو اپنے ساتھ شامل کرنا ہے ۔  

دوسرے نمبر پر اہم بات یہ ہے کہ ہم اُن لوگوں کے بارے میں بہترین طور پر معلومات حاصل کریں جنہیں ہم تعلیم دینا چاہتے ہیں ۔ نارسا قوموں اور گروہوں تک رسائی کی ابتدا  میں،  ہم انہیں ٹھوس غذا نہیں کھلا سکتے ۔ جب   وہ مسیح کے ایمان میں نئے نئے داخل  ہوئے ہوں، ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اپنے روحانی سفر میں کس مقام پر ہیں؟ وہ کیا کچھ جانتے ہیں ؟ وہ کیا نہیں جانتے ؟ اُن کی تعلیمی استعداد کیا ہے ؟ اُن کی معاشی صورت حال کیا ہے ؟ انہیں کیسے چیلنجز کا سامنا ہے ؟ کیا اُن کا تعلق ایک مسلمان پس منظر سے ہے یا ہندو  پس منظر سے ؟ اُن کی عمر کیا ہے ؟ شاگرد سازی کے تربیتی مواد کی تیاری سے پہلے ہمارے لئے یہ سب کچھ جاننا بہت ضروری ہے ۔ اسی لئے کوئی بھی شاگرد ساز  جو کہ شاگردسازی کا تربیتی مواد تیار کرنا چاہے ، اُس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ممکنہ شاگردوں کو بہترین طور پر جان لے میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے کہ  جو ایک مقام سے دوسرے مقام پر جاتے ہوئے ایک ہی مواد اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مختلف قسم کے علاقوں اور قوموں میں ایک ہی طرح سے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ یہ طریقہِ کار مؤثر نہیں ہے۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو کہ صرف زبانی تربیت حاصل کرنے کے قابل ہوں ۔اور دوسرے ایسے ہوں گے جن کا اچھا خاصہ تعلیمی میعار ہو ۔اگر آپ اپنے ممکنہ شاگردوں کی استعداد کو صحیح طور پر نہ سمجھیں، تو آپ کے لئے شاگرد سازی کا مؤثر تربیتی مواد تیار کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ اسی لئے تیاری کا دوسرا مرحلہ بہت ہی اہم ہے ۔ یہ کہ ہم اپنے ممکنہ شاگردوں سے واقف ہوں چاہے وہ گروپ کی حیثیت میں ہوں یا انفرادی حیثیت میں ۔ لازمی ہے کہ ہم انہیں بہت اچھی طرح جان لیں ۔ 

تیسری  سرگرمی ایک ایسی ٹیم کی تیاری ہے جو شاگرد سازی کے تربیتی  مواد کی تیاری اور تشکیل پر کام کرے ۔ ضروری ہے کہ اس ٹیم میں  ایسے لوگ موجود ہوں جنہیں اُس قوم یا گروہ کےلوگوں کے  درمیان کام کرنے کا تجربہ ہو، جنہیں آپ شاگرد بنانا چاہتے ہیں۔ یہ ٹیم مل کر مختلف خیالات جمع کر سکتی ہے ، سوچ و بچار سکتی ہے اور دعا کر سکتی ہے ۔ وہ ممکنہ شاگردوں کے گروپ کے بارے میں تفصیلات بھی حاصل کر سکتی ہے۔ اس عمل کے لئے ایک ٹیم کا ہونا بہت زیادہ اہم ہے، کیو نکہ کوئی شخص اکیلا بیٹھ کر اُن مسائل کا ادراک نہیں کر سکتا  جو ممکنہ شاگردوں کے گروپ کی شاگرد سازی کے وقت سامنے آ سکتے ہیں ۔ 

میں نے دیکھا ہے کہ دنیا بھر کے لوگ آن لائن  تربیتی مواد ڈاؤن لوڈ کرتے رہتے ہیں ، جو کہ عموما ً   اُن لوگوں کی ضروریات کے مطابق بھی نہیں ہوتا ،جن کی وہ شاگرد سازی کرنا چاہتے ہیں ۔ ہاں یہ ضروُر ہو سکتا ہے کہ ہم دوسرے قبیلوں یا دوسری قوموں سے کچھ خیالات اور نکات مُستعار لے لیں  ۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ کسی ایک علاقے کے لوگوں کے ویسے ہی مسائل ہوں گے  جیسے دوسرے علاقے کےہیں ۔ اس لئے یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ اس ٹیم کو کسی مخصوص گروہ  کے بارے میں  مکمل معلومات اور سمجھ بوجھ حاصل ہو ۔

چوتھی سر گرمی تجزیہ کرنا ہے۔ یہ ٹیم مل کر اُن مسائل کا تجزیہ کر سکتی ہے   جنہیں کسی مخصوص گروہ کی شاگرد سازی کے عمل کے دوران حل کرنا ضروری ہو۔ ٹیم ضروری معلومات اکٹھی کرے گی   اور ممکنہ شاگرد وں کے گروہ کو در پیش مسائل اور چیلینجز کو نظر میں رکھے گی ۔ ایسے کون سے دنیاوی مسائل ہیں جن کا کلام کی روشنی میں حل کیا جانا ضروری ہے ؟ اُن کے مذہبی اعتقادات کیا ہیں، جن پر  شاگرد سازی کے عمل کے دوران کام کر نا ضروری ہے ؟ 

مندرجہ بالا نکات کی روشنی میں آپ شاگرد سازی کے مواد  میں سے اپنے موضوعات  کا انتخاب کر کےسیشنز ترتیب دے سکتے ہیں۔ اگر آپ ممکنہ شاگردوں کے گروہ کے بارے میں معلومات  کا حصول اور تجزیہ کرنے سے قاصر ہوں تو آپ کو اندازےکی بنا پر چلنا پڑتا ہے کہ کو ن سی چیز اُن کے لئے موزوں ہو سکتی ہے۔ لیکن  عین ممکن ہے کہ آپ کا خیال غلط ہو ۔ آج کے دور میں استعمال ہونے والے شاگرد سازی کے بہت سے وسائل، ممکنہ شاگردوں کی روحانی اور مادی ضروریات پوری نہیں کرتے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہمارے پاس ایک ٹیم موجود ہو جو کہ ہر قبیلے اور ہر قوم کی ضروریات کے مطابق تجزیہ کر کے موضوعات  ترتیب دے ۔شاگرد سازی کے  تربیتی مواد کی تیاری کے پہلے مرحلے میں  یہ سر گرمیاں بہت اہم ہیں ۔ ہمیں اس میں جلد بازی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آپ جتنا وقت لگائیں گے ،اتنا ہی بہتر طور پر آپ کسی گروہ کی ضروریات سمجھ سکیں گے ۔اس سے آپ اس قابل بن جائیں گے کہ آپ لوگوں کو اُن کے اپنے تہذیبی اور معاشرتی تناظر کے مطابق  مؤثر طور پر یسوع کے شاگرد بنا سکیں ۔

Categories
حرکات کے بارے میں

نارساؤں تک رسائی کے مقصد کی خاطر موجودہ چرچز کے لئے دوہری پٹڑی کا ماڈل

نارساؤں تک رسائی کے مقصد کی خاطر موجودہ چرچز کے لئے دوہری پٹڑی کا ماڈل

– ٹریور لارسن اور ثمرآور  بھائیوں کا ایک گروہ 

ہمارا ملک بہت تنوع کا حامل ہے ۔ کئی علاقوں میں مسیح پر ایمان رکھنے والا کوئی بھی نہیں ملتا  اور پھر بھی دیگر علاقوں میں  قائم دائم چرچز موجود ہیں۔ ان میں سے کچھ چرچز مسلمانوں تک رسائی کی  اہلیت رکھتے ہیں، تاہم زیادہ تر چرچز نے جو 90 سے 99 فیصد مسلم اکثریتی آبادی کے علاقوں میں موجود ہیں ،کئی سالوں سے مسلمانوں کو ایمان کے دائرے میں داخل  نہیں کیا ہے ۔وہ اُس ردعمل سے خوف زدہ ہیں جو مسلمانوں کے ایمان لانے کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ مسلمان اکثریت کے زیادہ تر علاقوں میں موجود چرچز  مسیحی تہذیبی روایات قائم رکھتے ہیں ۔ وہ اپنے علاقوں میں نارسا قوموں  تک رابطے قائم نہیں کرتے ۔ ظاہری طور پر موجود اور نظر آنے والے چرچز کی تہذیبی روایات اور اُن کے خلاف ردعمل مسلمانوں کے ساتھ رابطے منسلک  کرنے کو مشکل بنا دیتے ہیں ۔ ایسے ظاہری طور پر موجود چرچز ( جنہیں ہم پہلی پٹڑی کے چرچز کہیں گے ) ایک ایسی تہذیب کےنمائندہ ہوتے ہیں جو اُن کے آس پاس کے مسلمانوں  سے یکسر مختلف ہوتی ہے ۔ اس وجہ سے روحانی پیاس رکھنے والے مسلمانوں اور ان چرچز کے درمیان دیوار حائل ہو جاتی ہے ۔ہم ایک مختلف نمونہ تجویز کرتے ہیں :ایک دوسری پٹڑی کا چرچ:  یہ ایک ایسا چرچ ہو گا جو کہ اُسی سٹیشن سے منسلک ہے جس سے پہلا چرچ منسلک ہے لیکن اس چرچ کے ممبران چھوٹے چھوٹے گروہوں  میں خفیہ انداز میں ملتے ہیں ، اور آس پاس کا معاشرہ  اُن سے بے خبر رہتا ہے ۔کیا مسلمان اکثریت کے علاقوں میں موجود روایتی چرچ ایک دوسری پٹڑی کا (زیرزمین) چرچ شروع کر سکتے ہیں ؟ کیا وہ پہلی پٹڑی یعنی ظاہری چرچ کی خدمت کرتے ہوئے چھوٹے چھوٹے گروہوں میں مسلمانوں کی شاگرد سازی کر سکتے ہیں ۔ 

کئی تجرباتی پراجیکٹس ” دوہری پٹڑی” کے ماڈل کی آزمائش کر رہے ہیں

ملک کے مسلم اکثریتی علاقوں میں زیادہ تر فرقوں کے چرچ یا تو سُست رفتاری اور یا گذشتہ دس سالوں میں زوال کا شکار ہو گئے ہیں ۔  ان ہی دس سالوں میں زیر زمین چرچ کا نمونہ ابھراہے جس نے چھوٹے چھوٹے گروہوں کی بہت تیز رفتاری سے افزائش کر کے  نارسا قوموں اور گروہوں تک رسائی کا مقصد حاصل کر لیا ہے ۔ 

کچھ چرچز ہم سے درخواست کرتے ہیں  کہ ہم انہیں مسلمانوں تک رسائی کے لئے چھوٹے گروہوں کی افزائش کے لئے تربیت دیں ۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ وہ پہلی پٹڑی کے ظاہری چرچز کو بھی قائم رکھنا چاہتے ہیں ۔ ہم نے مختلف علاقوں میں دوسری پٹڑی کے  نمونے پر مبنی 20 مختلف چرچز کا تجرباتی آغاز کیا۔ ان میں سے چار تجرباتی پراجیکٹس ابتدائی تجربے کا چار سالہ عرصہ گزار چکے ہیں۔ اس باب میں دوسری پٹڑی کے نمونے کی بنیاد پر کئے  گئےپہلے چار تجربات  پیش کئے جاتے ہیں ۔ ان تجربات کے بارے میں مزید آگاہی اور دیگر 3 تجربات کے بارے میں معلومات” فوکس آن فروٹ” نامی کتاب میں مل سکتی ہیں ۔جس کی تفصیل اس باب کے اختتام پر درج ہے ۔

    کیس سٹڈی : ہمارا دوسری پٹڑی کا  پہلا چرچ

زاؤل نے 90 فیصد مسلم اکثرتی علاقے میں دوسری پٹڑی کا ایک تجرباتی پراجیکٹ  چار سال کے عرصے میں مکمل کر لیا ہے ۔ یہ علاقہ مسلم اکثریت کا ہے اور اُن میں سے زیادہ تر بنیاد پرست ہیں زاؤل بتاتا ہے کہ انہوں نے دوسری پٹڑی کے اس پہلے نمونے سے کیا کچھ سیکھا 

1۔ چرچز اور شاگردوں کا محتاط انتخاب 

ایک اچھے نمونے کے لئے بہترین انتخاب  کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ہم چاہتے تھے کہ ہمارا چرچ کامیاب ہو اس لئے ہم نے بہت محتاط طریقے سے انتخاب کیا ۔ میں نے اس تجرباتی پرجیکٹ کے لئے چرچ Aکا انتخاب کیا کیو نکہ اُن کے معمر پاسٹر نے مسلمانوں کے لئے خدمت کے پُل قائم کرنے میں بہت گہری دلچسپی ظاہر کی تھی ۔ چرچ A یورپ کے ایک فرقے کا حصہ ہے لیکن اُس میں مقامی تہذیب کے کچھ پہلو بھی شامل ہیں  ۔ وہ عبادت کے لئے مقامی زبان استعمال کرتے ہیں لیکن اس کے علاوہ یورپ میں موجود  اپنے جیسے دیگر چرچز سے گہری مشابہت رکھتے ہیں ۔اپنے آغاز سے  51 سال بعد اس چرچ کے باقاعدہ ممبران خاندانوں  کی تعداد  25 ہے 

چر چ اA کے پاسٹر کو میں کئی سال سے جانتا تھ۔اس چرچ کے آس پاس ہم نے کئی چھوٹے گروہوں کی افزائش کی تھی ۔ جنہیں ہماری مقامی مشن ٹیموں کے ارکا ن نے شروع کیا تھا  ۔پاسٹر صاحب کو ہماری منسٹری کے پھل لانے پر  خوشی تھی اور وہ ہم سے سیکھنا چاہتے تھے کہ مسلمانوں تک رسائی کیسے کی جائے۔

2۔ شراکت کے قواعد و ضوابط 

ان پاسٹر صاحب کی دلچسپی دیکھنے کے بعد ہم نے اپنی شراکت کی شرائط پربات چیت  شروع کی ہم نے ان تمام شرائط کو ایک ایم ۔ او ۔ یو کی صورت میں تحریر کرنا شروع کیا ۔ میرا خیال تھا کہ تحریری معاہدے کی صورت میں غلط فہمیاں کم ہو جائیں گی اور کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ سو ہم نے اپنی مشن ٹیم اور چرچ کے پاسٹر کے درمیان ایک ایم ۔ او۔ یو  دستخط کیا جس میں شریک  فریقین کے کردار کی وضاحت کی گئی تھی ۔

سب سے پہلے چرچ نے رضامندی ظاہر کی کہ وہ دس زیرتربیت کارکنان فراہم کرے گا جو اُس علاقے کے مسلمانوں تک منادی کرنے کے لئے رضامند ہوں۔ ہم نے زیرتربیت  شاگردوں کے انتخاب کے میعار کے اصول بھی طے کئے تاکہ مسلمانوں کو منادی کا مقصد کامیاب ہو سکے چرچ نے تربیت کے لئے مقام، کھانے پینے کے لئے بجٹ اور پاسٹر صاحب کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ پاسٹر صاحب نے دوسرے علاقوں کے کچھ پاسٹر صاحبان کو بھی  تربیت کے لئے دعوت دی ۔ 

دوسری بات یہ کہ چرچ اس بات پر متفق ہوا کہ میدان میں جا کر  کام کرنے کے لئے ہدایات ہماری ٹیم ہی کی جانب سے ملیں گی۔  پاسٹر صاحب کا کردار زیرتربیت کارکنان کی مجموعی نگرانی تک محدود تھا ۔ انہوں  نے وعدہ کیا کہ وہ میدانِ عمل میں ہماری مشن ٹیم  کے فیصلوں میں مداخلت نہیں کریں گے ۔ انہوں نے اس بات پر بھی رضا مندی ظاہر کی کہ موجودہ چرچ کی منادی کے طریقے   مسلمانوںمیں منادی کرنے کے لئے استعمال نہیں کئے جائیں گے ۔ یہ بات بھی طے ہو گئی کہ دوسری پٹڑٰ ی کے نمونے کا مرکز مسلمان ہو ں گے جو موجودہ چرچ کے دائرے سے باہر ہیں ۔ زیر زمین چرچ حالات کے تناظر میں کام کرنے اور تبدیلیاں لانے کے لئے خود مختار ہو گا ۔

چرچ رضامند تھا کہ اس شراکت کے نتیجے میں ایمان لانے والے مسلمانوں کو دوسری پٹڑی کے چرچ میں چھوٹے گروہوں میں الگ الگ رکھا جائے گا ۔ نئے ایمانداروں کو ظاہری اور پہلی پٹڑی کے چرچ کے ساتھ شامل نہیں کیا جائے گا ۔اس کا مقصد یہ تھا کہ نئے ایمان لانے والوں کو مغرب کے اثرات سے بچایا جا سکے اور بنیاد پرستوں کے ردِعمل کے خلاف بھی محفوظ کیا جا سکے ۔ 

تیسری بات یہ تھی کہ ہم ،یعنی مشن ٹیم نے ایک سال  کے لئے تربیت دینے  کا وعدہ کیا۔ ہم نے خدمت میں سر گرم ارکان کی تربیت اور کوچنگ کی ذمہ داری لی ۔خود میں نے اس تربیت کی سہولت کاری کی ذمہ داری لی۔ ہم نے تربیتی مواد اور وسائل کے لئے بجٹ فراہم کیا ۔ ہم نے سر گرم ترین زیرتربیت کارکنوں کو مزید چار سال تک تربیت دینے کا معاہدہ بھی کیا ۔ 

چوتھی بات یہ کہ ہماری مشن ٹیم نے زیر زمین چرچ کو مقامی ترقیاتی منسٹریوں کے لئے کچھ فیصد فنڈدینے پر بھی رضامندی ظاہر کی جو ایک سال کے لئے دیئے جانے تھے ۔ہم نے اُس علاقے میں  ترقیاتی کاموں کو چھوٹے  گروپوں میں ایمانداروں کی افزائش کے ساتھ مربوط بھی کیا۔ چرچ نے میدان میں کام کرنے والے کارکنان کے لئے روز مرہ کے اخراجات اور سفر خرچ دینے کا وعدہ کیا ۔اس  کے علاوہ انہوں نے علاقے میں ترقیاتی کاموں کے بجٹ میں کچھ حصہ ڈالنے پر بھی رضامندی ظاہر کی ۔

پانچواں  نُکتہ یہ  طے ہُواکہ ہر تین ماہ بعد ایک رپورٹ مرتب کی جائے گی ۔ اس رپورٹ میں اخراجات منسٹری  کی  ثمر باری اور زیر تربیت کارکنان کی کردار سازی کے پہلوؤں کو اجاگر کیا جانا تھا ۔

اس شراکت کی ابتدا اور اسے مضبوط کرنے میں پاسٹر صاحب کے ساتھ  میری طویل مدت کی دوستی ایک  بڑی وجہ تھی ۔ دو مختلف پٹڑیوں کا نمونہ اس لئے تخلیق کیا گیا تھا کہ دو مختلف اور الگ چرچز قائم کئے جائیں جو دیکھنے میں  ایک دوسرے سے بہت مختلف ہوں  لیکن اُن کی قیادت مشترکہ ہو ۔ چرچ نے رضامندی کا اظہار کیا کہ زیرتربیت کارکنان ایک سہولت کار کی حیثیت سے اپنے اپنے لائے گئے پھل کے اعداد وشمار مجھے فراہم کریں گے   اور چرچ اُس میں مداخلت نہیں کرے گا ۔سہولت کار کی حیثیت سے مجھے ان اعدادوشمار کا خلاصہ چرچ کے راہنماؤں کو فراہم کرنا تھا ۔ اس کے جواب میں انہوں نے طے کیا کہ وہ ان اعدادوشمار کو چرچ یا علاقے میں مشتہر نہیں کریں گئے 

3۔ پہلا سال : شرکا کی تربیت اور چھانٹی 

پہلے سال میں ہم نے سولہ مختلف موضوعات پر تربیت فراہم کی۔ اس تربیت کے لئے ہر دوسرے ہفتے ایک پورا  دن مخصوص تھا۔میں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تربیتی موضوعات میں سے نصف، پہلی پٹڑی کے چرچ کی افزائش کریں گے ۔ اس سے اُنہیں یہ جاننے میں مدد ملی کہ ہم پہلی پٹڑی کےظاہری طور پر  موجود چرچ کی خدمت بھی  کرنا چاہتے ہیں لیکن میری ترجیح تربیتی موضوعات میں سے اگلا نصف تھی جسے دوسری پٹری کے گروپ کے لئے تشکیل دیا گیا تھا ۔ اس کا مرکز نگاہ چرچ سے باہر کے مسلمانوں  کی خدمت اور چھوٹے چھوٹے گروپوں میں  خاموشی سے اُن کی شاگرد سازی کرنا تھا ۔

تربیت کا پہلا سال کردار سازی اور قیادت  کی آٹھ بنیادی مہارتوں کی تربیت پر مرکوز تھا ۔ان میں سے ایک مہارت ” دائروی انتظام” کہلاتی ہے۔ ہم اسے اپنی رپورٹوں میں دائرے کی صورت میں استعمال کر کے چھوٹے گروپوں کی افزائش دِکھاتے ہیں ۔ہماری رپورٹ  محض سر گرمی پر نہیں بلکہ اُس کے نتیجے میں آنے والے پھل پرمبنی ہوتی ہے۔ عملی میدان کے لئے ہمیں ایسے کارکنوں کی ضرورت ہوتی ہے جو مختلف قسم کے اسلوب اور حکمت عملیاں استعمال کر سکیں ۔ لیکن سب سے بڑھ کر ہم اُس پھل کا تخمینہ لگانا چاہتے ہیں جو ان سر گرمیوں  کے نتیجے میں سامنے آتا ہے۔ سو ہم عملی میدان میں کام کرنے والوں کو ترقی کے عملی اشاریوں کی نشاندہی کرنا سکھاتے ہیں۔  جب وہ ان نشانات اور علامات سے متفق ہو جاتے ہیں تو ہم باقاعدہ طور پر مشترکہ  تجزیہ کاری کا آغاز کر دیتے ہیں ۔ 

مسلمانوں تک پہنچنے والے عملی میدان کے کارکنان کے لئے یہ آٹھ مہارتیں بہت اہم ہیں ۔ ہر تجزیے میں ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کن زیرتربیت کارکنان نے  تمام آٹھ مہارتیں استعمال کی ہیں ۔ ان آٹھوں مہارتوں کا استعمال کرنے والے زیرتربیت  کارکنوں کو ہم سر گرم قرار دیتے ہیں۔ اگر ان کا استعمال نہیں کیا گیا تو کیوں نہیں ؟ ہم نے زیر تربیت کارکنوں کی نگرانی کی ، انہیں حوصلہ افزائی فراہم کی اور ان آٹھ مہارتوں کی بنیاد پر اُن کا جائزہ لیا ۔

چرچ کے 50 بالغ ممبران میں سے 26 کو دونوں قسم کے چرچز کی تربیت دی گئی جو کہ سولہ موضوعات پر مبنی تھی۔ کچھ ماہ کے بعد صرف دس نے چرچ کے دائرے سے باہر  مسلمانوں  تک پہنچنے اور انہیں شاگرد بنانے کی بلاہٹ محسوس کی ۔ ان دس افراد نے ( جو چر چ کے کُل بالغ ممبران کا بیس فیصد تھے ) خود کو مسلمانوں  کی شاگرد سازی کے لئے منتخب کیا۔

ہمارے سہ ماہی جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ اُن دس میں سے 6 نے پہلی پٹڑی کے چرچ میں خدمت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اُن کی توجہ چرچ  کی منادی، اُس کے ممبران کی تربیت اور دیگر چرچز کے ساتھ رابطہ  کاری پر تھی۔ 10 میں سے صرف 4 تھے جو اکثریتی عوام تک پہنچنے کے لئے سر گرم تھے۔ یہاں کچھ تربیت کاروں کی حوصلہ شکنی بھی ہوئی ہوگی، لیکن یہ چار لوگ چرچ کے 8 فیصد کی ترجمانی کرتے تھے جو بہت سے چرچوں کے لئے ایک کافی بڑی تعدادہے ۔یہ 4  افراد،مسلمانوں کی اکثریتی آبادی میں شاگرد سازی کے عمل کو انجام دینے کے لئے ایک خاص بلاہٹ کے حامل تھے 

4۔ دوسرے سے چوتھے سال تک : ابھرتے ہوئے عملی کارکنان کے لئے کوچنگ اور تعاون 

ہم نے صرف اُن 4 افراد کی کوچنگ کی جو منادی کے لئے سر گرم نظر آتے ہوئے ابھرے تھے ۔ ان چاروں کی تربیت ہماری مشن ٹیم نے تیسری نسل کے ایک چھوٹے گروپ میں کی ۔ یہ ایسے مسلمان تھے جو ایمان لا چکے تھے  اور آس پاس کے علاقوں میں رہتے تھے ۔

ان چاروں کو قریبی علاقوں میں مسلمانوں کے درمیان منادی کے لئے بھیجا گیا اُن میں سے ہر ایک نے چرچ کے 25 سے 30  کلو میٹر کے آس پاس کے علاقوں میں سے ایک ایک علاقہ منتخب کیا جہاں اُنہوں  نے اس کا م کی ابتدا کرنی تھی۔ چرچ کے 25 ممبران خاندان نے اُن چاروں خاندانوں کی کفالت کا ذمہ لے لیا جنہوں نے مسلمانوں  میں خدمت کے لئے خود کو وقف کر دیا تھا ۔ اپنے چندوں اور نذرانوں کے علاوہ  چرچ کے ممبران نے اس مقصد کے لئے چرچ سے باہر کے عطیہ دہندگان سے بھی فنڈ  ز حاصل کئے ۔اُنہوں نے چرچ کے سابقہ ممبران سے بھی رابطہ کیا جو دیگر شہروں میں منتقل ہو گئے تھے اور اب اچھی خاصی آمدنی حاصل کر رہے تھے۔

 ہماری توجہ کا مرکز ان چار وں کی تربیت تھی۔ اس قسم کی خدمت میں  ابتدائی تربیت اہم نہیں ہوتی کیو نکہ زیادہ تر  لوگ اس ابتدائی تربیت کو استعمال کرنے سے پہلے ہی بھول جاتے ہیں۔ ابتدائی تربیت دراصل لوگوں کی چھانٹی کرنے اور ایسے لوگوں کی نشاندہی کرنے کے کام آتی ہے جو مسلمانوں تک جانے کے لئے سر گرم ہوں اور اُس کی اہلیت رکھتے ہوں ۔ثمر آور کوچنگ کا تقاضا  ہوتا ہے کہ تربیت کاروں  اور خدمت میں عملی طور پر سرگرم  کارکنان کے مابین  باقاعدگی سے بات چیت ہو ۔ تربیت کار، زیر تربیت کارکنان کے ساتھ اُن مسائل پر گفتگو کرتے ہیں جن کا سامنا وہ میدان ِ عمل میں کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ اُن بار آور طریقہ کاروں کا جائزہ بھی لیتے ہیں جن پر تربیت کے دوران بات کی گئی ہوتی ہے ، اور اُن کے اپنے اپنے تناظر میں اُن کے اطلاق پر بھی بات کرتے ہیں ۔ بہت سے لوگوں کو عملی میدان میں اپنی تربیت کے اصولوں کے اطلاق کے لئے باقاعدہ اور رواں دواں تربیت اور کوچنگ کی ضرورت ہوتی ہے ۔

ان چار افراد کے جذبے کو دیکھتے ہوئے اُس چرچ نے بھی دوسری پٹڑی کے پراجیکٹ کی جانب اپنی توجہ میں اضافہ کر دیا ۔انہوں نے اُس علاقے میں ترقیاتی پراجیکٹس کے لئے اُن چاروں کو مزید فنڈ مہیا کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ۔ ترقیاتی پراجیکٹس ایسے مسلمانوں کا دل جیتنے کے لئے بہت اہم ثابت ہوتے ہیں جن کا تعلق کم آمدنی والے طبقے سے ہوتا ہے ۔ ہم نے چرچ اور میدان میں سر گرم اُن چار افراد کے سیکیورٹی کے مسائل پر گفتگو پر بھی بہت سا وقت صرف کیا ۔اس سے تمام لوگوں کو محتاط رہنے میں بھی مدد ملی ۔

5۔ چار سالوں میں بہت سا پھل 

اب چار سال بعد ان چار ممبران کی جانب سے شروع کی گئی منادی  500 ایمانداروں تک پہنچ چکی ہے۔ دوسری پٹڑی کے زیر زمین چرچ کا یہ پھل جوکہ  چھوٹے  گروپوں کی صورت میں سامنے آیا، پہلی پٹڑی کے ظاہری چرچ کے  50 ممبران سے کہیں بڑھ کر ہے جو کہ ایک عمارت میں دعا کے لئے جمع ہوتے تھے ۔

انہوں نے شاگرد سازی کے لئے چھوٹے چھوٹے گروپوں کی    تشکیل بھی کی ہے جن میں آ کر مسلمان ایمان لاتے ہیں۔ یہ مسلمان اس کے بعد مزید چھوٹے گروپ  تشکیل دے کر  اُن مسلمانوں  کی راہنمائی کرتے چلے جاتے ہیں  جو ابھی ابھی ایمان لائے ہوتے ہیں۔ پاسٹر صاحب نے اس پھل کے نتیجے میں حاصل ہونے والی خوشی کو دبا کر رکھا ہوا ہے ۔ 

6۔ راہ میں آنے والی رکاوٹیں اور مقصد کی تجدید

یہ چار عملی کارکنان اب اُن چار علاقوں میں بہت سا پھل آتا ہوا دیکھ رہے ہیں اور اُس کی نگرانی کر رہے ہیں ۔ حال ہی میں  میں اُن چاروں کے ساتھ ساتھ پہلے چرچ کے ایک نئے پاسٹر سے بھی ملا ۔ہم نے ISIS سے متاثر ہو کر تعداد میں بڑھنے والے بنیاد پرستوں کے ساتھ تصادم کی صورت میں ہنگامی صور ت حال ابھرنے کے بارے میں گفتگو کی ۔ہم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان چھوٹے گروپوں میں شامل ایماندار اپنے طور پر ایسی صورت حال سے نمٹیں گے اور کسی دوسرے چھوٹے گروپ کے ساتھ اپنے روابط کو ظاہر نہیں کریں گے ۔ لیکن اگر مسئلہ بہت ہی مشکل ہو جائے اورکسی کی قربانی دینی ہی پڑے تو وہ پہلے چرچ کے ساتھ اپنے رابطوں کا انکشاف کر کے اُس کی قربانی دیں گے۔ یہ ایثار کی ایک بہت شاندار مثال ہے، ایک ایسے ملک میں جہاں چرچز مسلمانوں تک پہنچنے کے لئے محض اس لئے خوف زدہ ہوتے ہیں کہ اُن کا اپنا چرچ خطرے کی زد میں آ سکتا ہے ۔پہلے چرچ کی قربانی کی صورت میں یہ خطرہ اُسی چرچ تک محدود رہے گا ۔ اور اس سے کہیں بڑی تعداد میں زیر زمین ( دوسری پٹڑی کے چرچ ) تک نہیں پہنچے گا ۔ حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ شدہ چرچ کو شاید  قانون کا تحفظ بھی حاصل ہو ،لیکن زیر زمین چرچ کو ایسا کوئی تحفظ  حاصل نہیں ہو سکے گا ۔

سو جہاں تک ممکن ہوا چھوٹے گروپ تصادم کے ساتھ انفرادی طور پر ہی نمٹیں گے تاکہ دوسروں کو خطرے میں نہ ڈالا جائے ۔عملی میدان کے یہ چار راہنما چھوٹے گروپوںمیں موجود نئے ایمانداروں کو  ایسی صورت حال سے اسی انداز میں نمٹنے کی تربیت دیں گے ۔ اُن کی نشان دہی  پہلے سے موجود چرچ کی حیثیت سے نہیں کی جائے گی۔ اس طرح وہ خطرے کی زد میں نہیں آئیں گے ۔ زیر زمین چرچ کی تحفظ کی خاطر سابقہ پاسٹر کی جگہ لینے والے نوجوان پاسٹر نے بھی یہ خطرہ مول لینا قبول کر لیا۔

 جن دوسری پٹڑی کےنمونے کے  چرچز کی ہم تربیت کرتے ہیں، اُن کے ساتھ ہم بہت ایمانداری سے چلتے ہیں ۔ اُن کے لئے مسلمانوں میں منادی کے فوائد ہی نہیں  بلکہ اُس سے منسلک خطرات جاننا بھی ضروری ہوتا ہے ۔ لازمی ہے کہ جس چرچ کی ہم تربیت کر رہے ہوں وہ ہماری رپورٹوں کو خفیہ رکھنے پر اتفاق کریں۔ یہ رپورٹیں چرچ کے ممبران یا دیگر مسیحیوں کو نہیں دکھائی جا سکتیں۔ اس وجہ سے ہم تربیت دینے  کے لئے چرچ اور اُس کے ممبران کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں ۔

ان دو پٹڑیوں کے اسلوب میں سیکیورٹی کے خدشات تو سامنے آتے ہی ہیں، لیکن ہمارا سب سے بڑا چیلنج چر چ کےکچھ  راہنماؤں  کی جانب سے منفی تنقیدی حملے ہیں۔ وہ ہم پر یہ سمجھتے ہوئے تنقید کرتے ہیں کہ اگر ہماراگلہ چرچ کی عمارت میں نہیں جاتا تو ہم اُس کی حفاظت نہیں کریں گے۔ در حقیقت ہم   ایسے بہت سے پاسبانوں کی تربیت کرتے ہیں جو گلے کی نگہبانی کرنے کے اہل ہوتے ہیں ۔ ہم چھوٹے گروپ کے ہر راہنما کو اس بات کی تربیت دیتے ہیں کہ وہ اپنے گروپ کے ممبران کے ساتھ باہمی محبت اور دیکھ بھال کی فضا قائم کرے تاکہ وہ ایک دوسرے کا خیال رکھ سکیں ۔ چرچ کے کچھ راہنما اس بات پر بھی تنقید کرتے ہیں کہ ہم اپنے لائے ہوئے پھل کو پولیس کی نظر میں کیوں نہیں لاتے، جس کے نتیجے میں ہمیں سرکاری طور پر چرچ کی حیثیت سے شناخت مل سکتی ہے ۔ تاہم ہم سرکاری طور پر شناخت کے بارے میں فکر مند نہیں ہیں۔  ہماری توجہ کا مرکز نئے ایمانداروں کو ایک جسم کی صورت میں ایمان میں مضبوط کرنا ہے تاکہ وہ ایسا چرچ بن جائیں جو ہمیں نئے عہد نامے میں نظر آتا ہے۔ اُن چرچز کی کوئی سرکاری شناخت نہیں تھی، لیکن وہ تعداد میں بائبلی اصولوں کے مطابق بڑھتے چلے گئے یہ ہی ہمارا نصب العین ہے ۔

دو پٹڑیوں کے اس نمونے کے تین کلیدی عناصر ہیں :

1۔ تربیت کے ذریعے چھانٹی کر کے محتاط انداز میں منتخب  کئے گئے لوگوں کا ایک چھوٹا گروہ ۔

2۔ ان افراد کی تربیت اور نشوونما کے لئے ابتدا ہی سے  چرچ کے ساتھ شرائط و ضوابط طے کر لینا تاکہ چرچ نئے انداز کی منادی اور خدمت میں مداخلت نہ کرے ۔

3۔ ایسے لوگوں کی مسلسل تربیت اور تعاون جو مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں میں خدمت اور منادی کے لئے داخل ہوتے ہیں ۔

Categories
حرکات کے بارے میں

ہتھیار ڈالنے والے :مشرق وسطی ٰمیں تحریکیں نئی تحریکوں کی ابتداکر رہی ہیں ۔

ہتھیار ڈالنے والے :مشرق وسطی ٰمیں تحریکیں نئی تحریکوں کی ابتداکر رہی ہیں ۔

– "ہیرلڈ” اور ولیم جے ڈبیوس 

جب مجھے میرے فون پر ایک خفیہ پیغام موصول ہوا تو میں اُس کے سادہ اور جرات مندانہ انداز پر حیران رہ گیا۔ اور ساتھ ہی میرے دوست اور مشرق وسطیٰ میں میرے شراکت دار ” ہیرلڈ ” کے الفاظ نے میرے اندر شکرگزاری کے جذبات پیدا کر دیئے۔اگر چہ وہ ایک سابق امام، القاعدہ کا          دہشتگرد اور طالبان کا راہنما رہا ہے ، یسوع کی معافی کی قوت سے اُس کا کردار کُلی طور پر تبدیل ہو گیا ہے۔  میں اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی کے معاملے میں ہیرلڈ پر مکمل اعتماد کر سکتا ہوں ، اور میں ایسا کر بھی چکا ہوں ۔ہم مشترکہ طور پر دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں گھریلو چرچز کی تحریک کے ایک  نیٹ ورک کی قیادت کر رہے ہیں ،جسے انطاکیہ کے خاندان کے چرچ کہا جاتا ہے۔ 

اُس سے دو دن قبل میں نے ہیرلڈ کو ایک پیغام بھیجا تھا جس میں مَیں نے پوچھا تھا کہ کیاسابقہ مسلمان اور اب مسیح کے پیچھے چلنے والے بہن  اور بھائی جو عراق میں رہ رہے ہیں اُن میں  سے کوئی یذیدیوں کی مدد کرنے کے لئے تیار ہو گا یا نہیں۔ اُس نے جواب دیا :

” میرے بھائی، خُدا پہلے ہی کئی مہینوں سے اس بارے میں ہم سے بات کر رہا ہے ۔ اور اُس کا حکم عبرانیوں 3: 13 کی بنیاد پر ہے: ” اور جن کے ساتھ بد سلوکی کی جاتی ہے اُن کو بھی یہ سمجھ کر یاد رکھو کہ ہم بھی جسم رکھتے ہیں ” ۔کیا آپ ایذارسانی کی شکار مسیحی اور یزیدی اقلیتوں کو ISIS سے بچانے کے لئے ہمارے ساتھ کھڑے ہونے کے لئے  تیار ہیں ؟ "

میں اس کا کیا جواب دے سکتا تھا؟  گذشتہ کئی سالوں سے ہماری دوستی ایک مضبوط عہد میں بندھ گئی تھی کہ ہم مل کر یسوع کے ساتھ ایک ہی راستے پر چلیں گے اور ارشادِاعظم  کی تکمیل کے لئے مل کر  کام کریں گے۔ ہم مل کر ایسے راہنماؤں کی تربیت پورے جوش وجذبہ سے کر رہے تھے جو خود کو مسیح کے حوالے کر کے مزید شاگردوں کی افزائش کریں اور پھر قوموں تک اُس کی محبت کا پیغام لے کر جائیں ۔ اب ہیرلڈمجھے ایک اور بڑا قدم اٹھانے کو کہہ رہا تھا کہ میں لوگوں کو گناہ کی غلامی اور ISIS کے خوفناک جرائم سے بچانے میں اُس کی مدد کروں میں نے جواب دیا : ” ہاں میرےبھائی میں تیار ہوں۔ اب دیکھتے ہیں  کہ خُدا کیا کرتا ہے ”   

چند ہی گھنٹوں میں مشرق وسطیٰ میں چرچز قائم کرنے والی تربیت یافتہ اور تجربہ کار ٹیمیں تیار ہو گئیں جو اپنی اپنی کام کی جگہ چھوڑ کر ISIS سےلوگوں کو نجات دلانے کے  لئے سب کچھ کرنے کے لئے  رضا مند تھیں ۔ یہ جان کر ہمارے دلوں میں ایک دائمی تبدیلی آ گئی۔

 خُدا ہم سے پہلے ہی یہ کام کر رہا تھا! ISIS کی درندگی اور ظلم کا شکار ہونے والے یزیدی ہمارے زیر زمین خفیہ مقامات تک پہنچنے لگے تھے۔ ان مقامات کوہم ” کمیونٹی آف ہوپ رفیوجی کیمپس” کہتے ہیں ۔ ہم نے مفت طبی امداد، ذہنی صدمے سے نکالنے کے لئے مشاورت، تازہ اور صاف پانی ، پناہ گاہ اور تحفظ فراہم کرنے کے لئے مقامی مسیحیوں کی ٹیمیں متحرک کر دیں۔ یہ گھریلو چرچز کے مسیحی پیروکاروں کی ایک تحریک تھی جو اپنے ایمان کا عملی اظہار کر کے دوسرے لوگوں کو متاثر کر رہے تھے ۔ 

ہم نے یہ بھی جانا کہ اُن ٹیموں کے بہترین کارکن قریبی گھریلو چرچز سے تعلق رکھتے تھے ۔ وہ زبان اور تہذیب سے واقف تھے اور اُن کے دلوں  میں انجیل کی منادی اور چرچز قائم کرنے کا جذبہ تھا۔ دیگر NGOs جو حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ تھیں اُنہیں ایمان کے پیغامات دینے کی اجازت نہیں تھی ۔ لیکن مقامی چرچز کی جانب سے غیر رسمی کاوشیں دعاؤں ، کلام پڑھنے ، شفا دینے ،محبت اور دیکھ بھال سے بھرپور تھیں ! اورچونکہ ہماری ٹیم کے راہنماؤں کو یسوع کی جانب سے عظیم معافی کا فضل مل چکا تھا ۔ تو اُن کی زندگیاں خود کو یسوع کے حوالے کر دینے اور بے انتہا جرات کے جذبے سے  عملی طور پر بھرپور تھیں ۔

جلد ہی ہمیں خطوط موصول ہونے لگے :

میرا تعلق ایک یزیدی خاندان سے ہے ۔ایک طویل عرصے سے جاری جنگ نے میرے ملک کے حالات بہت خراب کر دیئے ہیں۔ لیکن اب ISIS کی وجہ سے یہ حالات مزید بگڑ گئے ہیں ۔

گذشتہ ماہ اُنہوں نے ہمارے گاؤں پر حملہ کیا ۔انہوں  نے بہت سے لوگوں کو قتل کر دیا اور مجھے کچھ اور لڑکیو ں سمیت اغوا کر لیا ۔ان میں سے بہت سو ں نے میری آبرو ریزی کی میرے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا ۔ حکم نہ ماننے پر مجھے کئی مرتبہ مارا پیٹا گیا۔ میں نے اُن سے التجائیں کیں، ” خُدا کے لئے میرے ساتھ یہ نہ کرو،” لیکن وہ ہنس کر یہ کہتے ” تم ہماری غلام ہو ۔” انہوں نے بہت سے لوگوں پر میرے سامنے تشدد کیا اور بہت سو ں کو قتل بھی کیا ۔

 ایک روز وہ مجھے فروخت کرنے کے لئے کسی دوسری جگہ لے گئے۔میرے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔  اور جب میں اپنے خریدنے والوں کے ساتھ چلی تو میں چیخ چیخ کر رو رہی تھی۔  30 منٹ کے بعد   خرید ار نے کہا، ”  میری عزیز بہن، خُدا نے  ہمیں یزیدی لڑکیوں کو ان بدکردار لوگوں سے بچانے کے لئے بھیجا ہے۔ تب میں نے دیکھا کہ انہوں نے 18 لڑکیوں کو خریدا تھا ۔

جب ہم کمیونٹی آف ہوپ کیمپ پہنچے تو ہم سمجھ گئے کہ خُدا نے ہمیں بچانے کے لئے اپنے لوگوں کو بھیجا تھا۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ ان آدمیوں کی بیویوں نے اپنے سونے کے زیورات بیچ کر ہمیں چھڑانے کی قیمت ادا کی تھی۔ اب ہم محفوظ ہیں ، خدا کے بارے میں جان رہے ہیں اور ایک اچھی زندگی گزار رہے ہیں ۔ 

( ہمارے کمیونٹی آف ہوپ رفیوجی کیمپ  کے ایک لیڈر کی جانب سے ایک خط )

 کئی یزیدی خاندانوں نے یسوع مسیح میں ایمان کو قبول کر لیا ہے اور وہ ہمارے راہنماؤں کے ساتھ مل کر اپنے لوگوں کے لئے کام اور خدمت انجام دینا چاہتے ہیں ۔ یہ بہت اچھی بات ہے کیونکہ وہ انہیں اپنے تہذیبی اصولوں اور طریقوں کے مطابق ایمان  کا پیغام دے سکتے ہیں ۔ آج مسیح کے پیروکار متاثرہ لوگوں کے لئے دعاؤں میں مصروف ہیں کہ خُدا  اُن کی ضروریات پوری کرے اور انہیں مسلم انتہا پسندوں سے محفوظ رکھے۔  براہ ِکرم ہمارے ساتھ دعا میں شامِل ہوں  ۔

 ایک معجزے کا آغاز ہو چکا تھا ۔آس پاس کی قوموں میں سے خود کو مسیح کے حوالے کر دینے والوں کی ایک تحریک شروع ہو چکی تھی۔ یہ لوگ جو اس سے قبل اسلام میں پھنسے ہوئے تھے ،انہیں اُن کے اپنے گناہ سے نجات مل چکی تھی اور اب وہ اپنے منجی یسوع کے لئے زندگیاں گزار رہے تھے۔ وہ دوسروں کو بچانے کے لئے  اپنی جانیں قربان کر رہے تھے ۔ اب یزیدیوں کے درمیان مسیح کے پیروکاروں کی ایک دوسری  تحریک کا آغاز ہو چکا ہے۔

 یہ سب کیسے ممکن ہوا ؟ ڈی ایل موڈی کے الفاظ کے مطابق : ” دنیا نے ابھی تک نہیں دیکھا کہ خُدا ایسے شخص کے ساتھ مل کر کیا کچھ کر سکتا ہے جو اپنے آپ کو پوری طرح اُس کے حوالے کر دے ۔ خُدا کی مدد کے ساتھ میں ایک ایسا شخص بننے کا مقصد رکھتا ہوں ۔”

Categories
حرکات کے بارے میں

مسلمانوں کے درمیان تحاریک کا آغاز: بہترین طریقہ ہائے کارکی کیس سٹڈی – انطاکیہ کے خاندان کے چرچ

مسلمانوں کے درمیان تحاریک کا آغاز: بہترین طریقہ ہائے کارکی کیس سٹڈی – انطاکیہ کے خاندان کے چرچ

– ولیم جے ڈبیوس –

میرا نام ولیم جے ڈبیوس ہے اور میں انطاکیہ کے خاندان کے چرچز کا شریک راہنما ہوں ،جو مقامی چرچز کی تخم کاری کی تحریکوں کا ایک عالمگیر اتحاد ہے۔ گذشتہ 30 سالوں میں ہم نے پہلی نسل کے ایسے مسیحیوں میں قائدین کی تعمیر پر توجہ مرکوز رکھی ہے  جن کا تعلق اُن ممالک سے ہے  جہاں رسائی مشکل ہے ۔  ہم انہیں ایسے علاقو ں میں گھریلو چرچز کی افزائش کی تربیت میں مدد دیتے ہیں۔میرا آج کا موضوع مسلمانوں  میں چرچز کی تحریکوں کا آغاز ہے ۔

ہمارے گزشتہ بیس سال کے کام کے دوران ہماری کوششیں اکثر بے سمتی ، غلطیوں، اور ناکامیوں کا شکار رہی ہیں ۔تاہم اپنی زندگی میں ایک ذاتی بحران سے گذرنے کے بعد میں نے کچھ ایسا سیکھا ،جس سے ہم کامیابی کے راستے پر گامزن ہو گئے ۔ 2004 میں میں زیر زمین ایرانی گھریلوچرچ کے راہنماؤں کو تیمتھیس کے دوسرے باب کی تعلیم دے رہا تھا۔ اس تربیت کے مکمل ہونے کے بعد مجھے القاعدہ  کے ایک ایجنٹ نے زہر دے دیا اور میں قریب المرگ ہو گیا۔ بہت سے لوگ میرے لئے دعائیں کر رہے تھے اور ڈھائی مہینوں تک ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کے چکر لگانے کے بعد میں معجزاتی طورپر صحت یاب ہو گیا ۔ میں اس کے لئے خُدا کا بہت شکر گزار ہوں !

لیکن اس کہانی کا سب سے متاثر کُن پہلو بعد میں سامنے آیا۔ دراصل کئی سال کےبعد ،مَیں افغانستان، عراق اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے چرچز کی تخم کاری کے راہنماؤں کی تربیت کی میزبانی میں شریک تھا۔ تربیت کے ابتدائی مرحلے میں ہم ایک دوسرے کو  اپنا تعارف کروا رہے تھے ۔ تب مجھے پتہ چلا کی چرچز کی بنیاد رکھنے والوں میں وہ شخص بھی تھا  جس نے مجھے زہر دیا تھا ۔ 

اُس لمحے میری سمجھ میں آنے لگا کہ تحریکوں کی افزائش کو محض بین التہذیبی زبانیں اور تہذیب اور ثقافت کو سمجھنے کی اہلیت رکھنے سے بڑھ کر بھی کچھ چاہیے ہوتا ہے ۔ نئے جنم کی قوت ملنے کا آغاز لوگوں کی روحوں کو جاننے سے ہوتا ہے اور خاص طور پر اس معاملے میں ایسے لوگوں کو گہرائی میں جاننے سے، جو برائی اور شیطان کی راہ پر چل نکلے ہوں ۔خدا نے مجھے لوگوں کے دلوں کو سمجھنے کے سفر پر ڈال دیا جس سے میں یہ جاننے کے قابل ہونے لگا کہ مسلمانوں میں تحاریک کا آغاز کرنے کے لئے کیا درکار ہو گا ۔

آج انطاکیہ کے خاندان کے چرچ 157 ملکوں میں 1225 تحریکوں میں سر گرم ہیں اور 748 زبانیں  بولنے والے لوگوں تک رسائی حاصل کر چکے ہیں ۔ان علاقوں میں 23 لاکھ گھریلوچرچز ہیں جن کے بالغ ممبران کی تعداد 4 کروڑ 20 لاکھ ہے۔ خُدا نے جو کُچھ ہم میں اور ہمارے درمیان شروع کیا ، اُس کا آغاز غلط فیصلوں ،ٹوٹے ہوئے جذبوں اور غلط فہیموں کے ساتھ ہوا ۔لیکن خُدا نے اپنے فضل سے ہمیں ایسی  با اثر اور قوی صلاحیتیں  اور موثر اصول سیکھنے میں مدد دی جس کے ذریعے بے انتہاکامیابی حاصل ہو چکی ہے۔ 

ہماری توجہ تین ترجیحات پر مرکوز ہوتی ہے۔ سب سے پہلی یہ کہ لوگوں کو غلامی سے بچا کر بیٹے بننے کی طرف لایا جائے ۔ غلامی چاہے انسانی تجارت کی شکل میں ہو ،لیکن یہ ہر صورت میں گناہ کی غلامی ہوتی ہے۔ غلامی کی زندگی نسلی امتیاز،  تکلیفوں اور ٹوٹے ہوئے دل کے جذبات سے بھری ہوتی ہے ۔لیکن جب یہ لوگ یسوع مسیح کے ذریعے خُدا کے ساتھ ایک ذاتی رشتے میں جُڑ جاتے ہیں تو وہ زندہ خُدا کے بیٹے اور بیٹیاں اور اُس کے وارث بن جاتے ہیں ۔ سو نئے ایمانداروں کے ساتھ ہمارا رشتہ نسلوں کی بنیاد پر نہیں ہوتا ۔یہ ایک خاندان کی  صورت میں ہوتا ہے، کیو نکہ ہم انہیں مسیح میں بپتسمہ لینے کے بعد چرچ میں، اور پھر دنیا میں بپتسمہ لینے کو کہہ رہے ہوتے ہیں ۔ ہم کسی کو بھی منجی کو جان لینے سے پہلے اپنے دائرے میں شامل ہونے کو نہیں کہتے ۔ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ سب سے پہلے وہ ہمارے  منجی سے ملاقات کر لیں ۔ پھر ہم مل کر اس بات کا تعین کرتے ہیں  کہ اُن کی اپنی ثقافت میں چر چ کی ساخت کیا ہونی چاہیے ۔ سو سب سے پہلی ترجیح غلامی سے نجات  دلا کر بیٹے بنانے کی ہے ۔ 

 ہماری دوسری ترجیح لوگوں کو یہ اختیار دینا ہے کہ وہ دوسروں کو مسیحی کی جانب لا سکیں ۔آپ نے سلامتی  کے فرزند کی تلاش کی اصطلاح سن رکھی ہو گی ۔ہمارے طریقہ ِکار کے مطابق ہم سب سے  پہلے ایک بااثر مرد یا عورت کی تلاش کرتے ہیں ۔ اس طریقہ کار کو کرنیلیس کا نمونہ کہتے ہیں ۔ جس کا ذکر اعمال کی کتاب کے10 ویں باب میں ہے ۔ ہم خُدا سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ایسے لوگوں سے ملائے جو اپنے گاؤں  ،اپنے معاشرے یا اپنے ملک پر گہرا اثر و نفوذ رکھتے ہوں۔ ہم اُن تک انجیل کا پیغام لے کر جاتے ہیں ،جس کے بعد وہ اپنی پوری قوم یا سماجی رابطوں سے منسلک سب لوگوں میں  خوشخبری پھیلانے لگ جاتے ہیں ۔ اور پھر جس طرح پولس رسول نے ططس سے ہر چرچ میں پاسبان متعین کرنے کو کہا تھا ، ہم بھی اپنے ہر کرنیلیس کو یہ کہتے ہیں کہ وہ ہر گھریلو چرچ میں راہنما تیار کریں۔ اس طرح ہماری خدمت ایک سے دوسرے چرچ تک پھیلتی چلی جاتی ہے ۔یہ کسی تنظیم سے چر چ کا رابطہ نہیں ہوتا بلکہ ایک مقامی چرچ کسی دوسرے مقامی گھریلوچرچ کے ساتھ شراکت کر کے خُدا سے پوچھتا ہے کہ کیا کرنے کی ضرورت ہے، اورپھر دونوں مل کر وہ کام کرتے ہیں ۔ 

پھراس کے بعد ہماری تیسری ترجیح آتی ہے جو کہ  افزئش ہے۔ تیمتھیس 2:2 کے مطابق ہماری ذمہ داری ہے کہ جو باتیں ہم نے بہت سے گواہوں کے سامنے سُنی ہیں اُن کو ایسے دیانت دار آدمیوں کے سپُرد کریں جو اوروں کو بھی سِکھانے کے قابل ہوں۔ یہ تین نسلوں تک کی افزائش ہے۔ ہم نے یہ جان لیا ہے کہ اگر ہم راہنماؤں کی نسل در نسل افزائش کریں تو اُس کے ذریعے ہم تحریکوں کی افزائش کر سکتے ہیں۔ ہماری قیادت کی تربیت محض تعلیم کی بجائے فرمانبرداری پر مبنی ہوتی ہے ۔ میں آپ کو اس کی ایک مثال دوں گا۔ کئی سال پہلے ہم نے ایک بڑے شہر میں ایک نئی خدمت کا آغاز کیا  اور ہمیں ایک ایسا شخص ملا جو روحانی چیزوں میں دلچسپی رکھتا تھا ہمارے ایک کارکن نے اُس کے ساتھ بات چیت کا آغاز کیا اور جلد ہی وہ یسوع کے بارے میں پوچھنے لگا  ۔لیکن اُسے بادشاہی کا تصور گہرائی میں سمجھانے سے پہلے ہم نے اُس سے کہا کہ وہ اپنے پانچ دوست تلاش کر کے لائے۔ 

مقصد یہ نہیں تھا کہ اُن پانچ دوستوں کو گھریلو چرچ کی میٹنگ میں صرف شریک کر لیا جائے۔ بلکہ ہمارا مقصد یہ تھا کہ اُن میں سے ہر ایک کی راہنمائی  ہمارا یہ کرنیلیس کرے ۔پھر اُس کے بعد وہ  پانچ اس پیغام کو مزید پانچ  دوستوں کو سُناتے اور وہ پانچ اپنے مزید پانچ دوستوں کو یہ خوشخبری دیتے۔ سو ابتدا سے ہی ہماری خدمت افزائش کی بنیاد پر قائم تھی ۔

ان تین ترجیحات – نجات ، اختیار اور افزائش کے ذریعے، ہم نے یہ جانا کہ ہم اُن لوگوں سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں جو مسیح کی جانب آ رہے ہوتے ہیں۔ سو انہیں محض ایمان کے بیان سِکھانے کی بجائے ہم اُن سے بڑے موثر  سوالات پوچھنے سے ابتدا کرتےہیں ۔ جو تین سوالات ہم اُن سے پوچھتے ہیں وہ یہ ہیں ، ” کون روح کے لئے پیاسا ہے ؟ وہ روح کی تلاش کب کر رہے ہیں ؟ اور وہ روحانی طور پر کہاں متوجہ ہیں ؟” اس کے ذریعے ہم اُن لوگوں کے تہذیبی اور روحانی پس منظر اور صُورت ِ حال سے آگاہی حاصل کر تے ہیں جن کی ہم خدمت کرنا چاہتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ایسٹر کا موقع مسلمانوں کے لئے کوئی  مذہبی حیثیت یا تقدیس کا حامل نہیں ہے  کیو نکہ وہ ابھی تک مسیح کو جان نہیں سکے ہیں ۔ ہم نے یہ جانا کہ دراصل سا ل بھر میں رمضان کا مہینہ ایک ایسا اہم وقت ہے جب ہم مسلمانوں کو خوشخبری سُنا سکتے ہیں۔ کیوں ؟ کیو نکہ یہ وہ مہینہ ہوتا ہے جب وہ خُدا کو تلاش کر رہے ہوتے ہیں ۔ ماناکہ  وہ کوئی اور خُدا ہے کیو نکہ وہ یسوع مسیح خُدا کے بیٹے کو تلاش نہیں کر رہے ہوتے، تاہم وہ کسی  نہ کسی طرح سے ثواب کمانے کے خواہش مند ہوتے ہیں تاکہ خُدا انہیں قبول کرلے ۔ سو انہیں ایسٹر سے متعارف کروانے کے بجائے ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم اُن کے ساتھ چلیں، اُن کے روحانی  نظام الاوقات کو سمجھیں اور اُن کے لئے دعا کریں جو روح کی پیاس رکھتے ہیں۔ اس طرح ہم یہ جان جاتے ہیں کہ اُن کی پیاس کس کے لئے ہے اور اُن کی توجہ کا  مرکز کیا ہے۔ پھر روحانی گفتگو کے بعد ہم ایک کرنیلیس کی تلاش کرتے ہیں ۔ ہم اُس سے کہتے ہیں کہ وہ اپنے دوستوں کو تلاش کرے اورپھر اس طرح سے افزائش کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔

ہم اپنے راہنماؤں کو کلام یا کلیدی آیات کے ترجمے فراہم کرتے ہیں۔  اکثر ہم انہیں وائی فائی باکس بھی مہیا کرتے ہیں ۔  تاکہ وہ محض ایک بٹن دبا کر جیزس ( Jesus)فلم یا نئے عہد نامے کے کچھ حصے مخصوص زبانوں میں نشر سکیں   ۔اگر وہ قوم ابھی تک نارسا ہو تو ہم اپنی ٹیموں کو موبائل بیک پیک بھی دیتے ہیں تاکہ اگر وہ کسی گاؤں میں ہوں تو وہ ایک وقت میں لگ بھگ 300 سو لوگوں کو جیزس(Jesus) فلم دِکھا سکیں۔ اور اس کے ساتھ ہم انہیں لوگوں کے ساتھ روحانی گفتگو کرنے کے  آغاز کی بھی بہت زیادہ تربیت دیتے ہیں  تاکہ اُن لوگوں میں یہ خواہش ابھرے کہ وہ اُس خُدا کوجانیں جو انہیں نجات دے سکتا ہے ، انہیں  اختیار حاصل ہو اور پھر وہ اپنے اثر کی افزائش کر سکیں۔ اس طرح وہ خُدا، یسوع سے مل جاتے ہیں جو انہیں اُن کے گناہوں کی  معافی دینے پر قادر ہے۔

یہ سب کچھ کرتے ہوئے ہمیں یہ بھی پتا چلا کہ اگر ہم مل کر دعا کریں اور مناجات کے لئے ٹیمیں تشکیل دیں تو ایسے لمحات میں بھی بہت بہترین مواقع مل سکتے ہیں ۔ رمضان کے اختتام کے قریب رمضان کی 27 تاریخ کو ایک بہت خاص موقع ملتا ہے جسے شبِ قدر کہتے ہیں ۔       دنیا بھر کے مسلمانو ں کا ایمان ہے کہ اس ایک رات میں کی گئی دعائیں عام دنوں میں کی گئی دعاؤں سے  ہزاروں گنا زیادہ موثر ہوتی ہیں ۔   اُس رات میں وہ خُدا سے دعا کرتے ہیں کہ وہ خود کو اُن پر آشکار کرے۔وہ خُدا سے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں اور وہ اپنی خواہشوں اور ضروریات کے لئے بھی دعائیں کرتے ہیں۔ سو ہم اپنے لوگوں کو اُن لوگوں میں شامل ہونے کے لئے بھیجتے ہیں جو ایسے خدا کو تلاش کر رہے ہیں جسے وہ نہیں جانتے۔ اس طرح ہم انہیں اُس خُدا سے متعارف کرواتے ہیں جسے ہم واقعی جانتے ہیں ۔

19 مئی 2020 کو ایک ارب سے زیادہ مسلمان اپنے گھروں میں روزے رکھنے اور دعا کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے ۔سن 622 عیسوی کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ مسجدیں کرونا وائرس کی وجہ سے بند تھیں ۔ انہوں نے اُس شبِ قدر میں خُدا سے گناہوں کی معافی کے لئے خاص دعا کی۔ اُسی وقت 57 1ممالک میں 3کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ یسوع کے ماننےوالے، جو اُس سے پہلے مسلمان تھے، یہ آواز بلند کر کے دعا مانگنے لگے کہ واحد سچا زندہ خُدا نشانیوں، معجزوں، نبوتوں اور رویا کے ذریعے دنیا بھر کے مسلمانوں پر آشکار ہو۔ انہوں نے روح القدس کی قوت سے پہلی مرتبہ یہ دعا کی کہ مسلمان اُس رحم، محبت اور معافی کو سمجھ سکیں جو صرف یسوع مسیح میں ملتی ہے ۔اور معجزے کی اس رات میں خُدا نے ہماری دعائیں سُن لی ۔

جب ہم متفق ہو کر دعا کرنے کے لئے آسمانی تخت تک پہنچتے ہیں ہم یسوع کو اپنی ترجمانی کرنے کے لئے التجا کرتے ہیں –تو اس کے ذریعے ہمیں صحیح وقت اور صحیح مقام پر روحانی گفتگو کرنے کی اہلیت حاصل ہوتی ہے ۔ اس کے بعد ہم توقع کر سکتے ہیں کہ معجزے رونما ہونے لگیں گے۔میں آپ کو ایک واقعہ سُنانا چاہتا ہوں  جو اس سال رمضان کے مہینے میں پیش آیا ۔ ہم نے اُس دوران کئی گاؤں اور دیہات میں اپنی ٹیمیں بھیجیں اور خُدا سے دعا کی کہ وہ ہمارے لئے دروازوں اور دلوں کو کھولے۔ ایک ٹیم ایک ملک میں گئی ( میں معذرت چاہتا ہوں کہ سیکیورٹی کی  وجوہات کی بنا پر میں اُس ملک کی   تفصیلات سے آپ کو آگاہ نہیں کر سکتا ) اور وہاں وہ ایک ایسے گاؤں میں پہنچے جہاں  کسی نے انہیں قبول نہ کیا  ۔کسی نے اُن کے لئے دروازہ نہ کھولا اور  نہ ہی کسی نے انہیں مہمان بنایا ۔

دن کے اختتام تک ساری ٹیم کا حوصلہ بہت پست ہو چکا تھا ۔ وہ گاؤں سے باہر جا کر ایک درخت کے نیچے بیٹھے اور خود کو گرم رکھنے کے لئے آگ کا الاؤ روشن کر لیا ۔انہوں نے دعا کر کے خُدا سے یہ پوچھنا شروع کیا کہ انہیں اُس گاؤں میں کامیاب آغاز کرنے کے لئے کیا کچھ کرنا ہو گا ۔ پھر رات ڈھلی تو وہ سب سو گئے۔ کچھ دیر بعد وہ سب جاگ اُٹھے اور ایک راہنما نے ایک بھڑکتی ہوئی آگ اپنی جانب آتے دیکھی۔  ہوا یہ کہ 274 لوگ اپنے ہاتھوں میں مشعلیں تھامے اُن کی جانب آ رہے تھے ۔ پہلے تو ساری ٹیم خوف کا شکار ہو گئی۔ حتیٰ کہ  ایک نے کہا ،” دیکھو ہم تو دعا کر رہے تھے کہ ہمیں اس گاؤں میں جا کر یسوع کی خوشخبری دینے کا موقع ملے، پر اب پورا گاؤں ہی ہماری طرف آ رہا ہے !” 

اُن کے قریب پہنچ کر اُن 274 لوگوں میں سے ایک آگے بڑھا اور کہا ،” ہم نہیں جانتےتم کون لوگ ہو ، ہم نہیں جانتے کہ تم کہاں سے آئے ہو  اور آج جب تم ہمارے گاؤں میں آئے تو ہم نے اپنے گھروں کے دروازے تمہارے لئے نہیں کھولے ۔لیکن آج رات ہم سب نے ایک ہی خواب دیکھا ۔ اُس خواب میں ہمیں ایک فرشتہ نظر آیا جس نے ہم سے کہا ” یہ لوگ جو تمہارے گاؤں میں آئے ہیں ان کے پاس سچائی ہے ۔ جاؤ اور اُن سے پوچھو اور جو کچھ وہ کہیں و  ہی کرو”۔

یہ ہی وہ خاص لمحہ تھا :صحیح لوگوں کے ساتھ، صحیح وقت پر اور صحیح مقام پر روحانی گفتگو کا آغاز ہو ا ،اور رات ختم ہونے سے پہلے گاؤں کے تمام گھروں   سے آنے والے 274 سربراہوں نے اپنا مذہب چھوڑ کر ایمان قبول کر لیا اور یسوع کے ساتھ رشتہ جوڑ کر چلنے کا فیصلہ کیا ۔یہ ہوتی ہے دعا اور صحیح  مقام پر روحانی گفتگو کی طاقت ۔

آخر میں مَیں آپ کو مسلمانوں کے درمیان تحریکوں کے آغاز کے بارے میں ایک اور کہانی بھی  سُنانا چاہتا ہوں ۔اس کے پیچھے یہ تصور کار فرما ہے  کہ مسیحی کارکن یا مشنری  اس چیز کا ذمہ دار نہیں ہے کہ وہ چرچ قائم کرے ۔اُس کی ذمہ داری ایک کرنیلیس  کی تلاش کر کے اُسے مہارتوں سے آراستہ کرنا اور تربیت دینا ہے، جو خود اس کام کی افزائش کر سکے ۔کئی مہینے پہلے کچھ راہنما میرے پاس آئے اور کہنے لگے، "کچھ ایسے گاؤں ہیں جہاں تک ہم رسائی حاصل نہیں کر سکے اور عمومی طریقے استعمال کر کے ہم اُن تک کبھی رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے۔ سو ہم نے دعا کی اور ہم نے محسوس ہوا کہ روح القدس ہم سے کہہ رہا ہے کہ ایسی ٹیمیں مخصوص کر لیں جو صحرا کے پار جا کر اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام نارسا لوگ خوشخبری سُن لیں "۔

میرے اور آپ کے پاس موقع ہے کہ ہم مسلمانوں کے درمیان تحریکوں کا آغاز کریں ۔اس کی ابتدا اُن لوگوں کی تربیت سے ہوتی ہے جو اُس مقام اور اُس تہذیب سے قریب تر ہوں۔ ہم ایک کر نیلیس کی تلاش کرتے ہیں جسے ڈھونڈ کر ہم اُسے وقت اور تربیت دیتے ہیں ۔   پھر یہ شخص یہ سمجھنے میں ہماری مدد کرتا ہے کہ ہم کس طرح اُس کے دوستوں کو متحرک کر کےمزید دوستوں کو خوشخبری سُنا سکتے ہیں ۔ یہ مقام  مشرق وسطیٰ کے صحراؤں میں بھی ہو سکتا ہے، جہاں  اونٹوں پر بھی بیٹھ کر جانا پڑےگا۔ اگر ہم خود سامنےآنے کی بجائے مقامی چرچوں کو وہ اختیار دیں کہ وہ خُدا کی دی ہوئی ذمہ داریوں سے آگاہ ہو سکیں تو ہم ایسے برنباس بن جاتے ہیں جو اُن شاگردوں کو تعاون فراہم کرتے ہیں جو بھیجے جانے والے ہوتے ہیں۔ سو میں یہ کہوں گا کہ ہماری ذمہ داری لوگوں کو تربیت کے ذریعے  وسائل اور مہارتوں سے آراستہ کر کے اعتماد قائم کرنا ہے ۔ وہ راہنما متعین کریںگے اوردوسری قوموں میں  خوشخبری پھیلانے کے لئے  چرچز کی تخم کاری کر کے اُن کی افزائش کریں گے ۔ 

مختصراً یہ ،کہ  میرا خیال   ہے کہ مسلمانوں کے درمیان تحریکوں کا  آغاز اسی طرح سے  بہترین طور پر ہو سکتا ہے ۔سب سے پہلے اعمال کی کتاب کا ماحول  تخلیق کر کے اعمال  کی کتاب جیسی ابتدائی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے ۔ دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے درمیان تحریکوں کے آغاز کے لئے ہمیں اپنے بیانیے میں  ترمیم کرنی چاہیے  تاکہ روح القدس کی راہنمائی میں ہم صحیح لوگوں کو صحیح وقت اور صحیح مقام پر چھو سکیں ۔

اس کی بجائے کہ ہم لوگوں کو اپنے چرچ میں شامل ہونے پر زور دیں، ہمیں چاہیے کہ ہم انہیں یسوع مسیح میں بپتسمہ دے کر یہ دریافت کرنے کے لئے چھوڑ دیں کہ اُن کا اپنا چرچ کیسا ہونا چاہیے۔ ضرورت ہے کہ ہم  خُدا سے ایک کر نیلیس کے لئے دعا کریں جو کوئی بھی بااثر مرد یا عورت ہو سکتا ہے۔   پھر وہ  اپنے پہلے سے موجود بااثر تعلقات کو استعمال کر کے خُدا کی بادشاہی کی افزائش کرے۔ جب آپ مسلمانوں کے درمیان تحریکوں کے آغاز کا سوچیں تو میں چاہوں گا کہ آپ تربیت کے ذریعے مہارتیں فراہم کریں اور اعتماد کی فضا قائم کریں۔  ایک ہی چرچ ہو جو قریبی چرچوں کے ساتھ منسلک ہو تاکہ مل کر آپ نارسا اور غیر سرگرم قوموں تک پہنچیں اور یہ دیکھیں کہ ایک کرنیلیس آپ کے ساتھ مل کر کس طرح خُدا کی بادشاہی کی افزائش کرتا ہے ۔ خُدا کا فضل آپ پر ہو۔

Categories
حرکات کے بارے میں

عالمگیر وبا کے دوران خُدا کے کام

عالمگیر وبا کے دوران خُدا کے کام

– جان رالز 

وبا اور غیر یقینی صورت حال کے دوران بھی خُدا اپنا کام کر رہا ہے اُس کا روح دنیا بھر میں لوگوں کی زندگیوں میں متحرک ہے ۔

لوگ اپنے گھروں میں قید ہیں اور اکثر تنہا بھی ہوتے ہیں ۔اور اُن کے ذہنوں میں بہت سے سوالات ہوتے ہیں ۔ بہت سے لوگ جذباتی دباؤ کی وجہ سے سامنے آنے والے چلینجز کا جواب تلاش کر رہے ہیں ۔ ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کا ایک ذریعہ انٹر نیٹ بھی ہے۔گوگل پر سرچ کرنے والے، یو ٹیوب پر ویڈیو دیکھنے والے ، فیس بُک پر مختلف کمنٹس کرنے والے اور ایسی بہت سی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر آن لائن آنے والے لوگوں کی تعداد بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے ۔ فیس بُک استعمال کرنے والوں کی تعداد 2 بلین سے زیادہ ہے اور گوگل کے بعد دوسرا بڑ ا سرچ انجن یو ٹیوب ہے ( یو ٹیوب دراصل گوگل ہی کی ملکیت ہے)  سوشل میڈیا کے بڑھتےہوئے استعمال سے  سوشل میڈیا کے ذریعے خدمت اور شاگرد سازی  کے مواقع بھی بڑھ رہے ہیں ۔

خُدا واقعی تلاش کرنے والوں کے لئے  انجیل کے دروازے کھول رہا ہے ۔

ایک کے ساتھ بہت سے چلے آتے ہیں 

خُدا نےسوشل میڈیا پر منادی کے ایک اشتہار کے ذریعے ازیبدین کے ذریعے انجیل کا  دروازہ کھولا ۔اُس نے اشتہار کا جواب دیا اور وہ بیشارہ نامی ایک مقامی شاگرد ساز کے ساتھ منسلک ہو گیا۔ بیشارہ نے ایک سال قبل ایمان قبول کیا تھا اور وہ ہر سُننے والے کو بڑی گرم جوشی کے ساتھ اپنے ایمان میں شریک کرتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں 300 سے 400 کے قریب افراد ایمان کے دائرے میں آ گئے ہیں، جن کا تعلق ایمان کے 30 مختلف گروہوں سے ہے۔ اپنے ایمان کی وجہ سے بیشارہ کو بے حد ایذارسانی کا سامنا ہے ۔ لیکن اُس نے اپنا ہاتھ نہیں کھینچا اور آج کل وہ اذیبدین کی  شاگرد سازی کر رہا ہے تاکہ وہ خدمت کے کام کے لئے تیار ہو جائے ۔ 

آپ اکیلے نہیں ہیں ۔

ایشیا کے ایک علاقے میں کالج کے طلبا کے لئے خُدا نے جیزس فلم کے  ویڈیو کلپس کے ذریعے انجیل کا دروازہ کھولا ،جنہیں سوشل میڈیا پر ایک اشتہاری مہم میں استعمال کیا گیا تھا ۔ ایک طالب علم نے اشتہار کا جواب دیتے ہوئے کہا ” میرا خیال تھا کہ شاید اس وبا کے دوران صرف میں ہی خود کو اتنا تنہا محسوس کر رہا ہوں۔ اور پھر میں نے آپ مسیحیوں کے بارے میں اور ہمارے لئے آپ کی محبت کے بارے میں سُنا ” یہ طالب علم مسیح کی محبت کے بارے میں سُننے والا واحد فرد نہیں تھا ۔ ان اشتہارات کا جواب دے کر کم از کم 3 لوگوں نے مسیح کو قبول کر لیا ہے ۔ 

ایک اور اشتہاری مہم میں پوچھا گیا ،” آپ خُدا سے کس قسم کی دعا کی قبولیت کی درخواست کریں گے ؟”  سینکڑوں طلبا نے جواب میں مختلف دعائیں لکھیں مثلا "خُدایا مہربانی فرما کر مجھے معاف کر دے ” ،” خُدایا مجھے اُن چیزوں سے نجات دلا جو مجھے خوفزدہ کرتی ہیں ”  ” اے خُدا میری زندگی میں کسی ایسے کو لے آ جو مجھے سمجھتا ہو اور مجھ سے محبت کرتا ہو ” ” اے خُدا مجھے بتا کہ میں درست انتخابات کیسے کروں ” 

نارسا لوگ رسائی کے لئے نکل رہے ہیں 

 سوشل میڈیا کے ذریعے نارسا علاقوں میں بہت سے لوگوں کو یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے ساتھ منسلک ہو سکیں جنہیں انجیل کی خوشخبری سُنائی جاسکتی ہے ۔ مثال کے طور پر فیس بُک کے ایک منسٹری کے پیج نے جنوب مشرقی ایشیا کے ایک نارسا گروہ سے 1800 فالورز جمع کر لئے ۔مقامی مسیحی ایسے لوگوں کے ساتھ رابطے میں ہیں جو انجیل میں دلچسپی رکھتے ہیں اور کم ازکم ایک شخص کو پہلے ہی بپتسمہ دیا جا چکا ہے ۔

 یہ کوئی اتفاق نہیں ۔

خریدے گئے تشہیری مواد اور بنا ادائیگی کے پوسٹ کئے جانے والے  مواد کے ذریعے لوگ یسوع کے بارے میں سُن رہے ہیں ۔ 99.99 فیصد مسلم آبادی والے ایک ملک میں زرائع ابلاغ استعمال کرنے والی ایک ٹیم کو مندرجہ ذیل پیغام پہنچا کہ جس کے ذریعے وہ متلاشیوں کی تلاش کر سکتے ہیں : ” فیس بُک اور انسٹاگرام اور یو ٹیوب پر ہر جگہ مجھے یسوع کے بارے میں چیزیں نظر آتی ہیں ۔میرے خیال کے مطابق یہ کوئی اتفاق کی بات نہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ میں یسوع پر ایمان لا سکتا ہوں ۔ میں سوچتا ہوں کہ کیا ہی اچھا ہو اگر میں ایک معجزہ دیکھ سکوں ۔ 

غیر معمولی دور اور مہارتیں 

چرچ کی ابتدا سے ہی لوگ خوشخبری پھیلاتے رہے ہیں ہم پورے دن میں اپنے کام کی جگہ ، سکولوں اور دیگر جگہوں پر لوگوں سے میل جول کے دوران اپنے اندر موجود اُمید پھیلاتے رہتے ہیں ۔ انٹر نیٹ کی قوت اور وسعت استعمال کرنے کے ذریعے اب ہم اس قابل ہو گئے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی ہمیں 24 گھنٹے دور دراز کے علاقوں تک رسائی دیتی ہے۔ حتیٰ کہ جب ہم سو بھی رہے ہوں تو خُدا کا روح کام کر رہا ہوتا ہے اور اُن متلاشیوں کو ہماری جانب لا رہا ہوتا ہے جن کو ہم خُدا کے بیٹے یسوع مسیح کا پیغام دے سکتے ہیں۔

 ڈیجیٹل وسیلوں کے ذریعے رسائی  ہماری ذاتی مشنری زندگی کا متبادل تو نہیں لیکن وہ ہمیں مسیحی کارکنوں تک پہنچنے کا ایک نیا انداز پیش کرتی ہیں۔ یہ متلاشی ایسے لوگوں سے رابطے کر رہے ہیں جو اُن کے ساتھ آف لائن اور آن لائن دونوں طرح سے گفتگوشروع کر سکتے ہیں ،جس کے نتیجے میں ایک شاگرد بن سکتا ہے جو بعدازاں مزید شاگردوں کو تیارکرنے کے قابل ہوتا ہے ۔

یہ کوئی جادوئی گولی نہیں ۔

ڈیجیٹل طریقوں کے ذریعے رسائی کوئی جادو کی گولی نہیں ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم رقم ادا کر کے ایک اشتہار پوسٹ کریں اور اُس کے بعد یہ توقع رکھیں کہ ہزاروں لوگ نجات پائیں گے ۔ ڈیجیٹل  وسیلوں سے بہترین فوائد حاصل کرنے کے لئے بہت زیادہ غور و فکر تربیت اور حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے ۔لیکن وہ لوگ جو پہلے سے ہی اس شعبے میں کام کر رہے ہیں، وہ اس موثر مہارت کو استعمال کر کے خُدا کو جلال دے سکتے ہیں اور اُس کی بادشاہت کی پیش روی کا  سبب بن سکتے ہیں ۔

اگر آپ سماجی رابطوں   کی سائٹ اور زرائع ابلاغ کے ذریعے متلاشیوں کی تلاش کرنے کے بارے میں  تجسس رکھتے ہیں  تو بہت سی منسٹریاں موجود ہیں جو آپ کی تربیت کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے زرائع ابلاغ استعمال کرنے والے مسیحی کارکنوں کے لئےوسائل بھی فراہم کرتی ہیں۔ اُن میں سے چند یہ ہیں :

میڈیا ٹو موومنٹس

میڈیا ٹو موومنٹس شاگرد سازوں کی ٹیموں کو ایسی مہارتیں  فراہم کرتی ہیں جن کے ذریعے روحانی متلاشیوں کی شناخت کر کے، اُنہیں تیزرفتاری کے ساتھ شاگرد ساز بنانے کی تحریکیں شروع کی جا سکتی ہیں ۔یہ تنظیم اس سلسلے میں ابتدائی اقدامات کے لئے کوچنگ اور تربیت فراہم کرتی ہے 

www.Mediatomovments.org

کنگڈم ٹریننگ

یہ گروپ کئی سال سے ڈیجیٹل وسائل کے ذریعے رسائی میں مشغول ہے اور اس کام کی ابتدا کرنے والوں کو بہترین کورسز کے ذریعے معاونت فراہم کرتا ہے ۔ www.kingdom.training 

مشن میڈیا یو 

ایم ایم یو ایک ایسا آن لائن تربیتی پلیٹ فارم ہے جس میں کوچنگ کے ذریعے یسوع کے پیروکاروں کو موثر طور پر شاگرد سازی اور چرچز قائم کرنے کی تربیت دی جاتی ہے ۔یہ تربیت میڈیا کہانیوں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر مبنی ہے ۔ 

www.missionmediau.org/foundations-of-media-strategy

کوانا میڈیا 

یہ تنظیم ،مشنری ٹیموں اور چرچز کو اپنے اپنے تناظر میں متلاشیوں کی مدد دینے کی مہارت رکھتی ہے ۔ یہ تربیت، مواد کی تخلیق، اشتہاری مہمات کےانتظام اور تربیت کے ماہر ہیں ۔ یہ تنظیم ہفتہ واری بنیادوں پر میڈیا میں ایک پوڈ کاسٹ بھی چلاتی ہے:” کرسچن میڈیا مارکیٹنگ  ” www.Kavanahmedia.com

میڈیا ٹو موومنٹس، کنگڈم ٹریننگ اور مشن میڈیا یو کے اشتراک نے ایک ویڈیو ترتیب دی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ ٹیمیں کس مقصد کے لئے کام کر رہی ہیں۔ اس ویڈیو کا عنوان what is media out reach ہے اور یہ تعاون اور اشتراک کی ایک بہترین مثال پیش کرتی ہے ۔

جن گروپوں کا اوپر ذکر کیا گیا ہے اُن سب کی حکمت عملی ذہن میں ایک مقصد رکھ کر ترتیب دی جاتی ہے :شاگردوں کی افزائش در افزائش ۔تحقیق کی بنیاد پر تیار کئے گئے، تخلیقی اور تہذیبی اقدار سے مناسبت رکھنے والےمواد ، ویڈیو اور سوشل میڈیا کی پوسٹس  کو اگر مارکیٹنگ کی تزویراتی  حکمت عملیوں کے ساتھ استعمال جائے تو اس کے ذریعے لوگ کلام کے متلاشی بن کر اُس کا جواب دینے لگتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ ہم بنی اِشکار کی طرح(  1۔ تواریخ 32: 12 )زمانے کو سمجھیں اور تمام موثر وسائل استعمال کرتے ہوئے سب کو مسیح کی محبت قربانی اور معافی کے بارے میں بتائیں ۔

Categories
حرکات کے بارے میں

ہمیں اچھے کام روک دینے کی ضرورت کیوں ہے؟

ہمیں اچھے کام روک دینے کی ضرورت کیوں ہے؟

– سی اینڈرسن .

یہ بلاگ ابتدائی طور سی اینڈرسن کی بلاک سائٹ پر شائع ہوا –




تراش خراش سے چیزوں کی شکل وصورت بگڑتی ہے۔  عموما ہم تراش خراش کے بعد نظرآنے والی پہلی صورت پسند نہیں کرتے۔ تھائی لینڈ میں میرے گھر کے سامنے پھول دار جھاڑیاں ہیں ۔انہیں صحت مند رکھنے کے لئے کانٹ چھانٹ کر نا لازمی ہے۔ ہر دوسرے تیسرے مہینے، مَیں باہر جا کر شاخوں کی کانٹ چھانٹ کرتا ہوں ا۔یسی شاخوں کو کاٹ دینا مشکل ہوتا ہے جن پر ابھی تک پھول موجود ہوں ۔اگر ہم شاگرد سازی کی تحریکوں کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں تو بے کار کی سر گرمیوں کی کانٹ چھانٹ کر کے بارآور کاروائیوں میں سرمایہ کاری ضروری ہے ۔ گزشتہ چند مضامین میں میں نے ایسے رہنماؤں کی کلیدی صفات کا ذکر کیا ،جن پر خُدا بھروسہ کرتا ہے۔  اب میں اُن میں ایک اور صفت کا اضافہ کرنا چاہوں گا۔ 

 تحریکوں کے ایسے قائدین جنہیں خُدا  اپنے لئےاستعمال کرتا ہے ،وہ بے کار سر گرمیاں ترک  کرنےکے لئے تیار ہوتے ہیں ۔وہ اُن چیزوں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جو خُدا کی بادشاہی کا پھل لائیں۔ ہمیں خُدا کی نظر کی روشنی میں اور اپنے دلوں کو یسوع کی فرمانبرداری میں رکھ کر اپنے ہر کام کا محاسبہ کرتے ہوئے شاگردوں کی افزائش کرنی چاہیے ۔

ایسے رہنما ،جو غیر ضروری سر گرمیوں کو ترک کرنے سے انکار کرتے ہیں اور بارآور نہ ہونے والے پروگراموں کو جاری رکھنا چاہتے ہیں ،وہ ناکام ہو جاتے ہیں  ۔انہیں افزائش کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اچھے رہنما خود احتسابی  اور جائزہ کاری کرتے رہتے ہیں ۔ وہ” اچھی” چیزوں کی کانٹ چھانٹ کر کے "بہترین ” چیزوں کو وقت دینے کے لئے تیار ہوتے ہیں ۔ 

کیا آپ” اچھے” کام روک دینے  کے لئے تیار ہیں ؟

میرے زیرتربیت رہنما ؤںمیں سے ایک، اپنی سر گرمیاں جاری رکھنے اور مقاصد کے حصول کے لئے کوششیں کرتے رہے ۔پھر بھی انہوں نے تحریک کے مقاصد کے حصول کے لئے بہت کم کامیابی حاصل کی۔  جب ہم فون پر بات کرتے یا وہ تربیت کے لئے ہمارے ساتھ شریک ہوتے، تو یہ ن ایشیائی  نوجوان   بہت گرم جوش دکھائی دیتے ۔  اُن کی دعائیں  پُر اثر ہوتیں، اُن کے رخساروں پر آنسو بہہ رہے ہوتے اور مناجات کے وقت اُن کے منہ سے الفاظ کا دریا بہتا ۔ میں دیکھ سکتا تھا کہ وہ اس بات کے شدید متمنی تھے  کہ اُن کے لوگ خُدا کو جانیں ۔ اعمال کی کتاب پڑھتے ہوئے وہ تحریکوں کے اصولوں کو قبول کرتے تھے اور اُن کی   صداقت پر یقین رکھتے تھے۔  اُن بھائی کے ساتھ کام کرتے ہوئے کچھ سال گزرے تو اُن کا مسئلہ ہم پر واضح ہو گیا ۔ اُن کی ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے والد کے ساتھ بہت زیادہ مصروف رہتے تھے وہ بارآور شاگرد سازی کی سر گرمیوں پر توجہ مرکوز نہ کر سکتے تھے۔ 

ایک تربیتی سیشن کے بعد انہوں نے اپنے علاقے میں لوگوں کو مل کر اُن کے ساتھ بائبل کی کہانیاں  پڑھنے کا ہدف متعین کیا ۔اُس کے چند ہفتوں کے بعد ہماری بات چیت ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ اُس ہفتے کے دوران وہ پاسٹروں کی ایک کانفرنس، اپنے ایک کزن کی شادی ، اور اپنے والد کے لئے ضروری کام کرنے کی بھاگ دوڑ میں بہت مصروف رہے  اُن کے والد ایک بڑے چرچ کے پاسٹر تھے۔ ہم جب بھی ملتے وہ ہمیں ایسے کاموں کی تفصیلات بتاتے رہتے جنہوں نے انہیں مصروف رکھا ہوا تھا ۔ ہر مرتبہ ایسا ہی ہوتا تھا۔ وہ اپنی زندگی کے اُن کاموں کو چھوڑ کر جو وہ دوسروں کے لئے کرتے تھے ،شاگرد سازی پر توجہ مرکوز کرنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ میرے اس بھائی میں تحریک کا قائد بننے کی بے پناہ صلاحیت تھی ۔پھر بھی آج کئی سال گذرنے کے باوجود اُن کے پاس ایک چھوٹا سا چرچ ہے ۔ انہیں اچھے کام چھوڑ کر ایسے کام کرنے کی ضرورت تھی جو پھل لا سکیں اور یہ ایک ایسا کام تھا جس کے لئے وہ تیار نہ تھے ۔

"انگُور کا حقِیقی درخت مَیں ہُوں اور میرا باپ باغبان ہے۔ جو ڈالی مُجھ میں ہے اور پَھل نہیں لاتی اُسے وہ کاٹ ڈالتا ہے اور جو پَھل لاتی ہے اُسے چھانٹتا ہے تاکہ زِیادہ پَھل لائے۔" یوحنا2 -1: 15

بے کار سر گرمیوں کی کانٹ چھانٹ کریں 

کانٹ چھانٹ کا مطلب ہے کاٹ کر رکھ دینا ۔ہم قینچی اُٹھاتے ہیں اور شاخ کو کاٹ دیتے ہیں ۔ وہ شاخ زمین پر گر کر سوکھ جاتی ہے ۔ ہم اُسے باہر میدان میں یا کوڑے دان میں پھینک دیتے ہیں ۔

ایک شاگرد ساز ہوتے ہوئے آپ کیا کاٹنے کے لئے تیار ہیں ؟ یہ سوال خُدا سے پوچھا جانا چاہیے۔ اس کے آغاز کے لئے میں آپ کو اپنی زندگی سے چند مثالیں دیتا ہوں ایسی بہت سی چیزیں تھیں جنہیں  مجھے کا ٹ کر پھینکنا پڑا تاکہ میں دعا ، اپنے ہمسائیوں کی شاگرد سازی ،تحریکوں کے نئے رہنماؤں کی تربیت اور کھوئے ہوئے لوگوں کے لئے وقت نکال سکوں ۔

 ایسے تربیتی پروگرام جو شاگردوں کی افزائش در افزائش کا مقصد پورا نہیں کر رہے تھے اور شاگرد سازی کے میرے مقصد کوآگے بڑھانے میں ناکام تھے ۔ 

سکولوں میں ایسے موضوعات پر بات کرنا جو شاگرد سازی سے متعلق نہ تھے ۔

ایسی کانفرنسوں میں شرکت کرنا جن میں میری موجودگی ضروری نہ تھی اورمحض برائے نام تھی۔ 

ایسی تھکا دینے والی سر گرمیاں اور میٹینگز جو میری روح کو تر وتازہ نہ کر سکتی تھیں ۔

ہر خاندانی تقریب میں  لازمی شرکت ۔

یقینا ان سب چیزوں سے الگ ہونا بہت مشکل ہے ۔ کوئی بھی یہ نہیں سمجھ سکتا کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں ۔ جب آپ ایسا کریں تو آپ کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لوگوں سے یہ نہ کہیں،  ” میرے پاس آپ کے لئے وقت نہیں کیونکہ میں زیادہ بارآور چیزوں پر توجہ مرکوز کر رہا ہوں "! دانشمندی سے کام لیں اور ایسی چیزوں کا انتخاب کریں جن کے لئے خُدانے آپ کو بُلایا ہے۔ 

بارآور سر گرمیاں  بڑھائیں 

جب آپ غیر ضروری چیزوں کو چھوڑ دیتے ہیں توآپ  اپنی زندگی میں بار آور اور جدت پر مبنی سرگرمیوں کے لئے وقت نکال لیتے ہیں ۔ یقینا ہمیں ہر بار یہ پتہ نہیں ہوتا کہ کون سی چیز پھل لائے گی۔ خاص طور پر ایسے مواقع پر ہمیں اُن نئے خیالات اور نظریات پر عمل کر کے دیکھنا چاہیے جو خُدا ہمارے دلوں اور ذہنوںمیں ڈالتا ہے۔ ہو سکتا ہے  وہ پھل لائیں یا نہ لائیں ،مگر ہمیں تجربہ کر کے دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

کیا آپ کی زندگی میں رسائی کے نئے طریقوں پر تجربہ کرنے یا ایسے طریقے تخلیق کرنے کا وقت موجود ہے ؟

اس سے کہیں زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم یہ جانیں کہ کون سا کام  یاسر گرمی پھل لا رہی ہے ،اور ہم اپنی توانائی اور وقت اُسے دیں۔ اپنا وقت ،  مالی وسائل اور جسمانی توانائیاں ایسی سر گرمیوں کو دیں جو آپ کے لئے اور آپ سے ملتی جلتی صورت حال میں موجود دوسروں کے لئے  کامیاب ثابت ہو رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاگرد سازی کہ تحریکوں سے منسلک لوگوں  کی جماعت کا حصہ بننا اور اُن کی رفاقت اِنتہائی ضروری ہے ۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں ۔

اب میں چند ایسی سر گر میوں کا ذکر کرتا ہوں  جنہیں میں  اپنی زندگی میں وقت دینے کے لئے بہت کوشش کر رہا ہوں۔

 بھٹکے ہوؤں کے لئے خاص دعا (اپنے دن میں کچھ گھنٹے ، ایک مہینے میں کچھ دن روزے رکھنے اور دعا کرنے کے لئے مخصوص کر دینا )

اپنے زیر تربیت افراد کے ساتھ رسمی اور غیر رسمی گفتگو 

اپنے آس پڑوس میں دعائیہ چہل قدمی جس میں میں ملنے والوں کو رُک کر سلام کرتا اور اُن سے بات چیت کرتا ہوں 

آن لائن اور ذاتی سطح پر ڈسکوری بائبل سٹڈی 

میری ٹیم کے لئے قیادت کی افزائش کی تربیت 

اپنی ذاتی روحانی افزائش اور نشو ونما کے لئے جاری و ساری تربیت تاکہ شاگرد سازی کے تربیت کار کی حیثیت سے میری مہارتوں میں اضافہ ہو ۔

ان چیزوں پر عمل کا یہی وقت ہے ۔

اب آپ بتایئے کہ ایسی کو ن سی سر گرمیاں ہیں جنہیں آپ کو ترک کر دینے کی ضرورت ہے ،تاکہ آپ تحریکوں کا آغاز کر کے اُنہیں آگے بڑھانے میں کامیاب ہو سکیں ؟ 

آپ کے ذہن میں جو کچھ آئے اُسے تحریر کرتے جائیں۔ اگلے دو یا تین دن میں اُسے خُدا کے ساتھ مل کر ایسی چیزوں کو چھوڑ دینے کے امکانات پر سوچ وبچار کیجیے۔ آپ نے اس مضمون سے جو کچھ سیکھا اور اُس کے نتیجے میں  آپ جو کچھ بھی کرنا چاہتے ہیں، اُسے ڈی ایم ایم فرنٹیئر مشنز کے فیس بُک گروپ پر پوسٹ کیجیے یا ذیل میں کمنٹس کی صورت میں تحریر کیجیے  ۔

Categories
حرکات کے بارے میں

بھوج پوری سی پی ایم کے زریعے مزید تحاریک کا آغاز

بھوج پوری سی پی ایم کے زریعے مزید تحاریک کا آغاز

– وکٹر جان 

خُدا شمالی ہندوستان کے بھوج پوری زبان بولنے والوں میں حیرت انگیز طریقےسے کام کر رہا ہے جہاں سی پی ایم تحریکوں  نے 10 ملین سے زائد یسوع کے شاگردوں کو بپتسمہ دیا ہے ۔ اگر اس علاقے کی تاریخ کے پس منظر میں دیکھا جائے تو اس تحریک میں خُدا کا جلال کہیں زیادہ روشن دکھائی دیتا ہے ۔ ہندوستان کا بھوج پوری علاقہ کئی لحاظ سے زرخیز ہے –یہاں کی صرف مٹی ہی ذرخیز نہیں ۔بہت سے مذہبی رہنماؤں نے یہاں جنم لیا ۔ گوتم بدھ نے بھی اسی علاقے میں نروان حاصل کیا اور یہی اپنا پہلا وعظ دیا ۔یوگا اور جین مت کی ابتدا بھی یہی ہوئی ۔

بھوج پوری علاقے کو نہ صرف مسیحی بلکہ غیر مسیحی بھی تاریک علاقے کا نام دیتے ہیں ۔ نوبل انعام یافتہ وی۔ ایس۔ نائیپال نے مشرقی اتر پردیش کے سفر کے بعد ایک کتاب لکھی جس کا عنوان تھا” ایک تاریک علاقہ”۔ اُنہوں نے اس کتاب میں اس علاقے کی پس ماندگی اور بُرے حالات بیان کیے ہیں ۔

ماضی میں  اس علاقے سے انجیل کو بہت مزاحمت کا سامنا تھا کیو نکہ اسے ایک اجنبی کلام سمجھا جاتا تھا ۔ اس علاقے کو جدید مشنز کا قبرستان بھی کہا جاتا تھا۔ جب اجنبیت کا احساس جاتا رہا تو لوگوں نے خوشخبری قبول کرنا شروع کر دی ۔لیکن خُدا صرف بھوج پوری زبان بولنے والوں تک ہی رسائی نہیں چاہتا تھا ۔ جب خُدا نے ہمیں بھوج پوری گروہ کے علاوہ دیگر گروہوں تک رسائی کے لئے استعمال کرنا شروع کیا تو کچھ لوگوں نے پوچھا ،” آپ صرف بھوج پوری گروہوں تک رسائی کی حد تک محدود کیوں نہیں ہیں ؟ یہ ایک بہت بڑی آبادی ہے! 150 ملین کی تعداد واقعی کثیر تعداد ہے !آپ کام کی تکمیل تک صر ف یہی کیوں نہیں رہتے ؟”

"میرا پہلا جواب یہ تھا کہ انجیل کے کام کے پھیلاؤ کی نوعیت رسولوں کے کام کی نوعیت جیسی ہے ،اور وہ یہ  ہےکہ ایسے علاقوں کی تلاش کی جائے جہاں ابھی تک خوشخبری نے جڑیں نہیں پکڑیں ۔ ایسے مواقع تلاش کئے جائیں جن کے ذریعے اُن لوگوں کو یسوع کو متعارف کروایا جائے جو اُسے نہیں جانتے۔ دیگر لسانی گروہوں تک کام کے پھیلاؤ کی یہ ایک بڑی وجہ تھی ۔ 

دوسری وجہ یہ تھی کہ بہت سی زبانیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔ کون سی زبان کہاں ختم ہوتی ہے اور کہاں دوسری شروع ہوتی ہے ، اس کی کوئی مقررہ حد نہ تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ شادیوں اور تعلقات کے پھیلاؤ کے باعث ایمان دار ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ اور اس طرح جب تحریک سے منسلک لوگ بھی سفر کرتے رہے اور منتقل ہوتے رہے تو انجیل کی خوشخبری اُن کے ساتھ  وہاں جاتی رہی ۔

کچھ لوگ واپس آئے اور کہا” ہم  کسی دوسرے مقام پر خُدا کو کام کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں ۔ ہم اُس علاقے میں کام شروع کرنا چاہتے ہیں "ہم نے اُن سے کہا ” جاؤ اور شروع کرو!” سو وہ ایک سال کے بعد پھر واپس آئے اور کہا ” ہم نے 15 چرچز کی بنیاد وہاں رکھ دی ہے” ہم بہت حیران ہوئے اور خُدا کی تمجید کی کیونکہ یہ کوئی مالی وسائل استعمال کئے بغیر ہی ہو چکا تھا ۔ اس کے لئے کوئی ایجنڈا کوئی تیاری اور کوئی فنڈ بھی موجود نہیں تھے ۔جب انہوں نے پوچھا کہ اس کے بعد کیا کرنا ہے تو ہم نے اُن کے ساتھ مل کر نئے ایمانداروں کو خُدا کے کلام  میں پختہ کرنے کے لئے کام شروع کر دیا ۔

تیسرا یہ کہ ہم نے تربیتی مراکز کا آغاز کیا جس کے ذریعے ہمارے کام کو ارادی اور غیر ارادی دونوں طرح سے وسعت ملی۔ اِس میں ہمارے ارادوں سے زیادہ خُدا کے  ارادے کی قوت کار فرماتھی ۔اکثر قریبی علاقوں کے لسانی گروہوں کے لوگ آتے اور تربیت میں شمولیت کے بعد گھر جا کر اپنے لوگوں کے درمیان کام کا آغاز کر دیتے ۔

کام کو وسیع کرنے کی چوتھی وجہ اکثر لوگ ہمارے پاس آ کر کہتے ” ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔ کیا آپ  آ کر ہماری مدد کر سکتے ہیں ؟” ہم ہر ممکن حد تک ایسے لوگوں کی مدد اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ بھوج پوری علاقے سے آگے بڑھ کر آس پاس کے علاقوں تک رسائی میں یہ  کلیدی عناصر رہے ہیں ۔

ہم نے 1994 میں بھوج پوری میں کام کا آغاز کیا اور اُس کے بعد اس ترتیب کے ساتھ دیگر زبانوں تک پھیلاتےچلے گئے : اوادھی( 1999)  کزنز( 2002) بنگالی ( 2004) مگاہی ( 2006) پنجابی سندھی ہندی اور انگریزی ( شہری علاقوں میں ) اور ہریانوی ( 2008) ، اینگیکا( 2008) میتھیلی(2010)راجستانی (2015) 

ان تحریکوں کی قیادت مقامی طور پر ہوتی رہی اور ہم اُن کے ساتھ شراکت بڑھتےچلے گئے ہم نے حال ہی میں مشرقی بہار سے تعلق رکھنے والے پندرہ سے زائد اینگیکا رہنماؤں کو ایک جامع اور مربوط  منسٹری کی تربیت دینا شروع کی ۔ہمارا ارادہ ہے کہ آنے والے سالوں میں اینگیکا کے مختلف مقامات پر ایسے تین تربیتی مراکز قائم کر کے اینگیکا کے مقامی لوگوں میں سے مزید رہنما تیار کریں ۔ میتھیلی  زبان بولنے والوں کے درمیان کام کرنے والے ہمارے کلیدی شراکت دار بھی اینگیکاکے علاقے میں اپنے کام کو وسعت دے رہے ہیں ۔

وکٹر جان شمالی ہندوستان کے باشندے ہیں اور 15 سال تک ایک پاسٹر کی حثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ اُس کے بعد انہوں نے بھوج پوری لوگوں کے درمیان تحریک کے آغاز کے لئے ایک جامع اور مربوط حکمت عملی مرتب کرنا شروع کی ۔ 1990 کی دہائی کے ابتدائی سالوں سے وہ اس خیال کو عملی جامع پہنانے کے لئے متحرک ہیں اور بھوج پوری تحریک کو وسعت اور  مضبوطی دینے میں بہت بڑا کردار رکھتے ہیں ۔ 

Categories
حرکات کے بارے میں

کوریج منسٹریUUPG

کوریج منسٹریUUPG

– لیپاک لینٹر

گلوبل اسمبلی آف پاسٹرز فار فنشینگ دی ٹاسک کی ایک ویڈیو سے تدوین شُدہ ۔ –

گلوبل اسمبلی آف پاسٹرز فار فنشینگ دی ٹاسک کی ایک ویڈیو سے تدوین شُدہ ۔

میرا تعلق ناگا لینڈ سے ہے، جو ہندوستان کے شمال مشرقی حصے میں واقع ایک چھوٹی ریاست ہے ۔میں گُزشتہ 17 سال سے چرچز کی تخم کاری سے منسلک ہوں ۔آج مَیں راہنماؤں کی ایک کثیر تعداد کی ترجمانی کرتا ہوں جو 24:14 کے تصور سے متفق ہو کر اکٹھے ہوتے ہیں۔ فرقے  کے پس منظر اور مشن ایجنسیوں کی تفریق کے باوجود ہم   اِس تصور سے باہم متفق ہیں، اور کہتے ہیں ” آئیے یہ کام مکمل کریں ” ۔ 

آج میرے مُلک میں سب سے بڑی فصل تیار ہے : 1.5ارب کی آبادی جو دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ہم ابھی تک    615،000 دیہات اور 1،757  جماعتوں کی نشاندہی کر چُکے ہیں ۔اِن 1،757 جماعتوں میں سے 1،517 اُس فہرست میں شامل ہیں جن تک رسائی ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی ہے ۔ ہندوستان میں غیر سرگرم   نا رسا جماعتوں کی فہرست میں 688 گروہ شامل ہیں ۔ اِس مشکل ذمہ داری کو نظر میں رکھتے ہوئے ، ہمارے ہندوستان کے 24:14 کے خاندا ن نے دُعا کر کے اِس بات پر اتفاق کیا کہ ہم 31 دسمبر 2025 تک تمام قوموں تک انجیل کے پیغام کو پہنچانے کا کام ختم کر یں گے ،تا کہ کوئی بھی غیر سرگرم اور نار سا گروہ باقی نہ رہے ۔ سو ہمیں ایک بہت بڑی ذمہ داری درپیش ہے اور ہمیں ہنگامی اور فوری ضرورت کا احساس ہے ۔ 

لوگوں کی اتنی بڑی تعداد ہمیں پریشانی کا شکار کر سکتی تھی۔ لیکن ہم اُن سادہ طریقہ ہائے کار کو اپنانا چاہتے ہیں جو اِس مقصد کی تکمیل کے لیے بائبل نے ہمیں دئےہیں۔ ارشادِ اعظم ہر ایماندار کے لیے ہے   : پس تم جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ اور اُن کو باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام سے بپتسمہ دو  اور اُن کو یہ تعلیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جِس کا میں نے تُم کو حُکم دیا ۔ ارشادِ اعظم تمام ایمانداروں کے لیے تھا اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ تمام ایماندار کاہن ہیں ۔ پطرس اپنے پہلے خط کے دوسرے باب کی نویں آیت میں لکھتا ہے، "تم ایک برگزیدہ نسل ، شاہی کاہنوں کا فرقہ ہو "ہم اِس سے اتفاق کرتے ہیں۔ کاغذ کے ایک ٹکڑے پرلکھی ایک بات سمجھ کر نہیں،  بلکہ عملی طور پر   ۔ 

یہ ویسا ہی ہے جیسا یوحنا کے چوتھے باب میں یسوع کنوئیں پر سامری عورت سے مِلتا ہے اور اُسے بتاتا ہے کہ وہ کون ہے۔ اُس عورت کا ماضی بہت تاریک تھا :  پانچ شوہر تھےاور جِس چھٹے کے ساتھ تھی وہ اُس کا شوہر بھی نہیں تھا ۔  لیکن اُس نے یسوع کو قبول کیا اوراُس پر ایمان لائی ۔اور پھر وہ اپنا گھڑا چھوڑ کر شہر میں چلی گئی اور کہنے لگی : "آؤ ایک آدمی کو دیکھو جِس نے میرے سب کام مُجھے بتا دیئے ۔کیا ممکن ہے کہ مسیح یہی ہے ؟” اور پھر شہر کے سب لوگ  ایمان لے آئے ۔تو یہ عورت جو ابھی ابھی ایمان لائی تھی ،مسیح کی بیٹی بن گئی۔ اُسے کاہن کی حیثیت سے شناخت مِلی اور وہ فوری طور پر اپنی کہانت کی ذمہ داری پوری کرنے پر تیار ہو گئی۔ 

ہم بھی اپنے تمام ساتھی ایمانداروں کو متحرک کرنا چاہتے ہیں ،تا کہ وہ تمام قوموں تک انجیل کی منادی لے کر جانے والے کارکن بن جائیں۔ ہم ایک آسان منصوبے کے تحت اُن کی تربیت کر کے اُنہیں ایک نئے گاؤں میں داخل ہونے کے لیے ایک سادہ سا طریقہ سکھانا  چاہتے ہیں ۔یہ لوقا کے دسویں باب  کے مطابِق ہے جہاں یسوع دو دو کر کے ستر لوگوں کو بھیجتا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ 35 جوڑے مختلف مقامات تک جا رہے ہیں : جو دُعا کر کے خُدا سے سلامتی کا فرزند دینے کی التجا کرتے ہیں۔ ہم انہیں ایک سادہ سی مہارت سے آراستہ کرتے ہیں : کہ وہ لوگوں کو اپنی اور خُدا کی کہانی سُنانے کے قابل بن جائیں اور ہم اُنہیں شاگرد سازی اور چرچ تشکیل دینے کی سادہ سی تربیت  دیتے ہیں ۔ 

اِس کے لیے ہم اعمال کی کتاب   2:41-47 دیکھتے ہیں ۔ کلیسیاء کی حیثیت سے اولین ایماندار کیا کرتے تھے؟ سادہ سی بات ہے۔ وہ کہاں ملتے تھے؟ وہ اپنے گھروں میں ملتے تھے ۔ہم پورے نئے عہد نامے میں اِس کی مثالیں دیکھتے ہیں ۔ کُلسیوں کے نام خط کے چوتھے باب کی 15 ویں   آیت میں پولس لکھتا ہے : ” گھر کی کلیسیا کو سلام کہنا ”  پھر فلیمون کی گھر کی کلیسیا  کو بھی سلام کہتا ہے ۔اور رومیوں کے نام خط کے 16  ویں باب اور کرنتھیوں کے نا م پہلے خط کے 16 ویں    باب میں ہم اُن ایماندروں کے بارے میں پڑھتے ہیں جو گھروں میں ملتے تھے ۔گھروں میں اکٹھے ہونا اُن کے لیے معمول کی با ت تھی ۔ 

سو ہم ایمانداروں کوآسان راستہ دکھاتے ہیں اور سادہ مہارتوں سے آراستہ کرتے ہیں ۔ہم چاہتے ہیں کہ وہ یہ سیکھیں کہ ایک چرچ کا قیام کیسے کرنا ہے اور ایک کلیسیا کی حیثیت سے کیا کُچھ کرنا ہے۔ پھر وہ اپنے درمیان ہی سے ر ہنماؤں کا انتخاب کرتے ہیں ۔سو اِس طرح اُن کے پاس 5 مرحلوں پر مشتمل ایک سادہ منصوبہ ہوتا ہے :داخلہ، انجیل ، شاگردسازی ، چرچ کی تشکیل اور ر ہنماؤں کی تیاری ۔ ہم اپنے تمام ایمانداروں کو متحرک کر کے اُنہیں فصل کی کٹائی کے لیے بھیجنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر ایماندار انجیل کو اپنائے اور اپنی اور خُدا کی کہانی سُنانے کے قابل ہو ۔ہم اُن سے اُن کے دوستوں اور رشتہ داروں کی فہرست بنواتے ہیں، جِس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ   ایسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک  پہنچا جا سکے ،جنہوں نے کبھی انجیل کا پیغام نہیں سُنا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بازاروں  میں اور کاروبار اور روزمرہ کی سرگرمیوں کے دوران ہم سے ملتے رہتے ہیں۔  حتٰی کہ سماجی سرگرمیوں میں بھی ہم اُن میں سے بہت سوں سے مُلاقات کرتے ہیں ۔ 

سو ہم ہر ایماندار کو اِس کا اہل بناتے ہیں کہ وہ انجیل کو اپنائے اور اپنے خاندان اور دوستوں   کی فہرست مرتب کرے – اُسی طرح جیسے مرقس کے پانچویں   باب میں بدروح گرفتہ آدمی ہے۔ یسوع نے اُس شخص کو شفا دی تھی جِس نے اپنی آدھی سے زیادہ زندگی قبرستان میں گُزار دی تھی ۔جب گاؤں کے لوگوں نے یسوع کو وہ علاقہ چھوڑ دینے کو کہا تو یہ نیا ایماندار (جو اَب نئے لباس میں ملبوس اور ٹھیک ٹھاک ذہنی حالت میں تھا )یسوع کے پاس آیا، اور اُس سے التجا کرنے لگا : "مُجھے اپنے ساتھ لے جاؤ!” لیکن یسوع نے اُس کے برعکس کیا : اُسے اپنے ساتھ لے جانے کی بجائے اُس نے اُس نئے ایماندار کو ایک ذمہ داری دے دی ۔وہ نہ تو تعلیم یافتہ تھا اور نہ ہی اُس کا پس منظر مسیحی تھا ۔لیکن یسوع نے اُسے کھیت میں بھیج دیا اور اُس سے کہا : "اپنے لوگوں کے پاس اپنے گھر جا اور اُن کو  خبر دے کہ خُدا نے تیرے لیے کیسے بڑے کام کیے ۔”

تو اگر ہم تمام ایمانداروں کو تربیت دیں اور اُنہیں متحرک کریں، تو ہم اِس ذمہ داری کو پورا کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں ۔ جب ہم اِن نا رسا جماعتوں میں سرگرم ہوتے ہیں تو بہت سے لوگ پوچھتے ہیں "آپ کی کامیانی کا تعین کیسے کیا جا سکتا ہے ؟”انڈیا میں 24:14 کے خاندان کی حیثیت سے ،ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنی کامیابی کا تعین کریں ۔ ہم کسی بھی نا رسا قوم کو سرگرم تب ہی خیال کرتے ہیں جب تحریک کا آغاز ہو چُکا ہوتا ہے :یعنی چرچز کی 4 نسلوں کی تخم کاری ہو چُکی ہو تی ہے۔ یہ وہ چرچز ہوتےہیں جِس کی ر ہبری اُسی قوم کا ایک فرد ،یعنی ایک مقامی فرد کر رہا ہوتا ہے  ۔اور یہ چرچز مزید نئے چرچز کی تخم کاری کرتے چلے جاتے ہیں ۔اِس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مقامی طور پر اُنہیں اگلے گاؤں میں بھیج کر چرچز کی ایک نئی نسل کی بُنیاد  رکھی جائے۔ جب چرچز چوتھی نسل تک پہنچ جاتے ہیں تو اِس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اَب وہ با تسلسل انداز میں خود کو قائم رکھ سکتے ہیں۔ اِس طرح مقامی طور پر قیادت اور مقامی ملکیت کاتصور مستحکم ہوتا ہے، اور یوں نئے ایماندار دوسروں تک کلام لے کر جاتے ہیں۔ یہ ایسے صحت مند اور مستحکم چرچ ہوتے ہیں، جنہیں بیرونی امداد کی ضرورت نہیں ہوتی ، اور اپنا انتظام و انصرام بھی وہ خود ہی کرتے ہیں ۔وہ خود ہی اپنے ر ہنما منتخب کرتے ہیں اور دوسرے گاؤں تک کارکُنوں کو بھیجتے ہیں جہاں انجیل کی منادی کا آغازنہیں  ہوا ہو  تا۔جب چرچز کی چار نسلوں کا آغاز ہو جاتا ہے ، تو ہم کہتے ہیں کہ اِس جماعت میں سرگرمی شروع ہو چُکی ہے ۔ 

ضروری ہے کہ ایک تحریک باتسلسل اور خود مختار ہو۔ اگر ہم وقت سے پہلے کھیت سے نکل جائیں یا صرف دُعا کے لیے اور انجیل کی منادی کے لیے ایک یا دو کارکنوں کو بھیجیں تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اِس گروہ میں سرگرمی کا آغاز ہو چُکا ہے۔ اِس سے ہمارے ذہن میں مسیحی مزدور اور خادم کے الفاظ آتے ہیں  ۔کیا ہم اچھے خادم بن رہے ہیں ؟ کیا ہم نے کھیت کو وقت سے قبل تو نہیں چھوڑ دیا ؟اگر کلام کی بقا اُس علاقے میں خود مختاری سے ممکن نہ ہو تو  اِس کا مطلب  یہ ہے کہ ہم نے کھیت کو وقت سے پہلے چھوڑ دیا۔ اگر ہم یہ سمجھ  لیں کہ ایک یا دو مزدور بھیجنے سے ہم نے سرگرمی کی ابتدا کر دی ہے تو خدشہ ہوتا ہے کہ ہم  نے کُچھ لوگوں کو اُن کے حال پر اور بہت پیچھے چھوڑ دیا ہو ۔ لیکن چرچز کے با تسلسل ہونے اور چار نسلوں کی کامیابی کا تعین، چرچز کی تخم کاری کی تحریکوں کے اصولوں کے مطابق ہی کیا جا سکتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم اِن قوموں کے لیے اچھے خادم بنیں ۔ہم چاہتے ہیں کہ ہم اِن لوگوں سے خُدا کی بادشاہی میں آسمان پر مُلاقات کریں ۔مکاشفہ  7:9     میں مختلف  زبانیں بولنے والے لوگوں کا ذکر ہے  جو یسوع کی عبادت کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں ۔سو ہم کسی بھی جماعت کو پیچھے نہیں چھوڑنا چاہتے ۔ انڈیا میں   24:14 کی جماعت آپ سے درخواست کرتی ہے کہ آ پ سب انڈین چرچ کے لیے دُعا کریں۔ دُعا کریں کہ ہم سب انجیل کو اپنائیں اوراِس ذمہ داری کو پورا کرنے کے   اہل ثابت ہوں ۔ اِس ذمہ داری کی ہنگامی اور فوری نوعیت  اپنے ذہن میں رکھیں : 31 دسمبر 2025  تک ۔سو براہِ کرم ہمارے ساتھ دُعا میں شریک ہو جائیے   ،کہ ہم ہر ایماندار کو متحرک کریں  تا کہ وہ اُن غیر سر گرم، نا رسا لوگو ں تک انجیل کا پیغام لیکر پہنچیں۔ اور یہ بھی کہ ہم اِس مقصد کے لیے اچھے   خادم بنیں اور وقت سے پہلے کھیت کو چھوڑ کر اپنا کام ادھورا  نہ چھوڑ دیں۔ دُعا کریں کہ خُدا ہمیں ہر جگہ متحرک رکھنے کے لیے  وسائل عطا کرے ۔ 

ہم نے دیکھا ہے کہ جب ایک تحریک مستحکم ہو جاتی ہے تو اُس سے دوسری تحریکیں نکلتی ہیں۔ سو تحریکوں کے رہنماؤں کی حیثیت سے ہم چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ مزدورں کی تربیت کریں ۔تا کہ وہ مزید چرچز کی افزائش کریں ۔پھر ہم چاہتے ہیں کہ ہم اُنہیں بھیجیں اور وہ فصل کی کٹائی کریں ۔سو ہنگامی نوعیت کے اِس عظیم کام کے لیے دُعا کریں کہ ہندوستا ن کے تمام چرچ متحد ہو کر چلیں ۔دُعا کریں کہ آج کے دور میں ہم 24:14 کے تصور پر متفق ہو کر یہ کہیں ، ” آئیے مِل کر اِس کام کی تکمیل کریں !”۔

