Categories
حرکات کے بارے میں

بائبل میں مذ کور تحریکیں

بائبل میں مذ کور تحریکیں

– جے۔ سناڈ گراس –

تحریکیں ۔مشن کی دنیا میں اس لفظ کو سنتے ہی بہت سے ردعمل سامنے آتے ہیں۔ کیا اس کے حامیوں کے خیال کے  مطابق یہ ارشادِاعظم کا مستقبل ہے؟ یا یہ محض ایک  وقتی جنون ہے ؛یا ایک خواب جسے چرچ کی تخم کاری کرنے والے بہت سے لوگ دیکھتے رہے ہیں ۔ سب سے اہم سوال یہ ہے ،” کیا تحریکیں بائبل سے مطابقت رکھتی ہیں “؟

اعمال کی کتاب میں لوقا نے کلام کے حیرت انگیز رفتار سے پھیلاؤکا ذکر کیا ہے۔ لوقا کایہ بیان دراصل تحریکیوں کے لئے ایک معیار طے کر دیتا ہے ۔ اعمال کی کتاب میں لوقا ” یروشلیم اور تمام یہودیہ اور سامریہ  اور زمین کی انتہا تک ” کلام کے پھیلاؤ کا ذکر کرتا ہے۔ جن لوگوں نے پینتکوست کے موقع پر پطرس کی باتیں سن کر اُس کا کلام قبول کیا، انہوں نے بپتسمہ لیا، اور اُسی دن 3000 ہزار آدمیوں کے قریب اُن میں مل گئے ( اعمال41: 2)۔ یروشلیم میں چرچ پھلتا پھولتا رہا کیو نکہ ” جو نجات پاتے تھے اُن کو خُداوند ہر روز اُن میں ملا دیتا تھا ” ( اعمال 2:47)۔ جب پطرس اور یوحنا مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی خوشخبری دے رہے تھے ،”  کلام کے سُننے والوں میں سے بہتیرے ایمان لائے یہاں تک کہ مردوں کی تعداد پانچ ہزار کے قریب ہو گئی ۔” ( اعمال 4:2،4)۔ کچھ  ہی  دیرکے بعد لوقا بتاتا ہے کہ ” ایمان لانے والے مرد اور عورت  خُداوند کی کلیسیا میں اور بھی کثرت سے آ ملے “( اعمال 5:14) اور پھر اُس کے بعد ،” خُدا  کا کلام پھیلتا رہا اور یروشلیم میں شاگردوں کا شمار بہت ہی بڑھتا گیا ۔ “( اعمال 7: 6) 

جب کلام یروشلیم سے باہر پھیلا تو یہ ترقی اور افزائش جاری رہی۔ ” تمام یہودیہ اور سامریہ میں کلیسیا کو چین ہو گیا اور اُس کی ترقی ہوتی گئی اور وہ خُداوند کے خوف اور روح القدس کی تسلی پر چلتی اور بڑھتی جاتی تھی “( اعمال 31: 9) جب ستفنس  پر پڑنے والی مصیبت کے بعد بکھر جانے والے لوگ انطاکیہ آئے تو انہوں نے وہاں یونانیوں کو بھی خوشخبری دی۔” اور خُداوند کا ہاتھ اُن پر تھا اور بہت سے لوگ ایمان لا کر خُداوند کی طرف رجوع ہوئے “( اعمال21: 11) اور وہاںپیچھے                   یہودیہ میں ” خُدا کا کلام ترقی کرتا اور پھیلتا گیا ” 

( اعمال 24: 12) ۔

جب روح القدس اور اانطاکیہ کی کلیسیا نے پولوس اور برنباس کو خدمت کے لئے جُدا کیا تو انہوں نے  پسدیہ کے انطاکیہ میں کلام کی منادی کی غیر قوموں  نے کلام خوشی خوشی سُنا اور ایمان لے آئے ” اور اُس تمام علاقہ میں خُدا کا کلام پھیل گیا ” ( اعمال 49: 13)۔ بعد میں پولوس سیلاس کے ساتھ دوسرے سفر کے دوران دربے اور لُسترہ کی کلیسیا ؤں میں دوبارہ آیا ،” پس کلیسیائیں ایمان میں مضبوط اور شمار میں روز بروز زیادہ ہوتی گئیں ” ( اعمال 5 : 16)۔ افسس میں خدمت کے دوران پولوس ہر روز تُرنس کے مدرسہ میں بحث کیا کرتا تھا ،”یہاں تک کہ آسیہ کے رہنے والوں یا یہودی کیا یونانی سب نے خُداوند کا کلام سُنا “( اعمال 10: 19)۔ جب افسس میں کلام کو ترقی ملی تو ،” خُداوند کا کلام زور پکڑ کر پھیلتا اور غالب ہوتاگیا ” ( اعمال 20: 19) ۔آخر میں پولوس کے یروشلیم واپس آنے پر سب بزرگوں نے پولوس کو بتایا “کہ یہودیوں میں ہزار ہا آدمی ایمان لے آئے ہیں اور وہ سب شریعت کے بارے میں سر گرم ہیں “(  اعمال 20: 21) ۔

مشنری سفروں کے اختتام پر ایمانداروں کی تعداد جو ابتدا میں 120 تھی ،اور یروشلیم میں اکٹھی ہوتی تھی ( اعمال 15: 1)، وہ بڑھ کر ہزاروں میں پہنچ چکی تھی جو کہ شمال مشرقی سمندر کے آس پاس ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ یہ ایماندار اب چرچز میں اکٹھے ہوتے تھے اورتعداد اور ایمان میں بڑھتے چلے  جا رہے  تھے ( اعمال        16:5) یہ چرچز منادی اور کلیسیاؤں کی تعمیر کے کام میں پولوس کی مددکے لئے مزدور بھی بھیج رہے تھے ( اعما ل  13: 1-3 ،   1-3 16:، 4: 20) یہ سب کچھ تقریبا 25 سال کے عرصے میں مکمل ہو گیا ۔ 

ایک تحریک یہی  ہوتی ہے۔ اعمال کی کتاب میں کلام کی  اس ابتدائی تحریک کا ذکر موجود ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اُن شاگردوں اور کلیسیاؤں کا ذکر بھی ہے جو اس کے نتیجے میں ابھریں ۔ اُس تحریک کے بارے میں اب ہم کیا کہہ سکتے ہیں اور ہماے آج کے دور میں مشنری کام کے لئے وہ تحریک کیا اہمیت رکھتی ہے ؟ سب سے پہلے یہ روح القدس کا کام تھا جس نے : 

آغاز کیا :  (اعمال   2: 1-4   ) 

تیزرفتاری دی : (اعمال    2:47 ،                            4: 7-8، 4:29-31  ،اعمال    7:55،  ( 10:44-46

راہنمائی کی : (اعمال   8:29 ،  13:2 ، 15:28 ، 16:6-7 ، 20:22 )            اور 

تسلسل اور بقا بخشی: ( اعمال 9:31 ،  13:52،  20:28 ، رومیوں 15:19 )

“دوسری بات یہ کہ یہ تحریک مسیح کے کلام کی منادی اور گنہگاروں کے خُدا کے پاس آنے سے بڑھی۔ (اعمال       2:14- 17، , 21-24 ،3:12-26،       

4:5-12،   7:51-53 ،  8:5-8, 26-39 ،  10:34- 43 ،  13:5 ،  13:16-42 ،  14:1,6-7 ،    16:13,32 ،  17:2,3, 10,11, 17 ،  18:4 ،  19:8-10 )

کلام میں نجات کے لئے خُدا کی قدرت ہے ( رومیوں   1:16) اور ” خُداوند کا کلام زور پکڑ کر پھیلتا اور غالب ہوتا گیا “( اعمال     19:20) 

اور نئے علاقوں میں تحریکوں کو پھیلاتا چلا گیا ۔

تیسری بات یہ کہ اس کے ذریعے نئے علاقوں میں نئے چرچ قائم ہوئے جو کہ ایک بہت بڑے جغرافیائی علا قے پر پھیلے ہوئے تھے (یروشلیم سے لے کر سارے الرکم تک ۔  (اعمال   14:21-22 ، 16:1,40 ،  17:4,12,34 ،  18:8-11 ،  19:10 ،  20:1,17 )

چو نکہ یہ تمام چرچ ایمان میں فرمانبردار رہے ( رومیوں   15:19) تو یہ بہت حدوں تک خُدا کے عظیم کام میں شامل رہے ۔

اعمال کی کتاب سے حاصل ہونے والی تصور کے مطابق ہم بائبل میں مذکور تحاریک کی تعریف کچھ اس طرح سے پیش کر سکتے ہیں: روح القدس کی قوت سے بیک وقت کئی علاقوں اور قوموں میں کلام کا پُرجوش پھیلاؤ اور ترقی۔ اس میں نئے ایمانداروں کا بڑی تعداد میں اکٹھا ہونا ، ایمان کی پُر جوش منتقلی، اور شاگردوں کلیسیاؤں اور راہنماؤں  کی افزائش در افزائش شامل ہے۔

 اب جو تصویر ہمیں یہاں ملتی ہے اُس کے نتیجے میں یہ سوال سامنے آتا ہے :” اب یہاں اور آج کیوں نہیں؟” کیا بائبل میں ایسی وجوہات موجود ہیں  جن کے ذریعے ہم یہ یقین کر لیں کہ ویسی تحریکوں کے عناصر اب ہمارے پاس دستیاب نہیں ؟ یا اعمال میں مذکور تحریکوں جیسی تحریکیں آج پھر سے جنم نہیں لے سکتیں ؟ کلام اور روح القدس تو ہمارے پاس بھی وہ ہی ہے جو اُن کے  پاس تھا ۔ ہمارے پاس اعمال کی کتاب کی تمام  تحریکوں کی روداد موجود ہے اور ہم خُدا کے اس وعدے پر اعتبار کر سکتے ہیں :” کیوں کہ جتنی باتیں پہلے لکھی گئیں وہ ہماری تعلیم کے لئے لکھی گئیں تاکہ صبر سے اور کتاب مقدس کی تسلی سے امید رکھیں” ( رومیوں     15:4)  

کیا ہم یہ امید کرنے کی جرأت کر سکتے ہیں کہ ویسی تحریکیں جن کا ذکر اعمال کی کتاب میں ہے وہ آج بھی زندہ ہوسکتی ہیں ؟ دراصل ایسا ہو چکا ہے ! آج ہم پوری دنیا میں پھیلی ہوئی سینکڑوں تحریکیں دیکھ رہے ہیں !

جے سناڈ گراس  گذشتہ 12 سال سے جنوبی ایشیا  میں چرچز کی تُخم کاری اور اِس کی تربیت دے رہے ہیں۔   اُنہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ مِل کر ہندوؤں اور مسلمانوں میں کئی چرچز قا ئم  کئے اور تربیت دی۔  وہ ایپلائیڈ تھیالوجی میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ 

مشن فرنٹئیرز        www.missionfrontiers.orgکے جنوری-فروری 2018  کے شمارے میں صفحہ  نمبر 28-26 پر شائع ہونے والے مضمُون سے   ماخُوذ اور تلخیص شدہ۔   24:14 – A Testimony to All Peoples  کے صفحات 169-156 پر بھی شائع ہُوا۔          24:14     یا           Amazonپر بھی دستیاب ہے۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے