Categories
حرکات کے بارے میں

افریقہ کی ایک تحریک میں موجودہ چرچزکا کردار

افریقہ کی ایک تحریک میں موجودہ چرچزکا کردار

شالوم –

موجودہ مقامی چرچز شاگرد سازی کی تحریک میں  ایک اہم کردار اداکرتے ہیں۔ اپنی منسٹری کی ابتدا سے ہی ہم نے اس اصول کو اپنا لیا کہ منسٹری میں ہم جو کچھ بھی کریں، ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ چرچ سر گرم طور پر بادشاہی کی منادی کی منسٹری میں شامل ہو۔ اکثر اوقات لوگ سوچتے ہیں ، ” اگر ایک چرچ روایتی نہ ہو تو موجودہ چرچز اُسے قبول نہیں کریں گے ” ۔لیکن میرا خیال ہے کہ اس میں کلیدی عنصر تعلق ہے۔ ہم چرچ کے راہنماؤں تک ہر سطح پر رسائی کرتے ہیں اور ایک عظیم مقصد سے انہیں آگاہ کرتے ہیں: ارشاداعظم ۔ یہ کسی بھی مقامی چرچ کسی بھی علاقائی وابستگی یا کسی بھی تناظر سے بڑھ کر ہے ۔اگر ہم محبت ، تعلق اور بادشاہی کے پُر خلوص تصور کے  جذبے  کے ساتھ اُنہیں آگاہ کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ چرچز ہماری بات سُنتے ہیں ۔

ایک علاقے میں ہمارے پاس 108 مقامی گروپوں کے ساتھ رسمی شراکتیں موجود ہیں۔ اُن میں سے کچھ مقامی چرچز ہیں اور کچھ علاقائی منسٹریاں ہیں۔ ابتداسے ہی ہم نے اُن کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کے ذریعے رابطہ کیا ۔ہم نے ارشاداعظم کی ذمہ داری کے بارے میں بات کی اور اُس کے بعدپھر ہم چرچ کے ذمہ دار لوگوں کے ساتھ رسمی گفتگو کرنے لگے۔ اگر وہ کھُلے ذہن کے ہوں تو ہم ابتدا ئی طور پر اُن کے لئے تربیت کا انتظام کرتے ہیں، جو کہ 2 سے 5 دن کی ہوتی ہے۔ ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ وہ مناسب لوگوں کو دعوت دیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ 20 فیصد لوگوں کا تعلق راہنماؤں سے ہو اور 80 فیصد لوگ سر گرم کارکن ہوں ۔یہ تناسب بہت اہم ہے۔ اگر ہم صرف راہنماؤں کو تربیت کریں تو عموما وہ  اتنے مصروف ہوتے ہیں  کہ پُر خلوص ارادہ رکھتے ہوئے بھی  انہیں سیکھی ہوئی چیزوں پر عمل کرنے کا وقت نہیں ملتا۔ اگر ہم صرف فیلڈ کے راہنماؤں یا چرچ قائم کرنے والوں کو تربیت دیں پھر بھی عملی طور پر اطلاق مشکل ہو گا کیو نکہ چرچ کے راہنما نہیں سمجھ سکیں گے کہ کیا کرنے کی ضرورت ہے ۔اس لئے ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ فیصلہ ساز اور سر گرم  کارکنان، دونوں کی بیک وقت تربیت کی جائے ۔

سب سے پہلے ہم دلی معاملات پر توجہ دیتے ہیں۔ ہم ارشاد اعظم ، نا مکمل ذمہ داری اور چیلنج کے بارےمیں بات کرتے ہیں۔ پھر ہم مواقع اور ارشاداعظم کےتکمیل کے طریقے پر بات کرتے ہیں  ۔یہیں پر شاگرد سازی کے تحریکوں  کی حکمت عملی سامنے آتی ہے ۔ آخری سوال یہ ہوتا ہے کہ” ہم مل کر اس بارے میں کیا کریں گے ؟ ” 

تربیت دینے کے بعد ہم ہمیشہ اُس کی جائزہ  کاری  کرتے ہیں اور اس عمل میں فیصلہ سازوں کو شریک کرتے ہیں۔ چرچ کے ساتھ مل کر محض ایک تربیتی سیشن ہی ہمارا حتمی مقصد نہیں ہوتا۔ ہم اُن کے ساتھ ایک لمبے سفر پر چلنا چاہتے ہیں ۔ہم اپنے سامنے ایک مقصد رکھتے ہیں  کہ اُن کے اندر شعلہ جلایا جائے، انہیں تیز رفتاری دی جائے اور شاگرد سازی کی تحریکوں کو تسلسل دیا جائے۔  ہم شعلہ جلانےکے بعد بھی ر ُک نہیں جاتے۔ ہم انہیں تیز رفتاری اور تسلسل دیتے رہتے ہیں۔

تربیتوں کے بعد ہمارے حکمت عملی کے کوارڈینیٹر اوربنیادی تربیت کے کوارڈینیٹر جائزہ کاری کرتے ہیں۔  ہر تربیت کے بعد ایک ایکشن پلان مرتب کیا جاتا ہے۔ تربیت حاصل کرنے والے ہر فرد کے ساتھ ساتھ چرچ اور ہماری منسٹری کو بھی اس ایکشن پلان کی ایک کاپی دی جاتی ہے۔ اس پلان میں چرچ کے رابطے کے فرد کا نام اور فون نمبر موجود ہوتا ہے۔ پھر اُس کے بعد ہمارے راہنما فون پر رابطے کے ذریعے جائزہ کاری کرتے ہیں۔ یہ جائزہ وہ تربیت میں شامل ہونے والے شُرکا اور چرچ کے رابطے کے افراد سے معلومات حاصل کر کے مرتب کرتے ہیں۔ پھر 3 ماہ بعد ہم جائزہ کاری کے لئے ایک رسمی دعوت دیتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ہمارے پلان پر عمل درآمد کے سلسلے پر کیا کچھ ہوا ۔

اُس کے بعد ہم منسٹری کے کام میں آگے بڑھتے ہوئے لوگوں کے ساتھ سلسلے جاری رکھتے ہیں۔ ہم تعلقات سازی کو یقینی بناتے ہیں اور تربیت ، کوچنگ اور راہنمائی فراہم کرتے رہتے ہیں ۔ہم اُن کا رابطہ اُس علاقے میں اپنے فیلڈ کے کارکنوں سے کراتے ہیں تاکہ اُن کی حوصلہ افزائی کے لئے ایک نیٹ ورک موجود ہو ۔پھر ایسے افراد کو جو ایک خاص حد تک صلاحیت ظاہر کرتے ہیں  ، ہم حکمت عملی کے کوارڈینیٹر اُس علاقے کے لئے مقرر کردیتے ہیں  ۔

جب اُن میں سے کچھ لوگ پلان کا اطلاق کرنے لگتے ہیں تو اُن کی رپورٹ فیلڈ سے ہوتی ہوئی اُن کے چرچ تک جاتی ہے۔ چرچ کو اُس کی تصدیق کرنا ہوتی ہے۔ ہم چرچ کو نظر انداز نہیں کرنا چاہتے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ چرچ منسٹری کی کاروائی میں شریک ہو۔ اس سے چرچ کو ملکیت کا احساس ہوتا ہے اور رشتوں میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے ۔ 

ہم ہمیشہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں  کہ تمام پیش رفت سے چرچ کے راہنماؤں کو آگاہ کیا جاتا رہے۔  کچھ نارسا گروپوں تک پہنچنا بہت حساس معاملہ ہوتا ہے ۔ایسے علاقوں میں  عین ممکن ہے کہ چرچ تحریک کی پیش رفت میں براہِ راست  شامل نہ ہونا چاہے۔ لیکن پھر بھی چرچ منسٹری کے لئے دعا کرتا ہے اور مناسب طریقوں سے مدد بھی کرتا ہے۔ چرچ نئے چرچز کے قیام میں بھی مدد دیتا ہے اور عبادت کے وہ طریقے سکھاتا ہے جو نئے ایمانداروں کی تہذیبی روایات سے مناسبت رکھتے ہیں ۔

اس عمل میں ہم موجودہ چرچز کے پہلے سے موجود منسٹری کے طریقوں کو چیلنج نہیں  کرنا چاہتے، کیو نکہ اس طرح وہ خطرے کی زد میں نظر آنے لگتے ہیں ۔موجودہ چرچ اپنے روایتی  طریقے پر چلتا رہتا ہے ۔ہمارے مشن کی ترجیح نارساؤں تک رسائی ہے ہمارے طریقۂ          کار کی تبدیلی کا ہدف نارسا لوگ ہیں۔ سو ہم چرچ  کو نارساؤں تک پہنچنے کا چیلنج دے کر تربیت اور وسائل فراہم کرتے ہیں ۔ہم واضح طور پر بتاتے ہیں کہ چرچ کے عمومی طریقہ ٔ            کار نارسا لوگوں کو سر گرم کرنے میں ناکام ثابت ہوں گے۔ ہم چاہتے ہیں  کہ وہ بھی تحریکوں کی سوچ اپنائیں اور اسی طریقہ کار کے ذریعے نارسا لوگوں تک پہنچیں ۔

اکثر اوقات یہ نئی سوچ پورے چرچ کی تبدیلی  کا باعث بن جاتی ہے۔ چرچ کے کچھ راہنما بھی سر گرم کارکن اور تحریکوں کے راہنما  بن جاتے ہیں۔ سو کبھی کبھی یہ نئی سوچ مقامی چرچز کو براہِ راست متاثر کر دیتی ہے۔ لیکن یہ ایک ضمنی نتیجہ ہے اور ہمارا بنیادی ہدف نہیں ہے۔ 

موجودہ چرچز کے ساتھ شراکت کاری ایک اہم عنصر ہے جس نے ہمیں شاگرد سازی کی تحریکوں کو تیزرفتار بنانے میں مدد دی ہے۔ ہم سب کا تعلق انہی چرچز سے ہی ہے اور ہمارا مقصد دیگر چرچز کو متاثر کرنا اور نئے چرچز کی ابتدا کرنا ہے۔ سو ہم خُداوند کی تمجید کرتے ہیں کہ وہ موجود چرچز میں حاضر ہے اور اُن کے ذریعے کام کرتے ہوئے نارسا قوموں کے درمیان نئے چرچز کے قیام کی تحریکیں چلا رہا ہے   ۔

شالوم (عرفیت) افریقا میں تحریکوں کے ایک رہنُما ہیں جو گذشتہ 24 سال سے بین التہذیبی منادی میں مشغول ہیں۔ اُن کا دِلی جذبہ ہے کہ وہ افریقا اور اُس سے باہر نا رسا  گروہوں میں شاگرد سازی کی تحریکوں کو اُبھرتا، رفتار پکڑتا اور تسلسل پاتا دیکھیں۔

یہ مضموُن  ابتدائی طور پر  24:14 – A Testimony to All Peoples  میں صفحات 263- 266  پر شائع ہوا اور 24:14  اور Amazon    پر بھی دستیاب ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے