Covid 19 کے دوران چرچز کے قیام میں تیز رفتاری کا حصول
– آیلا ٹسے –
Covid 19 کی وجہ سے سماجی فاصلوں اور تنہائی نے دنیا بھر میں شاگرد سازی کی تحریکوں کو بہت متاثر کیا کیونکہ ان تحریکوں کی نشو ونما ہی مسلسل ذاتی رابطوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ لیکن خُداوند نے ہمیں حوصلہ دیا کہ ہر بحران میں خُدا کی بادشاہی کے لئے کوئی نہ کوئی موقع چھُپا ہوتا ہے ۔ہمارا طویل عرصے سے یہ یقین ہے کہ تکلیف کا شکار لوگوں کی مدد کرنا شاگردوں کی ذمہ داری ہے اور شاگرد بنانے کا طریقہ بھی ہے ۔اس اصول کو نئے طریقوں سے استعمال کر کے ہم نے جانا کہ خُدا کی بادشاہی انتہائی بُرے حالات میں بھی آگے بڑھ سکتی ہے ۔
مشرقی افریقہ میں ہمیں Covid 19 سے زیادہ بڑے ایک مسئلے کا سامنا تھا۔ Covid سے پہلے کینیا کے شمالی علاقے کے کئی حصوں اور مشرقی افریقہ کے کئی علاقوں میں شدید قحط تھا ۔پھر اکتوبر 2019 میں شدید بارشیں ہوئیں اور ایک ہفتے کے اندر اندر شدید سیلاب آ گئے۔ قحط اور سیلاب کے دوران سب کچھ متاثر ہوا کیونکہ وہاں رہنے والے زیادہ تر لوگ خانہ بدوش ہیں ۔ جو جانور قحط سے بچ گئے تھے وہ سیلاب کی وجہ سے مارے گئے ۔ پھر دسمبر میں ہم نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ ٹِڈی دَل دیکھا ۔ ٹڈیوں نے آ کر باقی بچے ہوئے کھیت ، جانوروں کے چارے اور تمام سبزے کو تباہ کر کے رکھ دیا ۔
فروری 2020 کے اختتام کے قریب Covid 19 کی وبا آ گئی ۔ سو ہمیں اپنی تحریک کی سر گرمیوں کے دوران ان بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ مارچ کے شروع تک ہمارے کئی راہنماؤں کے لئے یہ صورت حال بہت پریشان کن ہو گئی تھی ۔ کینیا کی حکومت نے ملک کو بند کرنا شروع کر دیا تھا ۔ میں اُس وقت ملک کے شمالی حصہ کی جانب سفر کر چُکا تھا اور میں وہیں بند ہو کر رہ گیا ۔سو مارچ سے اگست تک میں کینیا کے شمال میں پھنسا رہا ۔
ایک اور بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ہم ملک کے کسی اور حصہ کی جانب سفر نہیں کر سکتے تھے اور یوں ہم لوگوں سے ملاقاتیں بھی نہیں کر سکتے تھے ۔ہم نے سوچنا شروع کیا ، ” ہم اس صورت حال سے کیسے نمٹیں ؟ ہمیں منادی اور خدمت کے نئے طریقے ڈھونڈنے کی ضرورت ہے ، تاکہ ہم لوگوں میں سر گرم ہو سکیں ۔” ہمیں ان سوالوں کے تین جوابات نظر آئے ۔
پہلا جواب دعا تھا ۔ مارچ کے وسط میں ہم نے اپنی ٹیم کے تمام ممبران سے کہا کہ وہ اُن تمام ملکوں میں جہاں ہم کام کر رہے ہیں اُن کی ترجمانی کرتے ہوئے ، ہماری مرکزی ٹیم اور ہمارے ملکی راہنماؤں کے ساتھ مل کر دعا کریں ۔ ہم سب نے ایک ہی وقت میں دعا شروع کی اور دعائیں تقسیم کرنے کے لئے واٹس ایپ کا استعمال کیا ۔ ہم نے خُدا سے دعا کی کہ وہ تحریک کو زندہ رکھے ، کیو نکہ ہم یہ دیکھ رہے تھے کہ راہنما اور اُن کے خاندان اپنی آمدنی کے تمام وسائل کھو رہے تھے ۔ اس تحریک کو جاری رکھنے کے لئے دعا ہمارے لئے کلیدی ہتھیار تھی ۔ ہم سب نے دعا کرنا شروع کی ،خاص طور پر پیر اور جمعرات کے دنوں میں ۔ ہم نے بدھ کے دن روزے رکھنے کی تحریک شروع کی ۔ ہر بدھ کے دن ہم پورا دن روزہ رکھتے تھے جو آج بھی جاری ہے ۔