Categories
حرکات کے بارے میں

تحریک کی سوچ اپنانے کی جانب میرا سفر

تحریک کی سوچ اپنانے کی جانب میرا سفر

ڈگ لوقس

صدر، Team Expansion –

مجھے یاد ہے کہ 1978 میں، مَیں اپنے اُس وکیل کو    Team Expansion کے بارےمیں سمجھانےکی کوشش کر رہا تھا ،جو ہمیں رجسٹرڈ ہونے میں مدد  رہا  تھا۔ یہ آسان کام نہیں تھا ۔ ہم انفرادی سوچ رکھنے والے افراد کا ایک گروہ تھے جن کا مرکزِ نگاہ مختلف مقامات تھے۔ لیکن ہمارا یک مشترک نصب العین تھا : چرچ کی تخم کاری ۔

تقریبا 35 سال تک میں Team Expansion کے صدر کی حیثیت سے مشکل اور اُلجھن کا شکار رہا ۔ آخِر2013 میں مَیں نے مشنز کے لئے ایک مختلف حکمت عملی کے بارے میں سُنا اور مجھ پر سب کچھ واضح ہو گیا ۔ اب میں اپنے سفر میں پیچھے مُڑ کر دیکھتا ہوں، تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ مجھے اس حکمتِ عملی کو قبول کرنے میں اتنا وقت کیوں لگا  ۔یہ اس قدر مشکل کیوں تھا ؟ میں ذاتی طور پر اس تبدیلی سے کیسے گزرا ؟ اور اب ایک تنظیم کی حیثیت سے ہم ان حکمتِ  عملیوں کے اطلاق کی کوشش کیسے کر رہے ہیں ؟ 

پہلی بات یہ کہ تحریک کا تصور میرے لئے ایک دھندلا سا تصور تھا، جس کے لئے کوئی حقیقی حوالہ دستیاب نہیں تھا ۔  اور جو کچھ لوگ بتاتے تھے، وہ کچھ زیادہ ہی سادہ اور آسان لگتا تھا۔ یقینا اگر ہمیں صرف اعمال کی کتاب کے مطابق ہی زندگی جینا تھی تو ہمیں یہ سمجھنے کے لئے 19 صدیاں کیوں لگیں ؟  میں خود سے پوچھتا تھا : ” اگر واقعی ہزار سے زائد تحریکیں سر گرم ہیں جن میں لاکھوں، کروڑوں کی تعداد میں کارکن موجود ہیں ، تو وہ ہمیں نظر کیوں نہیں آتیں ؟ اور اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ان اعداد وشمار میں مبالغہ نہ ہو ؟ ” میں یہ بھی سوچتا تھا :” اگر ایشیا اور افریقہ سے آنے والی خبریں سچی ہیں ، اگر یہ سب اتنا آسان ہے ،تو پھر شمالی امریکہ اور یورپ میں یہ سب ممکن کیوں نہیں ہو رہا ؟”

اس کے ساتھ ساتھ میں خود کو یہ دلیل بھی دیتا تھا کہ ہمارا مرکز نگاہ ایک نیوکلیائی مرکزی گروپ رہا ہے : سَو لوگوں کا ایک گروپ جو کسی کرائے کی یا خریدی ہوئی عمارت میں اکٹھا ہوتا ہے۔ مجھے دی گئی تربیت کے مطابق چرچ ایک ایسی تنظیم تھا ،جس کا اپنا  عملہ ہو، اپنے چلائے جانے والے پروگرام ہوں  اور اُس کا ایک بجٹ ہو۔ کئی سال کی تربیت نے مجھے ایک ہی تصور کے لئے تیار کر رکھا تھا : چرچ کا ایک ” معیاری ” نمونہ۔ یہ تمام تصورات میرے ذہن میں اس حد تک  راسخ ہو چکے تھے کہ اس ٹھوس سانچے کو توڑنا مشکل تھا ۔

سو پھر مجھ میں اور میری تنظیم میں کیا تبدیلی آئی ؟ ذیل میں دیئے گئے عناصر نے نظریات کو تبدیل کیا : 

  1. ایک تجویز کنندہ :  ایک شخص جِس پر میں اس مقصد کا علمبردار ہونے کی حیثیت سے بھروسہ کرتا تھا ۔ وہ ہمارا ایگزیکٹووائس پریذیڈنٹ تھا ۔ ایرک میرا عُمربھر کا دوست ہے ۔میں کھوئے ہوؤں تک رسائی کے لئے اُس کے جذبے اور عزم کا احترام کرتا ہوں ۔ جب میں پیچھے مُڑ کر دیکھتا ہوں کہ اُس نے کیسے میری سوچ کو جیت لیا تو میں اُس کے چند ایسے کام بھی دیکھ سکتا ہوں جنہوں نے میری بہت مدد کی ۔
  2. صبر وتحمل – یہ تجویز کنندہ میری زبان بولتا تھا اور  مُجھے متاثر کرناجانتا تھا ۔ اُس نے مجھے لیکچر نہیں دیئے اور نہ ہی مجھ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ اُس نے مجھ سے اجازت چاہی کہ وہ ہماری تنظیم میں سے چند منتخب کارکنان کو تربیت دے ۔ہم نے اُس کی پیش کش بخوشی قبول کی ۔  اُس نے مجھے اس عمل میں شامل کرنے کے لئے کئی مرتبہ اُن تربیتی مجالس میں آنے کی دعوت دی۔ اُسے اپنا راستہ بناناآتا تھا ۔ یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ اگر میں اس نئے انداز کی تربیت   کی تائید اور حمایت نہ کرتا اور اُس میں اُن کارکنان کو خوش آمدید کہتا ؟ لیکن پھر بھی میں مزاحمت کرتا رہا۔ کئی مہینوں تک میں یہ سب کچھ دیکھتا اور سمجھنے کی کوشش کرتا رہا ۔لیکن میں خود سے پوچھتا رہا  آخِر    یہ سب ہے کیا ؟ 
  3. برداشت: اُس تجویز کنندہ نے کبھی میری جانب سے ہار نہیں مانی ۔اُسے پکا یقین تھا کہ اگر  تنظیم کا بانی اور CEO اس تبدیلی  کے حق میں ہو   گا  توہماری تنظیم تحریک کی سوچ آسانی سے اپنا لے گی ۔ میں کوئی ایسا CEOنہیں ہوں  جو تمام فیصلے خود ہی کرتا ہو۔لیکن وہ جانتا تھا کہCEOکی حمایت حاصل کرلینے کا فائدہ کیا ہے۔ وہ کبھی میری جانب سے مایوس نہیں ہوا ۔ مجھے یہ سب کچھ ایسا یاد ہے جیسے یہ کل ہی ہُوا ہو۔ ” تمہارا مطلب یہ ہے کہ یہ سب کچھ اتنی آسانی سے ہو جائے گا۔ یہ تعداد بڑھتی ہی چلی جائے گی ؟ یہ بس اتنی سی ہی بات نہیں ہو گی ” ۔اس کے جواب میں وہ بڑی نرم روی سے میرے ساتھ مل کر کیس سٹڈی کرتا  اور مجھے اصول سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ،تاکہ میں یہ تصور پوری طرح سے سمجھ جاؤں ۔
  4. کیس سٹڈیز : اُس نے مجھے مثالیں دِکھائیں۔ وہ ہمیشہ مجھے واقعات اور کہانیوں کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کرتا رہا – خاص طور پر ہمارے اپنے ہی شعبے سے۔ وہ جانتا تھا کہ اگر مجھے ابتدائی  کوششیں پھل لاتی ہوئی نظر آئیں، تو میں اس بارے میں بات کرنا شروع کر دوں گا ۔یہ CEOکے کردار کا ایک حصہ ہے کہ وہ اپنی تنظیم کی خدمت کی کہانیوں کے بہترین پہلو پیش کرے ۔ اس کے زریعے لوگوں کو اُس تنظیم کے موثر ہونے اور دیگر تنظیموں کو شراکت کے لئے تیار ہونے میں مدد ملتی ہے ۔

لیکن ان چار چیزوں کے باوجود مجھے وقت درکار تھا ۔مجھے اس پورے عمل کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے اُسے ہضم کرنا تھا ۔جیسے  پورے ہاتھی کو ایک ہی مرتبہ کھا جانے کی بجائے مجھے ایک وقت کا کھانا ،یا کبھی کبھی ایک نوالہ کھانا تھا۔ میں اپنے شہر لوئس ویل،  ریاست کینٹکی  میں چہل قدمی کے دوران دعا کرتا رہا اور آس پاس کےغیر ملکیوں کو ،جو وہاں رہتے اور کام کرتے تھے ، تربیتی مجالس میں شرکت کی دعوت دیتا رہا۔ میں  نے  اپنے روحانی خاندان میں شمولیت کے لئے دو خاندانوں کے ساتھ کام شروع کر دیا ۔ ہم ہفتے میں ایک بار ملتے اور ڈی ، بی ، ایس  کے نمونے پر سیکھنے اور   سکھانے کا عمل کرتے ( ان سادہ اور آسان طریقہ ہائے کار کے بارے میں www.zume . training کی ویب سائٹ سے مزید جانیں) ۔ان سادہ اور آسان اقدامات کے بعد کچھ گروپ پھلتے پھولتے رہے، جب کہ دوسرے ناکام نظر آنے لگے ۔جب میں نے خود ذاتی طور پر اس عمل کا تجربہ حاصل کرنا شروع کیا ،تو  دو    ہفتے کے دوران ہی میری سمجھ میں سب کچھ آ گیا ۔ 

اس عمل میں آگے بڑھتے ہوئے، میں خیالات کو یکجا کر کے اصولوں کی شکل دینے لگا ۔ میں یہ ایک دوست کے ساتھ مل کر کرتا رہا ، تاکہ ابتدا سے ہی افزائش کا عمل شروع ہو جائے ۔بعد میں یہ اصول ایک تربیتی ویب سائٹ کی صورت میں ڈھل گئے، جو نہ صرف میری ،بلکہ میرے جیسے اُن لوگوں کی ضروریات بھی   پوری کرنے لگی ،جو اِسی جیسے ایک سفر میں تھے ۔ جو کچھ میں سیکھتا رہا اُسے لکھتے رہنا میرے لئے ایک اچھی مشق ثابت ہوا ( یہ تمام موادwww.MoreDiciples.com  پر بلا قیمت دستیاب ہے)۔ اس ویب سائٹ پر کام کرتے ہوئے مجھے www.Zume.training کی ویب سائٹ پر آن لائن تربیتی مواد  کے استعمال  اور جانچ پڑتال کا اعزاز بھی حاصل ہوا ۔اس کورس سےاب  دنیا بھر میں درجنوں ممالک کے ہزاروں لوگ، کئی زبانوں میں تربیت حاصل کر رہے ہیں ۔

 ایک تنظیم کی حیثیت سے ہم نے متواتر تربیتیں دینا شروع کیں ۔خُدا کا شکر ہے کہ ہمارے بہت سے کارکنوں نے ذاتی اور ٹیم کی حیثیت سے سی پی ایم اور ڈی ایم ایم کے اصولوں کا اطلاق شروع کر دیا ۔آج ہمارے اندازے کے مطابق ہمارے  80 سے 90 فیصد  کارکُن ڈی ایم ایم کی حکمتِ عملیوں کو بنیادی اصولوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ تبدیلی کے اس سارے عمل کے دوران شاید صرف ایک ہی خاندان ہم سے الگ ہوا ۔یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے ۔ اس تبدیلی کے بعد اب ہم پہلے سے کہیں زیادہ موثر تنظیم بن چکے ہیں ۔عالمی وبا کے دوران بھی خُدا ہماری ٹیم کے ممبران کے ذریعے کا م کرتا رہا اور ہم 2400 سے زیادہ لوگوں کو بپتسمہ لینے کے لئے تربیت دے رہے ہیں۔ ہم 796 نئے گروپوں کی ابتدا کر رہے ہیں۔ اب اُن 50 سے زائد ممالک میں جہاں ہم خدمت کر رہے ہیں، 4000   سے زائد سرگرم گروپ موجود ہیں۔ 25000 سے زیادہ لوگ  خلوص اور ایمان کے ساتھ  عبادت  میں شامل ہوتے ہیں ۔ 

ہمیں حیرت ہے کہ شمالی امریکہ میں مزید  لوگ ان سادہ اور موثر اصولوں کا اطلاق کیوں نہیں کر رہے ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ مسیحی زندگی کو صرف اتوار کی صبح چرچ  کی عبادت شامل ہونے تک ہی محدود سمجھتے ہیں ،اور اسی کے عادی ہو گئے ہیں ۔ شاید ہماری زندگیاں کھیلوں اور تفریحی سرگرمیوں سے اس قدر بھری  ہوئی ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں  کہ ہمارے پاس ان سادہ افزائشی اصولوں پر عمل کرنے کا وقت ہی نہیں   ۔وجہ چاہے کچھ بھی رہی ہو، ضرورت اس بات کی ہے کہ سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں دعا کرنے والے سر گرم کارکنان کو متحرک کیا جائے ۔تاکہ ہمارے درمیان بھی وہ سب کچھ ہو جائے جو خُدا دنیا کے دیگر بہت سے حصوں میں کر رہا ہے ۔

تحریک کی سوچ کی جانب میرا سفر بہت سُست رفتار تھا ۔لیکن یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے ۔میں اُس تجویز کنندہ کا بہت شُکر گزار ہوں جس نے اس سارے سفر میں میری بڑی مدد کی۔ اور مَیں سب سے زیادہ  خُدا کا شکر گزار ہوں جس نے اُسے میری زندگی کے لئے صبر اور فضل عطا کیا  ۔میں توقع کرتا ہوں کہ دیگر ر ہنما اور تنظیمیں بھی ہمیں ایسی متاثر کن کہانیوں سے آگاہ کریں گی ۔ 

(1) اس طرح کے سوالات کے جوابات کے لئے ، ملاحظہ کریں ، مثال کے طور پر ، "
نقل و حرکت کی کہانی اور انجیل کے پھیلاؤ
،” "
اب بھی اس کے درمیانی عمر کی نقل و حرکت
” اور "
کس طرح کی نقل و حرکت شمار
.”

Categories
حرکات کے بارے میں

اہم شرائط کی تعریف

اہم شرائط کی تعریف

By سٹین پارک

نتیجہ اور عمل: جب جدید "سلطنت کی نقل و حرکت” 1990s میں ابھر کر سامنے آیا, اصطلاح "چرچ پودے لگانے کی نقل و حرکت” (کپمے) نظر آنے والے نتائج کی وضاحت کرنے کے لئے استعمال کیا گیا تھا results. یسوع نے اپنی کلیسیا کی تعمیر کا وعدہ کیا ، اور یہ کپمے اس کو شاندار طریقے سے دکھاتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے پیروکاروں کو اس کے نتیجے میں ایک مخصوص کردار تفویض کیا: سب کے شاگردوں کو بنانے کے لئے ethnē. ہمارا کام شاگرد بنانے کا عمل کرنا ہے عمل جس کی طرف سے حضرت عیسی علیہ السلام اپنی چرچ بناتا ہے. یہ عمل ، اچھی طرح سے کیا کر سکتے ہیں result

چرچ پودے لگانے نقل و حرکت.

24:14 حکمت عملی کی صرف ایک سیٹ پر توجہ مرکوز نہیں ہے. ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مختلف افراد ایک نقطہ نظر یا کسی دوسرے یا ایک مجموعہ کو ترجیح دیتے ہیں. ہم مختلف طریقوں کو سیکھنے اور استعمال کرنے کے لئے جاری رکھیں گے-فراہم کی ہے کہ وہ ریپرودوکانگ شاگردوں ، رہنماؤں اور گرجا گھروں کے نتیجے میں ثابت بائبل کی حکمت عملی کو ملازم.

جیسا کہ کپمے ، سب سے بہتر پریکٹس حکمت عملی اور حکمت عملی ریپرودوکانگ شاگردوں کو شناخت اور پر منظور کرنے کے لئے شروع کر دیا. خُدا نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو شاگرد بنانے کے کئی مجموعے کا استعمال کرتے ہوئے دکھایا ہے ۔ "حکمت عملی” یا عمل کپمے کے نتیجے میں ۔ ان میں شامل ہیں: شاگرد بنانے کی نقل و حرکت (DMM), چار کھیتوں, اور ٹرینرز کے لئے تربیت (T4T), اس کے ساتھ ساتھ بہت سے فلاح و بہبود انداگانوسلی تیار نقطہ نظر کی ایک قسم. ان نقطہ نظر کے قریب امتحان کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ: 1) سی پی ایم اصولوں یا حکمت عملی ہیں زیادہ تر ایک ہی; 2) یہ نقطہ نظر سب ریپرودوکانگ شاگردوں اور گرجا گھروں کی طرف سے پھل کر رہے ہیں; اور 3) تمام باہم حکمت عملی کے دوسرے سیٹ پر اثر انداز.

کلیدی تعریفیں:

سی پی ایم چرچ پودے لگانے کی تحریک (نتیجہ): شاگردوں کی ایک ضرب ، شاگرد بنانے اور رہنماؤں ترقی یافتہ رہنماؤں ، مقامی گرجا گھروں کے نتیجے میں (عام طور پر گھر کے گرجا گھروں) زیادہ گرجا گھروں کو پودے لگانے. یہ نئے شاگرد اور گرجا گھروں لوگوں کی روحانی اور جسمانی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایک قوم گروپ یا آبادی کے حصے کے ذریعے تیزی سے پھیل شروع. وہ اپنی کمیونٹیز کو تبدیل کرنا شروع کرتے ہیں مسیح کے نئے جسم بادشاہی اقدار باہر رہتا ہے. جب مسلسل ، ایک سے زیادہ سٹریم 4th نسل کی پنروتپادن ہوتی ہے ، چرچ پودے لگانے میں ایک پائیدار تحریک بننے کے لئے ایک حد سے تجاوز کر چکا ہے.

Dmm شاگرد تحریک بنانے (ایک سی پی ایم کی طرف ایک عمل): ایک دریافت گروپ شروع کرنے کے لئے ، ان کے خاندان یا اثر و رسوخ کو جمع کرے گا جو امن کے لوگوں کو تلاش کرنے کے لئے کھو ملوث شاگردوں پر توجہ مرکوز. یہ ایک آئنڈئکٹئو گروپ بائبل کے مطالعہ کے عمل مسیح کو تخلیق سے ، براہ راست اس کی کتاب کے ذریعے خدا کی طرف سے سیکھنا ہے. مسیح کی طرف سفر عام طور پر کئی ماہ لگتے ہیں ۔ اس عمل کے دوران ، طلباء کو یہ اطاعت کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ بائبل کی کہانیاں سیکھتے ہیں اور اشتراک کرتے ہیں. جب ممکن ہو ، وہ اپنے خاندان یا دوستوں کے ساتھ نئے ڈسکوری گروپ شروع کرتے ہیں ۔ اس ابتدائی مطالعہ کے عمل کے آخر میں, نئے مومنوں بپتسما رہے ہیں. وہ اس کے بعد کئی ماہ کی دریافت بائبل کے مطالعہ شروع کرتے ہیں (DBS) چرچ پودے لگانے والے مرحلے جس میں وہ چرچ میں قائم کی جاتی ہیں. یہ عمل ایک مسیح کے ساتھ ایک عزم میں دریافت گروپ ، نئے گرجا گھروں اور نئے رہنماؤں کے نتیجے میں اس نے عمل کو دوبارہ پیش کیا.

چار قطعات (سی پی ایم کی طرف ایک عمل): تصور کے 4 شعبوں میں حضرت عیسی علیہ السلام اور اس کے رہنماؤں نے خدا کی بادشاہی میں اضافہ کرنے کے لئے کیا تھا ، پانچ چیزوں کو فروغ دینے کے لئے ایک فریم ورک ہے: داخلہ ، انجیل ، شفاعت ، چرچ کی تشکیل ، اور قیادت. یہ نشان 1 سے دریافت کیا جا سکتا ہے ۔ یہ ایک نئے شعبوں میں داخل ہونے والے کسان کی مثال کے طور پر مندرجہ ذیل ہے, بونے بیج, دیکھ رہا ہے اگرچہ وہ نہیں جانتا کہ کس طرح ، اور جب وقت صحیح ہے ، کاٹنے اور ایک دوسرے کے ساتھ فصل بوندلانگ (مرقس 4:26-29). کسان یاد دہانی کے ساتھ کام کرتا ہے کہ یہ خدا ہے جو اضافہ دیتا ہے (1 کرنتھیوں 3:6-9). یسوع اور اس کے رہنماؤں کی طرح ، ہمیں ہر شعبے کے لئے منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے ، لیکن یہ خدا کی روح ہے جو ترقی کی وجہ سے ہے. 4 کھیتوں کو عام طور پر تربیت یافتہ ترتیب ہے ، لیکن مشق میں ، 5 حصوں کو ایک ساتھ ساتھ ہوتا ہے.

T4T (ایک سی پی ایم کی طرف ایک عمل): بڑھ کر اور تمام مومنوں کی تربیت تشہیر کو کھو دیا (خاص طور پر ان کے oikos

اثر و رسوخ کے دائرے میں) ، شاگرد نئے مومنوں ، چھوٹے گروپوں یا گرجا گھروں شروع ، رہنماؤں کی ترقی ، اور ان کے نئے شاگردوں

کو ان کے oبکی

کے ساتھ ایسا کرنے کے لئے تربیت دیں . شفاعت لفظ کی اطاعت اور دوسروں کی تعلیم کے طور پر بیان کیا جاتا ہے (اس وجہ سے, ٹرینرز). مقصد یہ ہے کہ ایمانداروں کی ہر نسل کو تربیت دینے کے لیے تربیت دی جائے ، جو تربیت تربیت دے سکتی ہے ، جو ٹرینرز تربیت دے سکتا ہے ۔ یہ ہر ہفتے چرواہا کے تین تہائی عمل کا استعمال کرتے ہوئے ٹرینرز-1) looking back اور خدا کی فرمانبرداری کا اندازہ کرنے کی طرف دیکھتے ہیں ، 2) اس کے کلام اور 3 سے حاصل کرنے کے لئے تلاش کر رہے ہیں ) آگے دیکھ کر زاہدانہ اہداف ترتیب اور دوسروں کو ان چیزوں کو کس طرح فراہم کرنے کی مشق. (یہ تین تہائی عمل بھی دوسرے نقطہ نظر میں استعمال کیا جا رہا ہے.)

تعریفیں:

1st Generation ChurchesThe first churches started in the focus group/community.
2nd Generation ChurchesChurches started by the 1st generation churches. (Note that this is not biological or age-related generations.)
3rd Generation ChurchesChurches started by 2nd generation churches.
Bi-VocationalSomeone who is in ministry while maintaining a full time job.
Church CircleA diagram for a church using basic symbols or letters from Acts 2:36-47 to define which elements of the church are being done and which need to be incorporated.
Discovery Bible Study (DBS) is the Process & Discovery Group (DG) is the PeopleA simple, transferable group learning process of inductive Bible study which leads to loving obedience and spiritual reproduction. God is the teacher and the Bible is the sole authority. A DBS can be done by pre-believers (to move them toward saving faith) or by believers (to mature their faith). A DG for pre-believers begins with finding a Person of Peace (Luke 10:6), who gathers his/her extended relational network. A DG is facilitated (not taught) by using some adaptation of seven questions:
1 - What are you thankful for?
2 - What are you struggling with / stressed by? After reading the new story:
3 - What does this teach us about God?
4 - What does this teach us about ourselves / people?
5 - What is God telling you to apply / obey?
6 - Is there some way we could apply this as a group?
7 - Who are you going to tell?
End VisionA short statement that is inspirational, clear, memorable, and concise, describing a clear long-term desired change resulting from the work of an organization or team.
Five-Fold GiftingFrom Ephesians 4:11 – Apostle, Prophet, Evangelist, Shepherd (Pastor), Teacher. APEs tend to be more pioneering, focusing on expanding the kingdom among new believers. STs tend to be more focused on depth and health of the disciples and churches, focusing on the same people over longer periods of time.
Generational MappingMultiple Church Circles linked generationally into streams to help determine the health of each church and the depth of generational growth in each stream.
Great Commission ChristianA Christian committed to seeing the Great Commission fulfilled.
Great Commission WorkerA person committed to investing their best time and effort in fulfilling the Great Commission.
Hub (CPM Training Hub):A physical location or network of workers in an area that trains and coaches Great Commission workers in practically implementing CPM practices and principles. The hub may also involve other aspects of missionary training.
CPM Training Phases (for Cross-Cultural
Catalyzing)
Phase 1 Equipping – A process (often at a CPM Hub) in the home culture of a team (or individual). Here they learn to live out CPM practices among at least one population group (majority or minority) in their context.

Phase 2 Equipping – A cross-cultural process among a UPG where a fruitful CPM team can mentor new workers for a year or more. There the new workers can see CPM principles in action among a group similar to the UPG on their hearts. They can also be mentored through general orientation (culture, government, national church, use of money, etc.), language learning, and establishing healthy habits in cross-cultural life and work.

Phase 3 Coaching – After Phase 2, an individual/team is coached while they seek to launch a CPM/DMM among an unserved population segment.

Phase 4 Multiplying – Once a CPM emerges in a population segment, rather than the outside catalyst(s) exiting, they help expand the movement to other unreached groups both near and far. At this stage, movements are multiplying movements.
IOI (Iron on Iron)An accountability session: meeting with leaders, reporting on what is happening, discussing obstacles, and solving problems together.
Legacy ChurchesA traditional church that meets in a building.
Majority WorldThe non-Western continents of the world, where most of the world’s population lives: Asia, Africa and South America.
MAWL
Movement Catalyst
Model, Assist, Watch, Launch. A model for leadership development.
Movement CatalystA person being used by God (or at least aiming) to catalyze a CPM/DMM.
OikosThe Greek word best translated “household.” Because households in the NT context were normally much larger than just a nuclear family, the term can well be applied as “extended family” or “circle of influence.” Scripture shows that most people come to faith in groups (oikos). When these groups respond and are discipled together, they become a church (as we see, for example, in Acts 16:15; 1 Cor. 16:19 and Col. 4:15). This biblical approach also makes sense numerically and sociologically.
Oikos MappingDiagram of a plan to reach family, friends, coworkers, neighbors with the Good News.
Oral LearnerSomeone who learns through stories and orality, may have little to no literacy skills.
Person of Peace (POP)/House of Peace (HOP)Luke 10 describes a person of peace. This is a person who receives the messenger and the message and opens their family/group/community to the message.
Regional 24:14 Facilitation TeamsTeams of CPM-oriented leaders serving in specific regions of the world, committed to implementing the 24:14 vision in their region. These regions roughly follow the United Nations geoscheme. However, as 24:14 is a grassroots effort, regional teams are forming organically and do not perfectly mirror the United Nations geoscheme.
StreamA multi-generational, connected chain of church plants.
SustainabilityThe capacity to endure. Sustainable methodologies allow a church or community to continue an activity for years to come without further outside assistance.
Unengaged UPG (UUPG)A subset of global UPGs; a UPG not yet engaged by a church planting team.
Unreached People Group (UPG)A sizable distinct group that does not have a local, indigenous church that can bring the gospel to the whole group without the aid of cross-cultural missionaries. This group may be variously defined, including but not limited to ethno-linguistic or socio-linguistic commonality.

(1) https://en.wikipedia.org/wiki/United_Nations_geoscheme

یہ تعریفیں اصلا کتاب 24:14 کے "ضمیمہ A” (صفحات 314-322) کے طور پر شائع کیا گیا – تمام لوگوں کے لئے ایک گواہی

, 24:14

یا ایمیزون

سے دستیاب.

Categories
حرکات کے بارے میں

تحریکوں میں ماندشافتس-حصہ 1

تحریکوں میں ماندشافتس-حصہ 1

از الزبتھ لارنس اور سٹین پارک

خدا ہمارے دن میں دنیا بھر میں چرچ پودے لگانے کی تحریکوں (کپمے) کے ذریعے بہت اچھا کام کر رہا ہے. سی پی ایم روایتی چرچ پودے لگانے بہت مفید بننے کا مطلب یہ نہیں ہے. سی پی ایم ایک مخصوص وزارت کے نقطہ نظر کے خدا دی پھل کی وضاحت کرتا ہے-منفرد سی پی ایم پر مبنی "ڈی این اے.” سی پی ایم کے نقطہ نظر اور پیٹرن چرچ کی زندگی اور وزارت کے پیٹرن سے بہت سے طریقوں میں مختلف ہوتے ہیں جو ہم میں سے بہت سے "معمول” محسوس کرتے ہیں.

نوٹ ، ہم اطار کی شناخت کرنا چاہتے ہیں ہم نے کپمے میں ملوث ہم میں سے بہت سے خدا کے لئے تبدیلی دیکھی ہے. لیکن ان کی جانچ کرنے سے پہلے ، ہم واضح کرنا چاہتے ہیں: ہم اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ سی پی ایم کی خدمت کرنے کا واحد طریقہ ہے یا کوئی بھی جو سی پی ایم نہیں ہے وہ غلط پیراگراف ہے ۔ ہم ان سب کو بہت عزت دیتے ہیں جو پہلے چلے گئے ہیں ۔ ہم اپنے کندھوں پر کھڑے ہیں. ہم بھی مسیح کے جسم میں دوسروں کی عزت کرتے ہیں جو وفاداری اور قربانی کی دیگر اقسام میں خدمت کرتے ہیں ۔

اس تناظر میں ، ہم بنیادی طور پر ایک سی پی ایم بھتری مدد کرنے کے لئے مغرب کی تلاش کے لئے پیراگراف اختلافات کی جانچ پڑتال کریں گے. ہم میں سے وہ لوگ جو ملوث ہونا چاہتے ہیں اس بات کا نوٹس کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے اپنے ذہنیت میں نقل و حرکت کے لئے ماحول پیدا کرنے کے لئے کیا شفٹوں ہے. ماندشافتس ہمیں مختلف چیزیں اور تخلیقی چیزوں کو دیکھنے کے لئے قابل بناتا ہے. یہ نقطہ نظر مختلف طرز عمل اور نتائج کی قیادت میں تبدیل. یہاں چند طریقے ہیں کپمے میں رب کے عظیم کام ہماری سوچ کو ایڈجسٹ کرنے کے لئے ہمیں بلاتا ہے.

از: "یہ ممکن ہے; میں اپنے خواب کو پورا کرنے کا راستہ دیکھ سکتا ہوں ۔

کرنے ایک خدا کے سائز کے نقطہ نظر ، اس کی مداخلت کے علاوہ ناممکن. اُس کی راہنمائی اور قوت کے لیے خُدا کا انتظار کر رہا ہے ۔

بنیادی وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ جدید دور میں شروع ہونے والے بہت سے کپمے لوگوں نے پورے لوگوں کے گروہوں تک پہنچنے پر توجہ مرکوز کرنے کے لئے ایک خدا کے سائز کے نقطہ نظر کو قبول کیا ہے. جب لاکھوں لوگوں پر مشتمل ایک ناقابل رسائی گروپ تک پہنچنے کے کام کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ کارکن اپنے آپ پر کچھ نہیں کر سکتا. سچ ہے کہ "مجھ سے علاوہ آپ کو کچھ بھی نہیں کر سکتے ہیں” ہماری تمام کوششوں پر لاگو ہوتا ہے. تاہم ، اگر ہمارے پاس ایک چھوٹا سا مقصد ہے تو یہ کام کرنا آسان ہے جیسا کہ پھل خدا کی مداخلت کے بجائے ہماری کوششوں پر منحصر ہے.

از: شاگرد افراد کا مقصد

کرنے کے لئے: شاگرد ایک قوم کا ارادہ.

عظیم کمیشن میں حضرت عیسی علیہ السلام "panta ta اٹہنی کے شاگرد بنانے” کے لئے اپنے شاگردوں کو بتاتا ہے panta ta ethne”

(تمام اٹہنی

/ہر اٹہناوس

). سوال یہ ہے کہ: "آپ کس طرح ایک مکمل طور پر شاگرد کرتے ہیں اٹہناوس?” صرف ایک ہی راستہ ہے ضرب—

شاگردوں کے جو شاگرد ، گرجا گھروں کو ضرب اور رہنماؤں کو ترقی دینے والے رہنماؤں.

سے: "یہ یہاں نہیں ہو سکتا!”

کرنے کے لئے: ایک پکا ہوا فصل کی توقع.

گزشتہ 25 سال کے دوران لوگوں نے اکثر کہا ہے: "حرکات ان میں شروع ہو سکتی ہیں those

ممالک ، لیکن وہ یہاں شروع نہیں کر سکتے ہیں! ” آج لوگ شمالی ہندوستان میں بہت سی تحریکوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں لیکن بھول جاتے ہیں کہ یہ علاقہ 200 + سال کے لئے جدید مشنوں کا قبرستان تھا. کچھ نے کہا ، "مشرق وسطی میں نقل و حرکت نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ اسلام کی ہارٹ لینڈ ہے!” ابھی تک بہت سی تحریکوں کو اب مشرقِ وسطٰی اور مسلم دنیا میں بھی فروغ دینا ہے ۔ دوسروں نے کہا ، "یہ یورپ اور امریکہ میں نہیں ہو سکتا اور روایتی گرجا گھروں کے ساتھ دوسرے مقامات!” ابھی تک اب ہم نے ان جگہوں میں بھی مختلف تحریکوں کو شروع کیا ہے. خدا ہمارے شکوک و شبہات پر قابو پانے کے لئے محبت کرتا ہے.

از: "میں کیا کر سکتا ہوں ؟”

کرنے کے لئے: "لوگوں کے اس گروپ میں نصب کیا خدا کی بادشاہت کو دیکھنے کے لئے کیا ہونا چاہئے (شہر, قوم, زبان, قبیلہ, وغیرہ)?

ایک تربیتی گروپ نے ایک بار اعمال 19:10 پر بحث کی تھی–کس طرح تقریبا 15,000,000 ایشیا کے رومن صوبے میں لوگوں نے دو سال میں رب کا کلام سنا. کسی نے کہا کہ ، "یہ پال اور اصل میں 12 مومنوں کے لئے ناممکن ہو جائے گا-وہ ایک دن 20,000 لوگوں کے ساتھ اشتراک کرنا پڑے گا!” یہ نقطہ ہے-وہ اس کو پورا کر سکتے ہیں کوئی راستہ نہیں ہے. تیراننوس کے ہال میں روزانہ کی تربیت اس کے شاگردوں کو گنا ہوتا ہے جنہوں نے پورے علاقے میں شاگردوں کو ضرب کیا ۔

سے: "میرے گروپ کو کیا حاصل کر سکتے ہیں ؟”

کرنے کے لئے: "اس ناممکن عظیم کام پورا کا حصہ کون ہو سکتا ہے ؟”

اس سے اوپر ماندشافٹ کی طرح ہے. ہمارے اپنے چرچ ، تنظیم ، یا فرقے میں لوگوں اور وسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے ، ہم نے محسوس کیا ہے کہ ہمیں دنیا بھر میں عظیم کمیشن کی تنظیموں اور گرجا گھروں کی تمام اقسام کے ساتھ پوری طرح سے مسیح کے پورے جسم کو دیکھنے کی ضرورت ہے. ہمیں گافٹانگس اور آرڈینیشن کی بہت سی کوششوں کے حل کے لئے لوگوں کو بھی شامل کرنے کی ضرورت ہے: نماز ، محنت کش طبقے ، مالیات ، کاروبار ، ترجمہ ، ریلیف ، ترقی ، آرٹس ، وغیرہ

سے: میں دُعا کرتا ہوں ۔

کرنے کے لئے: ہم غیر معمولی دعا کرتے ہیں اور

دوسروں کو دعا کرنے کے لئے متحرک ہیں.

ہمارا مقصد ہر چیز کو دوبارہ پیش کرنا ہے ۔ ظاہر ہے ذاتی نماز اہم ہے ، لیکن جب پوری کمیونٹیز ، شہروں اور لوگوں کے گروہوں تک پہنچنے کے زبردست کام کا سامنا کرنا پڑتا ہے-ہمیں بہت سے دوسروں کی نماز کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے.

از: میری وزارت میری پھلت سے ماپا جاتا ہے ۔

کرنے کے لئے: کیا ہم وفاداری کے لئے اسٹیج کو ترتیب دے رہے ہیں (جو ہماری وزارت کے دوران ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا) ؟

ترقی خدا کی ذمہ داری ہے (1 کرنتھیوں. 3:6-7). بعض اوقات پہلی ضرب بھتری کی کوشش کرنے سے چند سال لگ سکتے ہیں ۔ فیلڈ کارکنوں کو بتایا گیا ہے ، "صرف خدا پھلت پیدا کر سکتا ہے. آپ کا کام خدا کے کام کرنے کی توقع کرتے ہوئے وفادار اور فرمانبردار ہونا ہے. ہم اپنی پوری کوشش کرتے ہیں کہ وہ نئے عہد نامے میں موجود شاگرد بنانے والے ضرب کے نمونے پر عمل کریں ، اور ہم اُس روح پر بھروسہ کرتے ہیں جو ترقی کو لانے کے لیے رُوح القُدُس کو مانتے ہیں ۔

سے: باہر مشنری ایک ہے "پال ،” غیر پہنچ کے درمیان سامنے لائنوں پر تبلیغ.

کرنے کے لئے: اتائی کے طور پر کہیں زیادہ مؤثر ہے "برنباس,” دریافت, حوصلہ افزائی اور ایک سے زیادہ ثقافت کو بااختیار بنانے "پال.”

لوگوں کے طور پر باہر بھیجے جانے والے افراد اکثر سامنے لائن کارکن کے طور پر خود کو دیکھنے کے لئے حوصلہ افزائی کی گئی ہیں ، پال رسول کے بعد ماڈلنگ. اب ہم دور اتائی اس کی بجائے ثقافتی انسادرس یا ان کی کمیونٹیز کے لئے "نہ” بننے والے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر اور شراکت کی طرف سے سب سے بڑا اثر ہو سکتا ہے کہ احساس.

پہلا نوٹ یہ کہ برنباس بھی ایک رہنما تھا جو "کام کیا” (اعمال 11:22-26 ؛ 13:1-7) ۔ لہذا تحریک اتپریرک سب سے پہلے ان کی اپنی ثقافت میں شاگردوں بنانے کے تجربے کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے بعد وہ حوصلہ افزائی اور بااختیار بنانے کے کر سکتے ہیں جس میں توجہ مرکوز ثقافت سے ان "نہ” کو تلاش کرنے کے لئے کراس ثقافتی کام.

دوسرا ، یہاں تک کہ ان "نہ” اپنے اطار کو ایڈجسٹ کرنا ہوگا. بھارت میں ایک بڑی تحریک کی بیرونی اتپریرک ان کے کردار کو بہتر بنانے کے لئے برنباس کی زندگی کا مطالعہ. اس کے بعد انہوں نے اس تحریک کے ابتدائی "نہ” کے ساتھ حصئوں کا مطالعہ کیا. ان رہنماؤں نے اس بات کو محسوس کیا کہ ان کے ثقافتی نمونے کے برعکس (ابتدائی رہنما ہمیشہ بےمثل ہے) ، وہ اس کے نتیجے میں برنباس کی طرح بننا چاہتا تھا اور اُن کو قوت بخش جو وہ داسکاپلاد ہیں ، اِس سے بھی زیادہ اثر رکھتے ہیں ۔

از: ایک نئے مومن یا نئے مومنوں کے گروپ کی امید ایک تحریک کا آغاز کرے گا.

کرنے کے لئے: پوچھتے ہیں کہ "کیا قومی عقیدہ ہے جو کئی سالوں کے پیروکاروں نے ایک سی پی ایم کے لئے اتپریورتی (ے) بن سکتے ہیں ؟

یہ عام خیال سے متعلق ہے کہ ہم ایک ثقافتی دور کے طور پر اتائی ایک کھو شخص کو تلاش کریں اور جیت جائے گا جو تحریک اتپریرک بن جائے گا. اگرچہ یہ کبھی کبھار ہو سکتا ہے ، بہت سے تحریکوں کو ثقافتی انسادرس یا ہمسایوں کے قریب سے شروع کیا جاتا ہے جو کئی سال تک ایمان رکھتے ہیں ۔ ان کی اپنی ذہنیت شفٹوں اور سی پی ایم اصولوں کی تازہ تفہیم سلطنت کی توسیع کے لئے نئے امکانات کو کھولنے.

حصہ 2 میں ، ہم کچھ اضافی طریقوں کا اشتراک کریں گے کپمے میں رب کے عظیم کام ہماری سوچ کو ایڈجسٹ کرنے کے لئے ہمیں بلاتا ہے.

ایلزبتھ لارنس کی غیر ثقافتی وزارت کے تجربے پر 25 سال سے زیادہ ہے. اس میں تربیت ، بھیجنے ، اور کوچنگ سی پی ایم ٹیموں کو ایک UPG سے پناہ گزینوں کے درمیان رہنے ، اور ایک مسلمان تناظر میں ایک بام کی کوشش کی قیادت کرنا شامل ہے. وہ شاگردوں کو ضرب کرنے کے بارے میں پرجوش ہے.

مئی جون 2019 مشن سرحدوں ،

www.missionfrontiers.org

کے معاملے میں ایک مضمون سے مرضی کے مطابق .

Categories
حرکات کے بارے میں

تحریکوں میں ماندشافتس-حصہ 2

تحریکوں میں ماندشافتس-حصہ 2

از الزبتھ لارنس اور سٹین پارک

حصہ 1 میں ، ہم نے کچھ طریقوں سے کپمے میں رب کے عظیم کام ہمارے سوچ کو ایڈجسٹ کرنے کے لئے بلاتا ہے. یہاں کچھ اضافی طریقوں ہیں ہم کپمے ہمیں اپنی سوچ کو ایڈجسٹ کرنے کے لئے کال کرتے ہیں.

سے: ہم اپنی وزارت میں شراکت داروں کی تلاش میں
ہیں ۔
کرنے کے لئے: ہم ایک دوسرے کے ساتھ خدا کی خدمت کرنے کے لئے بھائیوں اور بہنوں کی تلاش کر رہے ہیں.

بعض اوقات مشنریوں کو "قومی شراکت داروں” کی تلاش میں پڑھایا جاتا ہے ۔ کسی کے محرکات سے پوچھ گچھ کے بغیر, کچھ مقامی مومن اس فراسانگ مشکوک تلاش. کچھ غلط (اکثر اوچیتن) کے معنی میں شامل ہوسکتے ہیں:

  • اتائی کے ساتھ "پارٹنرشپ” کا مطلب یہ ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں.
  • ایک شراکت داری میں شخص (ے) سب سے زیادہ پیسے کے ساتھ شراکت داری کو کنٹرول کرتا ہے.
  • یہ ایک حقیقی ذاتی تعلقات کے بجائے ایک "کام” کی قسم ٹرانزیکشن ہے.
  • "نیشنل” کا استعمال "مقامی” کے لئے ایک زیادہ شائستہ لفظ کے طور پر متحمل محسوس کر سکتا ہے-کیوں امریکیوں کو "شہریوں” نہیں کہا جاتا ہے?).

کھو کے درمیان کی نقل و حرکت کے خطرناک اور مشکل کام میں, اندر اتپریرک باہمی محبت کی ایک گہری خاندان بانڈ کے لئے تلاش کر رہے ہیں. وہ نہیں چاہتے ہیں کام

کے شراکت داروں لیکن بجائے تحریک خاندان

جو اپنے بھائیوں اور بہنوں کے لئے کسی بھی صورت میں ایک دوسرے کے بوجھ اور قربانی کو برداشت کریں گے.

سے: افراد جیتنے پر توجہ مرکوز.
کرنے کے لئے:
گروپوں پر توجہ مرکوز

موجودہ خاندانوں ، گروہوں اور برادریوں میں انجیل لانے کے لئے.

سالواٹانس کی کتاب میں بیان کی گئی 90 فیصد افعال یا تو بڑے یا چھوٹے گروہوں کی وضاحت کرتے ہیں. صرف 10 ٪ ایسے افراد ہیں جو خود کو نجات کا تجربہ کرتے ہیں. ہم نے بھی یسوع کو اپنے شاگردوں کو گھر کی تلاش کرنے کے لئے باہر بھیجنے پر توجہ مرکوز دیکھتے ہیں ، اور ہم دیکھتے ہیں کہ یسوع اکثر گھرانوں تک پہنچ جاتے ہیں. نوٹ زکائی اور اس کے پورے گھر کی نجات کے تجربے کے طور پر مثالیں (لوقا 19:9-10) ، اور سامری عورت اس کے پورے شہر (یوحنا 4:39-42) سے بہت سے لوگوں کے ساتھ ایمان کے لئے آ رہا ہے.

پہنچنے والے گروہوں کو افراد کو پہنچنے اور جمع کرنے پر بہت سے فوائد ہیں. مثال کے طور پر:

  • ایک نئے مومن کو "عیسائی ثقافت” منتقل کرنے کے بجائے ، مقامی ثقافت گروپ کی طرف سے چھڑایا جائے شروع ہوتا ہے.
  • ظلم و ستم الگ تھلگ نہیں ہے اور انفرادی طور پر توجہ مرکوز نہیں ہے لیکن گروپ بھر میں آسکے ہے. وہ ظلم و ستم میں ایک دوسرے کی حمایت کر سکتے ہیں.
  • خوشی کا اشتراک ایک خاندان یا کمیونٹی کے طور پر ایک دوسرے کے ساتھ مسیح کو پتہ چلتا ہے.
  • کافروں کی ایک نظر ایک مثال ہے "یہاں پر مسیح کی پیروی کرنے کے لئے میرے جیسے

    لوگوں کے ایک گروپ کے لئے کی طرح لگتا ہے.”

سے: میری چرچ یا گروپ کی تعلیم ، روایتی طرز عمل ، یا ثقافت منتقل.
کرنے کے لئے:
ایک ثقافت کے اندر ایمان لانے میں مدد کے لئے بائبل اہم مسائل کے بارے میں کیا کہتا ہے خود کے لئے دریافت; ان کو خدا کی روح کو سننے کے کس طرح ان کے ثقافتی تناظر میں بائبل کے سچائیوں کو لاگو کرنے کے لئے ان کی رہنمائی. discover for themselves

ہم بہت آسانی سے اپنی اپنی ترجیحات اور روایات کو ان کی روحانی مینڈیٹ کے ساتھ الجھن میں کر سکتے ہیں. ایک غیر ثقافتی صورت حال میں ہم خاص طور پر نئے مومنوں کو اپنے ثقافتی سامان دینے سے بچنے کی ضرورت ہے. اس کی بجائے ، ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یسوع نے کہا: "وہ سب خدا کی طرف سے سکھایا جائے گا” (یوحنا 6:45 ، NIV) ، اور روح القدس مومنوں کو ہدایت کرے گا "تمام سچائی میں” (جان 16:13), ہم خدا کے عمل پر اعتماد کر سکتے ہیں. اس سے نہیں یعنی ہم نئے ایمان داروں کی راہنمائی اور کوچ نہیں کرتے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کی مدد کرتے ہیں کہ وہ کتاب ہمیں اپنے اختیار کے طور پر دیکھیں ۔

سے: سٹاربکس کی شفاعت: "ہم ہر ہفتے ایک بار ملاقات کرتے ہیں.”
کرنے کے لئے:
طرز زندگی کی شفاعت: میری زندگی ان لوگوں کے ساتھ الجھے ہے.

ایک تحریک اتپریورتی نے کہا کہ ان کی تحریک ٹرینر کوچ نے جب بھی ضرورت ہو تو اس سے بات کرنے کی پیشکش کی… تو انہوں نے اسے ایک مختلف شہر میں تین یا چار مرتبہ ہر روز کال ختم کر دیا. ہمیں اس قسم کی عزم کی ضرورت ہے کہ وہ ان لوگوں کی مدد کریں جو کھوئے ہوئے تک پہنچنے کے لئے جذباتی اور مایوس ہیں.

سے: لیکچر-علم کی منتقلی کے لئے.
تا:
شفاعت – یسوع کی پیروی کرنا اور اُس کے کلام کی اطاعت کرنا ۔

یسوع نے کہا ، "اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر اطاعت کریں گے” (یوحنا 15:14 ، NCV) اور "اگر آپ میری اطاعت کرتے ہیں تو میری محبت میں رہیں گے” (یوحنا 15:10 ، مصنف کا ترجمہ). اکثر ہماری کلیسیا فرمانبرداری پر علم پر زور دیتے ہیں ۔ سب سے زیادہ علم کے ساتھ لوگوں کو سب سے زیادہ مستحق رہنماؤں کو سمجھا جاتا ہے.

چرچ پودے لگانے کی تحریکوں نے یسوع کو حکم دیا ہے کہ تمام اطاعت کرنے کے لئے لوگوں کی تعلیم پر زور دیتے ہیں (متی 28:20). علم اہم ہے لیکن بنیادی بنیاد پہلے محبت کرنے والے اور اطاعت خدا ہونا چاہئے.

سے: مقدس/سیکولر تقسیم ؛ انجیل بمقابلہ سماجی کارروائی.
بطرف:
لفظ اور عمل ایک ساتھ مل کر. میٹنگ کو ایک دروازے اوپنر اور انجیل کے ایک اظہار اور پھل کے طور پر ضرورت ہے.

مقدس/سیکولر تقسیم بائبل کے نظریہ کا حصہ نہیں ہے. کپمے میں وہ لوگ جو جسمانی ضروریات کو پورا کرنے یا انجیل کا اشتراک کرنے کے لئے بحث نہیں کرتے. کیونکہ ہم یسوع سے محبت رکھتے ہیں ، یقینا ہم لوگوں کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں (جیسا کہ انہوں نے کیا) اور جیسا کہ ہم کرتے ہیں ہم بھی اس کی سچائی کا اشتراک کرتے ہیں (جیسا کہ انہوں نے کیا). ان تحریکوں میں ہم میٹنگ کے قدرتی اظہار کو لوگوں کے الفاظ کے لئے کھولنے یا حق کی قیادت ہے کہ سوال پوچھنا کرنے کی ضرورت ہے.

سے: روحانی سرگرمیوں کے لئے خصوصی عمارات.
کرنے کے لئے:
تمام قسم کے مقامات پر مومنوں کے چھوٹے اجتماعات.

چرچ کی عمارات اور ادا چرچ کے رہنماؤں نے ایک تحریک کی ترقی کو روکنے کے. انجیل کی تیزی سے پھیل غیر پیشہ ور افراد کی کوششوں کے ذریعے ہوتا ہے. یہاں تک کہ امریکہ میں کھوئے ہوئے لوگوں کی تعداد تک پہنچنے پروہاباٹاولی مہنگی ہو جاتا ہے اگر ہم انہیں صرف چرچ کی عمارات اور ادا شدہ عملے کے ذریعے تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں. اس دنیا کے دیگر حصوں میں کتنا زیادہ ہے کہ کم مالیاتی وسائل اور غیر تک پہنچنے والے لوگوں کے زیادہ فیصد ہیں!

سے: تشہیر نہ کرو جب تک کہ آپ کو تربیت دی جائے. بطرف: اشتراک کریں جو آپ نے تجربہ کیا ہے یا جانتے ہیں. یہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں اشتراک کرنے کے لئے عام اور قدرتی ہے.

نئے مومنوں کو کتنی بار بیٹھ کر اور وہ ایمان کے لئے آنے کے بعد پہلے کئی سالوں سے سننے کے لئے کہا جاتا ہے ؟ یہ اکثر کئی سال لگتا ہے کہ وہ کسی بھی طرح سے قیادت کرنے کے لئے قابل غور ہیں. ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ بہترین لوگوں کو ایک خاندان یا کمیونٹی کی قیادت کرنے کے لئے اس کمیونٹی میں انسادرس ہیں. اور ان کے لئے بہترین وقت یہ ہے کہ جب وہ اپنے آپ کو اور اس کمیونٹی کے درمیان علیحدگی پیدا کرنے سے پہلے ، ایمان کے لئے نئے آتے ہیں.

ضرب میں ہر ایک اور وزارت ہر جگہ ہوتی ہے ۔ ایک نئی/غیر مستحکم اندرونی ایک انتہائی تربیت یافتہ بالغ اتائی سے زیادہ مؤثر ہے.

سے: جتنا ممکن ہو سکے.
To:
بہت زیادہ جیتنے کے لئے چند (یا ایک) پر توجہ مرکوز کریں.

لوقا 10 میں یسوع نے آپ کو مل جائے گا کہ ایک گھر تلاش کرنے کے لئے کہا. اگر امن کا کوئی شخص آپ کو مل جائے گا. اس موقع پر ، گھر سے گھر کے ارد گرد منتقل نہیں کرتے. ہم اکثر اس پیٹرن نئے عہد نامے میں لاگو کیا جا رہا ہے دیکھیں. چاہے یہ کرنیلیس ، زکائی ، لڈا یا فالاپپیان جیلر ، یہ ایک شخص پھر ان کے خاندان اور وسیع تر کمیونٹی کے لئے اہم اتپریرک بن جاتا ہے. سخت ماحول میں نقل و حرکت کا ایک بڑا خاندان دراصل قبائلی رہنما یا انفرادی گھرانے کے رہنماؤں کے بجائے نیٹ ورک کے رہنما پر مرکوز ہے ۔

تمام قوموں کے شاگردوں کو بنانے کے لئے, ہم صرف زیادہ اچھے خیالات کی ضرورت نہیں ہے. ہمیں نہ صرف اضافی مفید طریقوں کی ضرورت ہے. ہمیں ایک مثالی تبدیلی کی ضرورت ہے. ماندشافتس یہاں پیش کیا اس شفٹ کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرتا ہے. اس حد تک ہم کشتی اور درخواست دیتے ہیں ان میں سے کسی ایک ہم ممکنہ طور پر زیادہ مفید بن جائیں گے. لیکن جیسا کہ ہم پورے پیکج خریدتے ہیں-سی پی ایم ڈی این اے کے لئے روایتی چرچ ڈی این اے میں تجارت-ہم کاتلیزانگ تیزی سے ریپرودوکانگ نسل کی نقل و حرکت میں خدا کی طرف سے استعمال کرنے کی امید کر سکتے ہیں جو اب تک ہمارے اپنے وسائل سے زیادہ ہے.

ایلزبتھ لارنس کی غیر ثقافتی وزارت کے تجربے پر 25 سال سے زیادہ ہے. اس میں تربیت ، بھیجنے ، اور کوچنگ سی پی ایم ٹیموں کو ایک UPG سے پناہ گزینوں کے درمیان رہنے ، اور ایک مسلمان تناظر میں ایک بام کی کوشش کی قیادت کرنا شامل ہے. وہ شاگردوں کو ضرب کرنے کے بارے میں پرجوش ہے.

مئی جون 2019 میں ایک مضمون سے مرضی کے مطابق مشن سرحدوں ،

www.missionfrontiers.org

،

اور کتاب کے صفحات 55-64 پر شائع ہوا 24:14-تمام لوگوں کے لئے ایک گواہی ، 24:14

یا ایمیزون

سے دستیاب.

Categories
حرکات کے بارے میں

تحریکوں میں اتائی کا کردار

تحریکوں میں اتائی کا کردار

اس کے شاگردوں کے لئے ان کی آخری ہدایات میں (متی 28:18-20) ، یسوع نے اپنے تمام شاگردوں کے لئے ایک حیرت انگیز منصوبہ بنایا – اور اب دونوں.

ہم سب کے نام پر جاتے ہیں all

اتھارٹی – آسمان اور زمین پر. ہم روح القدس کی طاقت حاصل کرتے ہیں جیسا کہ ہم جاتے ہیں – میں لوگوں کو ہمارے یروشلم ، یہودیہ ، سامریہ ("دشمنوں” قریب) اور زمین کے اختتام. یسوع نے ہمیں سب کے شاگردوں کو بنانے کے لئے بلاتا ہے ethnē ،

باپ ، بیٹے اور روح القدس کے نام پر ان کی بپتسمہ دیتا اور اطاعت کرنے کے لئے ان کی تعلیم obey

وہ سب کچھ حکم دیا. اور وہ ہمارے ساتھ ہمیشہ ہوتا ہے ۔

عظیم کمیشن کو پورا کرنے کے لئے یہ کیا کرے گا ؟ "باقی کام” پر "ہم” غیر انیوانگالاید "،” "غیر مصروف ،” اور "کم از کم پہنچ” کی طرح شرائط کو استعمال کرنے کے متلاشی ہیں ۔

ہم اکثر ان الفاظ انٹرچانگیابل استعمال کرتے ہیں ۔ یہ بہت خطرناک ہو سکتا ہے, وہ ایک ہی بات کا مطلب نہیں ہے کے طور پر, اور ہم ان کا استعمال کرتے وقت ہم ایک ہی بات کا مطلب نہیں کر سکتے ہیں.

"غیر پہنچ گئے” اصل میں ماسساولوگسٹس کے ایک اجلاس میں بیان کیا گیا تھا شکاگو میں منعقد ہونے والے تمام افراد کو بہت مقبول ہو گیا تھا. اس کے طور پر بیان کیا گیا تھا ، "لوگوں کا گروپ ایک ایسا چرچ کی کمی ہے جو اس گروپ کو غیر ثقافتی امداد کے بغیر اپنی سرحدوں میں تشہیر سکتا ہے.”

"انیوانگالاید” عام طور پر استعمال کے طور پر ، عالمی عیسائی انسائیکلوپیڈیا میں بیان کیا گیا تھا

ایک ریاضیاتی مساوات کے طور پر ایک لوگوں کے گروہ کے اندر لوگوں کی تعداد کو انجیکشن کے لئے جو ان کی زندگی میں کم ازکم ایک بار انجیل تک رسائی حاصل ہوگی. یہ ہے انجیل تک رسائی حاصل کرنے والے لوگوں کی تعداد کا قوانٹیفاکاشن ۔ ایک گروپ ہو سکتا ہے ، مثال کے طور پر ، 30 ٪ انجیلیلائزڈ ، جس کا مطلب ہے کہ محققین کا اندازہ 30 ٪ انجیل سنا ہے اور 70 ٪ نہیں ہے. یہ مقامی چرچ یا اس کے اپنے طور پر کام ختم کرنے کی صلاحیت کے بارے میں ایک بیان نہیں ہے.

"غیر مصروف” کام کو ختم کرنے اور لوگوں کے گروپ کے طور پر بیان کیا گیا تھا جو چرچ کے پودے لگانے کی حکمت عملی کے ساتھ ایک ٹیم کی کمی ہے. اگر کئی ملین لوگوں میں سے ایک گروپ دو یا تین کی ٹیم ہے کہ "مصروف” چرچ پودے لگانے کی حکمت عملی کے ساتھ ، یہ "مصروف” ہے (لیکن تقریبا یقینی طور پر اندرسرواد). کام کو ختم کرنے سے غیر مصروف فہرست برقرار رکھتا ہے ، دوسری فہرستوں سے حاصل کی جاتی ہے.

"کم پہنچ گئے” باقی کام کے بنیادی کا حوالہ دیتے ہوئے ایک عام اصطلاح ہے. یہ ایک مخصوص تعریف نہیں ہے ، اور جب کوئی مخصوص تعریف کی ضرورت ہے جب اکثر استعمال کیا جاتا ہے.

کام کیا ہے ؟

24:14 مقصد عظیم کمیشن کو پورا کرنے والی نسل کا حصہ بننا ہے. اور ہمیں لگتا ہے کہ بہترین طریقہ عظیم کمیشن (ہر قوم کے شاگردوں کے شاگرد بنانے) کو ہر قوم اور جگہ میں بادشاہت کی نقل و حرکت سے پورا کیا جاتا ہے ۔

ان شرائط کے تمام-انیوانگالاید ، غیر متوقع ، غیر مصروف ، سب سے کم پہنچ گئے-مختلف طریقوں میں مددگار ہیں. اس کے باوجود وہ الجھن اور اس سے بھی پریشان ہوسکتے ہیں ، اس پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح استعمال کرتے ہیں.

ہم ہر ایک کو دیکھنا چاہتے ہیں انجیلیلائزڈ

لیکن نہ صرف

انجیلیلائزڈ. دوسرے الفاظ میں ، یہ کافی نہیں ہے کہ ہر کوئی سن انجیل. ہم جانتے ہیں کہ شاگرد

ہر قوم ، قبیلہ ، لوگوں اور زبان سے "بنائے جائیں گے” (مکاشفہ 7:9 ، niv).

ہم دیکھنا چاہتے ہیں ہر لوگ گروپ پہنچ گئے

-چرچ اپنے لوگوں کو تشہیر کرنے کے لئے کافی مضبوط ہے. لیکن یہ ہم چاہتے ہیں نہیں ہے. جوشوا منصوبے کا کہنا ہے کہ ایک پہنچے گروپ میں 2 فیصد ایوینجلیکل عیسائی ہے. اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ 2 ٪ باقی 98 ٪ کے ساتھ اچھی خبر کا اشتراک کرسکتے ہیں. یہ ایک اہم قدم ہے ، لیکن ہم مطمئن نہیں ہیں صرف 2% ایک لوگ یسوع کے پیروکاروں بن جاتے ہیں.

ہم ہر گروپ کو مصروف نہیں دیکھنا چاہتے ہیں engaged

لیکن صرف

نہیں مصروف. کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا شہر پانچ یا 10,000,000 لوگوں کو صرف دو کارکنوں کو انجیل کے لانے کے لئے خدمت کرے ؟

عظیم کمیشن کی اصل زبان ان آیات میں ایک مرکزی حکم واضح کرتا ہے command

: شاگردوں کو بنانے کے لئے (mathēteusate

). نہ صرف انفرادی شاگرد ، بلکہ داسکاپلانگ ethnē – پوری نسلی گروپ. دوسرے فعل ("جاؤ,” "بپتسمہ دیتا,” "تعلیم”) اہم حکم کی حمایت – سب کو شاگرد کے لئے ethnē

.

یونانی لفظ اٹہناوس

(واحد ethnē

) کے طور پر بیان کیا جاتا ہے "ایک ایسے افراد کے لئے جو قرابت داری ، ثقافت ، اور عام روایات ، قوم ، لوگوں

کی طرف سے متحد ہے” ۔ مکاشفہ 7:9 ethnē

("قوموں”) کی تصویر کو ختم کر دیا جائے گا جو تک پہنچ جائے گی, تین مزید وضاحتی شرائط شامل: قبائل, پیپلز, اور زبانوں – عام شناختوں کے ساتھ مختلف گروپ.

لوزان 1982 لوگوں گروپ کی تعریف کا کہنا ہے کہ: "اوانگالازاشن مقاصد کے لئے ، ایک لوگوں کا گروپ سب سے بڑا گروپ ہے جس کے اندر انجیل کو سمجھنے یا قبولیت کی رکاوٹوں کے بغیر ایک چرچ کی تحریک کے طور پر پھیل سکتا ہے.”

ہم کس طرح ایک پوری قوم ، قبیلہ ، لوگوں ، زبان کے شاگرد ہیں ؟

ہم اعمال 19:10 میں ایک مثال دیکھتے ہیں ، جس میں ایشیا کے صوبے میں تمام یہودی اور یونانیوں کا کہنا ہے کہ (15,000,000 لوگ!) "دو سال میں” رب کا کلام سنا ". میں رومیوں 15 (آیات 19-23) پال ریاستوں یروشلم سے تمام راستے پر چھوڑ دیا اس کے اہم کام کے لئے کوئی جگہ نہیں تھا.

تو کیا یہ عظیم کمیشن کو پورا کرنے کے لئے لے جائے گا? یقیناً صرف خُدا فیصلہ کر سکتے ہیں جب عظیم کمیشن آخر میں ہے "پورا.” لیکن مقصد یہ ہے کہ ہر ایک میں ایک اہم بڑے پیمانے پر لوگوں کے شاگردوں کو بنایا جائے ۔ اٹہناوس ، گرجا گھروں کے نتیجے میں. شاگرد خدا کی بادشاہی کے اندر اور چرچ کے باہر رہتے ہیں-اپنی کمیونٹیز کو تبدیل کرنے اور مسلسل اپنی سلطنت میں زیادہ لوگوں کو لانے کے.

سلطنت کی تحریک کی مصروفیات

یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے سلطنت کی تحریک کی مصروفیات کو دیکھنے کے لیے 24:14 عزم کا مرکز بنایا kingdom movement engagements ہے

. ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ صرف اس طرح کے شاگردوں کی تحریک ، گرجا گھروں اور رہنماؤں کو تمام کمیونٹیوں ، زبان کے گروہوں ، شہروں اور قوموں کو شاگرد کر سکتے ہیں.

اکثر مشنز میں ہم نے صرف پوچھا ہے: "میں کیا کر سکتا ہوں ؟” ہمیں اس کی بجائے پوچھنے کی ضرورت ہے: "عظیم کمیشن میں ہمارے حصہ کو پورا کرنے کے لئے کیا کرنا چاہئے ؟

ہم صرف یہ کہنے کے متحمل نہیں ہو سکتے ، "میں جاؤں گا اور کچھ لوگوں کو خُداوند کے پاس جیتنا چاہتا ہوں اور کچھ گرجا گھروں کا آغاز کر سکتا ہوں ۔ ہمیں پوچھنے کی ضرورت ہے کہ: "یہ ایک دیکھنے کے لئے کیا کریں گے اٹہناوس

یا ان میں سے ایک سے زیادہ ethnē

داسکاپلاد ؟ "

ایک سے زیادہ ممالک کے ایک چیلنج غیر پہنچے علاقے میں ، ایک مشن ٹیم نے بہت سے مقامات پر خدمت کی اور وہ دیکھا 220 گرجا گھروں تین سال میں شروع کر دیا. یہ بہت اچھا ہے ، خاص طور پر ان کے مشکل اور بعض اوقات مخالف سیاق و سباق کے تناظر میں. لیکن اس ٹیم نے پورے علاقے داسکاپلاد کو دیکھنے کے لئے ایک نقطہ نظر تھا.

ان کا سوال یہ تھا کہ: "اس نسل میں ہمارے علاقے کو کیا شاگرد لے جائیں گے ؟” اس کا جواب یہ تھا کہ ایک ٹھوس آغاز (شروع نہ ہونے والا اختتام) 10,000 گرجا گھروں کی ضرورت ہوگی. تو تین سال میں 220 گرجا گھروں کافی نہیں تھا!

خدا نے ان کو دکھایا کہ ان کے علاقے تک پہنچنے کے لئے تیزی سے ریپرودوکانگ گرجا گھروں کی ایک سے زیادہ اسٹریمز کی ضرورت ہو گی. وہ سب کچھ تبدیل کرنے کے لئے تیار تھے. جب خدا نے انہیں سی پی ایم ٹرینرز بھیجا تو انہوں نے صحائف کو تلاش کیا اور دعا کی اور کچھ بنیاد پرست تبدیلیاں کیں ۔ آج کے طور پر ، خدا نے اس علاقے میں 7000 + گرجا گھروں شروع کر دیا ہے.

ایک ایشیائی پادری نے 14 سالوں میں 12 گرجا گھروں کو نصب کیا تھا. یہ اچھا تھا ، لیکن یہ ان کے علاقے میں lostness کی حیثیت کو تبدیل نہیں کیا گیا تھا. خدا نے اسے اور ان کے ساتھی مزدوروں کو دیا ہے کہ وہ شمالی بھارت کو دیکھنے کا ایک حصہ ہے. وہ روایتی پیٹرن غیر سیکھنے اور زیادہ بائبل کی حکمت عملی سیکھنے کے مشکل کام شروع کر دیا. آج 36,000 گرجا گھروں شروع کر دیا گیا ہے. اور یہ صرف اس کا آغاز ہے جو خدا نے انہیں بلایا ہے.

غیر پہنچی دنیا کے ایک اور حصے میں خدا نے ایک زبان کے گروپ سے سات دیگر زبانوں کے گروہوں اور پانچ میگاکاٹیس میں نقل و حرکت کا ایک جھرن شروع کیا ہے ۔ انہوں نے دیکھا ہے 10-13 ملین لوگ 25 سالوں میں بپتسمہ لیتے ہیں لیکن یہ ان کی توجہ نہیں ہے. جب اس سے پوچھا کہ وہ لاکھوں نئے ایمانداروں کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں ، ان کے راہنماوں میں سے ایک نے کہا ، "میں ان تمام محفوظ لوگوں پر توجہ نہیں دے رہا ۔ میں ان لوگوں پر توجہ مرکوز کرتا ہوں جو ہم تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں-لاکھوں اب بھی اندھیرے میں رہتے ہیں کیونکہ ہم نے کیا کرنے کی ضرورت نہیں ہے.

ان تحریکوں کا ایک نشان یہ ہے کہ ایک شخص یا لوگوں کی ٹیم خدا کے سائز کے نقطہ نظر کو قبول کرتی ہے. خدا کی بادشاہی سے بھرا ہوا ایک سے زیادہ ممالک کے پورے علاقے کو دیکھنے کے لئے. ایک مکمل غیر متوقع لوگوں کے گروپ کو دیکھنے کے لئے-8,000,000 ، یا 14,000,000 یا 3,000,000-تک پہنچ گئے ، اس طرح کہ ہر ایک انجیل کا جواب دینے کا موقع ہے. وہ پوچھتے ہیں: "کیا ہونا ضروری ہے ؟” نہیں "ہم کیا کر سکتے ہیں ؟” اس کے نتیجے میں وہ خدا کے نمونے کو فٹ اور اس کی طاقت سے بھرا ہوا ہے. وہ پیدائشی ریپرودوکانگ گرجا گھروں میں ایک حصہ کھیلتے ہیں جو شاگرد کو شروع کرتے ہیں اور ان کے گروہوں کو تبدیل کرتے ہیں.

ابتدائی 24:14 کی تحریک مشغولیت کا مقصد engagements

ہر غیر پہنچ گئے لوگوں اور جگہ میں ختم لائن نہیں ہے. یہ ہر قوم اور جگہ کے لئے صرف ایک ابتدائی لائن ہے (یعنی اس جگہ میں لوگوں کے گروپ). ہم ہر گروپ کے درمیان کام ختم نہیں کر سکتے جب تک کہ ہر گروپ میں کام شروع نہ ہو.

ہر قوم اور جگہ میں بادشاہی کی تحریکوں کو دیکھنے کے لئے ، ہم صرف حکمت عملی اور طریقوں کو منتخب کرنے پر انحصار نہیں کر سکتے ہیں. ہمیں ایک ہی حرکیات خدا ابتدائی چرچ دیا کے تعاقب کرنے کے لئے تیار اور پرعزم ہونے کی ضرورت ہے. یہ کیا دیکھنے کے لئے لے جائے گا انجیل تمام ethnē کے لئے ایک گواہی کے طور پر اعلان ethnē

(متی 24:14)?

سٹین پارک پی ایچ ڈی (VP گلوبل حکمت عملی) سے باہر ، 24:14 اتحاد (سہولت ٹیم) ، اور اٹہنی (قیادت کی ٹیم) کی خدمت کرتا ہے. انہوں نے عالمی سطح پر کپمے کی ایک قسم کے لئے ایک ٹرینر اور کوچ ہے اور ان میں رہتا ہے اور اس کے بعد 1994 سے تک پہنچ چکے ہیں.

یہ مواد سب سے پہلے 139-144 ، 147 کتاب 24:14 کے صفحات پر شائع ہوا -تمام لوگوں کے لئے ایک گواہی ،

24:14

سے یا ایمیزون

سے دستیاب .