دوسری بات ہم نے یہ کہی ،” ہم اپنی ٹیموں کو ایسی سر گرمی میں شامل کریں گے ، جس سے انہیں حوصلہ ملے کیونکہ ہر کوئی اس میں سے گُزر رہا ہے ۔” ہم نے مختلف ملکوں میں راہنماؤں کو ٹیکسٹ میسج بھیج کر انہیں کلام کے حوالوں سے حوصلہ دیا اور اُن سے پوچھا کہ آپ کا کیا حال ہے ؟ آپ اس صورت حال سے کیسے گُزر رہے ہیں ؟ آپ مدد کے لئے کیا کر رہےہیں ؟” ہمیں معلوم تھا کہ اگر ہمارے راہنماؤں کو حوصلہ افزائی نہ ملی تو اس سے ہماری تحریک کی رفتار پر بُرا اثر پڑے گا ۔ سو ہم نے جمعہ کے دن کو اپنے راہنماؤں کو کال کر کے حوصلہ دینے کے لئے مخصوص کر دیا ۔انہیں ایسے لوگوں سے فون کالیں گئیں جن سے وہ توقع نہیں کر رہے تھے ۔انہیں ایسے لوگوں سے کال ملتی جنہوں نے پہلے کبھی انہیں کال نہیں کیا تھا ۔ اس کا مقصد صرف یہ کہنا تھا ،” ہم اس مشکل میں آپ کے ساتھ ہیں اور آپ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔” اس سے ہمیں متحد رہنے میں بہت مدد ملی ۔
پھر اپریل میں ہم نے ہر منگل اور جمعرات کے دن اپنی تمام ٹیموں کے ساتھ زوم میٹنگ کا سلسلہ شروع کیا ۔ ان میٹنگز میں ہم صورت حال پر گفتگوکرتے تھے جس کے نتیجے میں رابطے جاری رہنے میں مدد ملی جب ہم نے زوم میٹنگز شروع کی تو ہمیں ایک دوسرے کے قریب ہونے اور ایک دوسرے کی بات سُننے میں بہت آسانی ہوئی ۔
تیسری بات ہم نے یہ کہی ،” اس بحران میں لوگوں کے درمیان سر گرم ہونے کی کوئی نہ کوئی عملی طریقے ضرور ہوں گے ۔جو کچھ ہم نے شروع کیا ہم اُسے کس طرح باقی اور جاری رکھ سکتے ہیں ۔”( ہم ابھی تحریکوں کی بقا کے مرحلے پر ہیں ۔ ہم ابتدا سے افزائش اور پھر وہاں سے بقا تک پہنچے ہیں۔ ) تحریکوں کو باقی رکھنے کے لئے ضروری تھا کہ راہنماؤں اور گروپوں اور چرچز کو کسی نہ کسی طور مالی مدد دی جائے کیونکہ اُن کی آمدنی ختم ہو چکی تھی۔ سو ہم نے سوچا ،” ہم خوراک کی فراہمی میں اُن کی مدد کس طرح کر سکتے ہیں؟ بہت سے خاندان خوراک کی کمی کا شکار تھے کیونکہ نیروبی لاک ڈاؤن میں تھا اور مختلف علاقوں تک تمام اشیا ضر ورت وہیں سے آتی تھی ۔” اس سے ہمیں ایک نئی چیز نظر آئی۔ ہم نے شاگردوں میں سخاوت اور فیاضی دیکھنا شروع کی ۔ انہوں نے عملی محبت کے ساتھ اپنی چھوٹی چھوٹی چیزیں لوگوں کے ساتھ شئیر کرنا شروع کیں ۔ اس وقت میں یہ بات اہم نہیں تھی کہ آپ کتنا شئیر کر سکتے ہیں ، بلکہ یہ اہم تھا کہ جو کچھ آپ کے پاس ہے آ پ اُس میں سے کسی کے ساتھ کچھ شئیر کر رہے ہوں ۔
لوگوں نے اپنے پڑوسیوں کو چیزیں دینا شروع کیں ۔ ہم نے دیکھا کہ شاگردوں کی اس عملی محبت کے نتیجہ میں گروپس افزائش پانے لگے ۔ ہمیں ایسی بہت سی کہانیاں سُننے کو ملی جن میں لوگوں کے پاس اپنے خاندانوں کے لئے بھی ہفتے بھر سے کافی خوراک نہیں تھی پھر بھی وہ اُن لوگوں کو خوراک دے رہے تھے جن کے پاس کچھ بھی نہیں تھا ۔ اور زیادہ تر وہ اپنے مسلمان ہمسائیوں کو کھانے پینے کی چیزیں دے رہے تھے ۔ اس مشکل صورت حال میں ایسی محبت دیکھ کر لوگوں کے دل کلام سُننےکے لئے کھُل گئے ۔
مئی اور جون میں ہم نے مدد کی درخواست کرنا شروع کی اور امداد آنی شروع ہوئی اور دسمبر تک ہم 13500 خاندانوں کو کھانا دینے کے قابل ہو گئے ( اس علاقے میں ایک خاندان میں اوسطاً 8 لوگ ہوتے ہیں ) ۔ان خاندانوں میں سے ہر ایک کے ذریعے چرچ میں افزائش ہو رہی تھی ۔
سال کے اختتام تک پہنچ کر ہم نے دسمبر میں کچھ تجزیے کئے اور رپورٹ مرتب کی۔ ہم نے یہ جانا کہ محبت کے اظہار کے ذریعے نہ صرف کلام پھیل رہا تھا بلکہ گروپ اور چرچز بھی افزائش پا رہے تھے ۔ایسے چرچز جنہیں ملنے کے لئے کسی جگہ کی ضرورت تھی ،وہ وہاں مل نہیں سکتے تھے ۔ سو لوگوں نے ایک دوسرے کے گھروں میں جا کر ملنا شروع کیا ۔ اُس علاقے میں گھر بہت چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں جن میں بہت کم لوگ سما سکتے ہیں ۔ سو ، گھریلو میٹنگز ایک وقت میں کئی گھروں میں ہونے لگیں ۔ اس کے نتیجے میں زیادہ تعداد میں نارسا لوگوں تک رسائی حاصل ہوئی ۔
میں نے مشرقی افریقہ میں اپنی تحریک کے پچھلے پندرہ سالوں پر نظر ڈالی اور دیکھا کہ 2020 میں یہ اپنے عروج پر تھی ۔ ہم نے صرف ایک سال میں 1300 نئےچرچز قائم ہوتے دیکھے ۔یہ بہت حیران کن بات تھی کیونکہ سال کی ابتدا میں ہماری افزائش 30 فیصد کم ہوئی تھی تو ہم نے یہ کہا تھا کہ ہم خُدا سے 600 سے 800 چرچز کے قیام کی دعا کریں گے لیکن خُدا ہمیں اُس حدف سے آگے لے گیا کیونکہ وہی یہ کر سکتا تھا ۔جب ساری ٹیموں نے سالانہ اعدادوشمار پیش کئے تو مجھے اُس پر مشکل سے یقین آیا ۔مجھے خود اپنے لئے اور دوسروں کے لئے فرداًفرداً سارے گراف دیکھنے پڑے ۔
خُدا یہ کام شاگرد سازی کی مثلث کے ذریعے کیا :خُداسے محبت ، اپنے پڑوسی سے محبت اور شاگرد بنانا ۔ عملی محبت کے ذریعے لوگوں کے دل کھُلے اور انہوں نے کلام کا مثبت جواب دیا ۔ نئے گروپوں میں سر گرمی شروع ہوئی، نئے علاقوں تک رسائی ملی اور اب ہم اُسے جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ میں 40 کوارڈینیٹروں کی ایک میٹنگ میں موجود تھا جو ابھی تک اس پر غور و وفکر کر رہے تھے تاکہ ہم اس رفتار کو اس سال اور آئندہ سالوں میں بھی جاری رکھ سکیں ۔
نئی ٹیکنالوجی سیکھنے کا کردار
Covid 19 سے پہلے میرے سمیت میرے بہت سے ساتھی کمپیوٹر کی جدید ٹیکنالوجی سے ناآشنا تھے جب بھی کوئی زوم پر میٹنگ کی بات کرتا تو ہم انٹر نیٹ کی سُست رفتاری کی بات کرتے میں نے ایک دو مرتبہ زوم میٹنگ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن مجھے اس کا طریقہ نہیں سمجھ میں آیا تھا ۔ کسی کو مجھے کال کر کے ہدایات دینی پڑتی تھیں کہ میں یہ کیسے کروں ۔ زوم میٹنگ کے دوران ہر ایک کو باری باری مائیک آن کروانابھی بہت مشکل تھا۔ سو ہماری پہلی میٹنگ کے دوران ہم پس منظر سے آنے والی بہت سی آوازیں اور شور سُنتے رہے ۔ شور بہت تھا لیکن ہم ایک دوسرے کے چہرے دیکھ کر بہت خوش تھے ۔ پھر ہم نے زوم ، واٹس ایپ اور دیگر پلیٹ فارم سیکھنے شروع کئے ۔ Covid کی وجہ سے مشکلات پر قابو پانا سیکھا ۔
میں کئی مہینوں تک شمالی کینیا میں پھنسا رہا جہاں انٹر نیٹ کی رفتار بہت خراب تھی ۔مجھے بنیادی DMM تربیت کا پہلا دن یاد ہے ۔ دنیا بھر سے 130 لوگ ہمارے ساتھ شامل ہوئے تھے اور اچانک میرے انٹر نیٹ نے کام کرنا چھوڑ دیا ۔ مجھے کسی قسم کا سگنل نہیں مل رہا تھا۔ سو میں اپنی گاڑی میں بیٹھا اور ادھر اُدھر ڈرائیو کر کے سگنل کی تلاش میں لگا رہا ۔ آخر کار ایک چھوٹے سے ائیر پورٹ پر مجھے سگنل ملا جو اُس پورے علاقے میں واحد جگہ تھی جہاں سگنل موجود تھا ۔ لوگ مجھے گھور تے ہوئے سوچتے تھے: “یہ پاگل شخص ایک کمپیوٹر پکڑے ہوئے اس میدان میں کیا کر رہا ہے ؟”میں شرمندہ تو تھا لیکن میں یہ کرنے کے لئے تیار تھا ۔ جب سگنل وصول کرنےکے بعد میرا رابطہ بحال ہوا تو لوگ پہلے ہی گفتگو کے وسط میں تھے لیکن وہ خوش تھے کہ میں دوبارہ رابطہ قائم کرنے کے قابل ہو گیا تھا ۔مجھے بہت بُرا لگا کیونکہ یہ تربیت کا پہلا دن تھا ۔ لیکن ہم نے ہر وہ طریقہ استعمال کیا جس کے ذریعے ہم لوگوں کے ساتھ رابطے میں رہنے کے طریقے سیکھ سکیں ۔
ہم نے ٹریننگ کے اسباق ریکارڈ کر کے اپنی ٹیموں کو بھیجنے شروع کئے ۔ ہم اُسی پلیٹ فارم کے ذریعے اپنے تمام ملکی راہنماؤںیا اپنے تمام کوارڈینیٹر ز کے ساتھ مل کر ڈسکوری بائبل سٹڈی کرنے کے قابل ہو گئے ۔ جب ہم نے زوم استعمال کرنا شروع کیا تو تب ہماری نشوونما شروع ہوئی ۔ ہم نے دنیا بھر سے 115 لوگوں کے ساتھ DMM کی نو ہفتے کی تربیت شروع کی ۔ ہمارے ساتھ ہندوستان ، سری لنکا ، انڈونیشیا ، جنوبی امریکہ اور دیگر کئی جگہوں کے لوگ شامل تھے۔ وہ تمام لوگ جنہیں ہم کبھی نہیں ملے تھے وہ نو ہفتے تک ہمارے ساتھ رہے اور ہمیں ایسے شریکِ کار بھی مل گئے جو آج بھی ہمارے ساتھ ہیں ۔
ایسی بہت سی مشنری تنظیمیں اور عالمی ٹیمیں تھی جو پہلی سطح کے تربیتی کورسز کے لئے اپنے مشنریوں کو ہمارے پاس لائیں اور پھر اُس کے بعد دوسری سطح کی تربیت اور راہنمائی کی کلاسز کے لئے بھی ہمارے ساتھ شامل رہی۔ یہ سلسلہ افریقہ سے بڑھ کر زیادہ علاقوں میں پھیل گیا ۔ خُد انے COVID19 کو استعمال کر کے ہمیں دوسرے لوگوں سے ملایا اور یہ ہماری تربیت کے ذریعے مسیح کے عالمی بدن کے لئے بہت بابرکت ثابت ہوا ۔
ہم ہر سال DMM کا ایک عالمی تحریک کا کیمپ منعقد کرتے ہیں ۔ اکتوبر میں ہم نے سوچا ،” کیوں نہ ہم اس مرتبہ اسے انٹر نیٹ پر کریں ؟ ” ہمیں معلوم نہیں تھا کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا لیکن اس کیمپ میں تین دن تک 27 مختلف ملکوں کے لوگ ہمارے ساتھ شامل رہے یہ چند حیرت انگیز طریقے تھے جن کے ذریعے خُدا نے ٹیکنالوجی کے استعمال کے وسیلے سے ہماری منسٹر ی کی حدوں کو وسیع کیا ۔
میں توقع کرتا ہوں کہ ٹیکنالوجی کا یہ بڑھتا ہوا استعمال آگے بھی جاری رہے گا ۔ہم پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھیں گے ۔ہم اب بھی رُوبرُو کوچنگ اور مقامی رابطوں کو ترجیح دیتے ہیں ،لیکن آگے بڑھنے کا طریقہ یہی ہے کہ ،ایسے لوگوں کے ساتھ جن سے ہم روایتی طریقوں پر نہیں مل سکتے ، نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کریں ۔ مثال کے طور پر گذشتہ ہفتے میں نے DMM کی ایک کوچنگ کا آغاز کیا جو ایک گھنٹے کی تھی ۔ دراصل میں سِکھا نہیں رہا تھا بلکہ سہولت کاری کر رہاتھا ۔ میں ایسا کیوں نہ کروں جب خُدا نے مجھے یہ وسیلہ عطا کیا ہے؟ ماضی میں میں صرف کینیا یا آس پاس کے علاقے کے لوگوں سے مل سکتا تھا اب میں شمالی ہندوستان کی ایک ٹیم سے بات کر رہا ہوں اور پانامہ سٹی کی ایک ٹیم کی کوچنگ کر رہا ہوں ۔ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں میں کبھی نہیں گیا ۔یہ سب کچھ میں نے نئی ٹیکنالوجی کے پلیٹ فارمزکے استعمال کا طریقہ سیکھ کر کیا جس سے خُدا کی بادشاہی کو وسعت ملی ہے ۔
سیکھے ہوئے دو سبق ، جنہیں ہم مستقبل میں استعمال کر سکتے ہیں
سب سے پہلے ہم نے یہ سیکھا کہ بد ترین حالات میں بھی اچھے نتائج مل سکتے ہیں ،سو ہمیں بُرے حالات میں حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے ۔ خُد ابُرے حالات میں اپنی مرضی کے اچھے نتیجے لا سکتا ہے۔ ہم نتائج کے لئے خُدا کے طرف دیکھتے ہیں کیونکہ نتیجوں کا انحصار خُدا پر ہوتا ہے نہ کہ حالات پر ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بُرے حالات کو وہ کچھ نہیں چھیننے دیتے جو خُدا نے ہم کو دیا ہے ۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ راہنماؤں کو مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے کے لئے بہت آگے کی سوچ رکھنی ہوتی ہے ۔لیکن یہ سوچ دعا اورخُدا پر بھروسے سے آتی ہے ،کیونکہ روح القدس ہماری راہنمائی کرتا ہے ۔
اعمال کی کتاب میں ہم دیکھتے ہیں کہ رسولوں یا چرچ کو جب بھی چیلنجز یا مسائل یا ایذارسانی کا سامنا ہوا تو انہوں نے دعا کی ۔ اکثر ہم ایک ایسا مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ وہ ہمارے بس سے باہر ہے ۔ راہنماؤں کی حیثیت سے ہم دعاکرتے ہیں کہ خُدا کسی مسئلے کے حل کے لئے وہ راستے دِکھا ئے جو ہمیں نظر نہیں آ رہے ہوتے ۔ بد ترین صورت حال میں بھی روح القدس ہمیں آگے بڑھانے کے لئے نئے راستے دِکھا سکتا ہے ۔
ڈاکٹر آیلا ٹسے لائف وے مشن انٹر نیشنل (www.lifewaymi.org ) کے بانی اور ڈائریکٹر ہیں ۔یہ منسٹری 25 سال سے زائد عرصے سے نارسا لوگوں کے درمیان کام کر رہی ہے۔ آیلا ،افریقہ اور دنیا بھر میں DMM کی کوچنگ اور تربیت کرتے ہیں ۔ وہ مشرقی افریقہ کی CPM نیٹ ورک کا حصہ ہیں اور مشرقی افریقہ اور جنوبی افریقہ کے لئے نیو جنریشنز کے علاقائی کوارڈینیٹر بھی ہیں
