Categories
حرکات کے بارے میں

شاگردسازی کی تحریکوں کے خواص رکھنے والےمُختصر گروپ۔حصہ دوم

شاگردسازی کی تحریکوں کے خواص رکھنے والےمُختصر گروپ۔حصہ دوم

پال واٹسن –

حصہ اول میں ہم   نےافزائش پانے والے اور قابلِ افزائش چرچز میں بدل  جانے والے گروپوں کے چار  خواص پر بات کی تھی۔ بقیہ لازمی خواص یہ ہیں۔

فرمانبرداری 

جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ فرمانبرداری شاگرد سازی کی تحریکوں کا ایک لازمی عنصر ہے ۔ چھوٹے سے چھوٹے گروپوں،حتیٰ کہ  کھوئے ہوئے لوگوں کے گروپوں میں بھی فرمانبرداری ہونا لازمی ہے ۔ وضاحت کے لئے آپ کو بتا دوں کہ ہم کھوئے ہوئے لوگوں کی جانب دیکھ کر اور انگلی اُٹھا کر یہ نہیں کہتے ،” آپ پر لازم ہے کہ کلام کے ان الفاظ کی پوری طرح تعمیل کریں ” اس کی بجائے ہم پوچھتے ہیں ،” اگر آپ یقین رکھتے ہیں کہ یہ خُدا کے الفاظ ہیں  تو آپ ان الفاظ کو اپنی زندگیاں بدلنے کے لئے کیسے استعمال کریں گے ؟” یا درکھیے کہ وہ ابھی تک خُدا پر ایمان نہیں لائے اس لئے ” اگر ” کا لفظ بالکل قابلِ قبول ہے۔

جب وہ مسیح کے پیچھے چلنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو آپ اس سوال میں تھوڑی سی تبدیلی لاتے ہیں ، ” چونکہ آپ کا ایمان ہے کہ یہ خُدا کے الفاظ ہیں ، تو آپ اپنی زندگی میں تبدیلی لانے کے لئےانہیں  کیسے استعمال کریں گے ؟”  چونکہ وہ ابتدا سے ہی یہ سوال پوچھ رہے ہوتے ہیں ،اس لئے نئے ایمانداروں کو خُدا کے کلام کی تعمیل میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی نہ ہی انہیں یہ سمجھنے میں مشکل پیش آئے گی کہ خُدا کا کلام اُن سے کیا چاہتا ہے اور خُدا کاکلام ان سے کیا کچھ بدلنے کا تقاضا کرتا ہے ۔

احتساب 

گروپ کی خصوصیات میں احتساب کی شمولیت کا آغاز دوسری میٹنگ سے ہو جاتا ہے ۔گروپ کی طرف دیکھیے اور پوچھیں  ، ” آپ لوگوں نے کہا تھا کہ آپ اس ہفتے فلاں کام کرنےمیں مدد دیں گے۔ یہ سب کیسا رہا ؟” یہ بھی پوچھیں ،” آپ میں  سے بہت سے لوگوں نے اپنی زندگی کے اُن پہلوؤں کی نشاندہی کی تھی جنہیں آپ تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ کیا آپ نے انہیں تبدیل کیا ؟ تبدیلی کا یہ عمل کیسارہا ؟” اگر انہوں نے اس سلسلے میں کچھ بھی نہ کیا ہو تو اُن کی حوصلہ افزائی کیجیے کہ اس مرتبہ وہ ایسا کرنے کی کوشش  کریں اور اگلی ملاقات میں اس بارے میں  آپ کو آگاہ کریں۔ اس بات پر زور دیجیے  کہ پورے گروپ کے لئے یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ ہم مل کر ایک دوسرے کی کامیابیوں پر خوشی منائیں ۔

ابتدامیں سب اس پر حیرت زدہ ہوں گے۔  وہ اس کی توقع نہیں کر رہے ہوتے۔ تاہم دوسری ملاقات میں بہت سے لوگ تیار ہو جائیں گے۔ تیسری ملاقات کے بعد ہر ایک یہ جان لے گا کہ آگے کیا ہونا ہے اور اُس کے لئے تیار رہے گا ۔ یقینا یہ عمل اُس وقت بھی جاری رہے گا جب سب لوگ بپتسمہ پا چکے ہوں گے ۔

عبادت 

آپ بھٹکے ہوئے لوگوں سے اُس خُدا کی عبادت کرنے  کا نہیں کہہ سکتے جس پر وہ ایمان نہیں رکھتے۔ نہ ہی آپ کو چاہیے کہ آپ انہیں جھوٹے انداز میں وہ گیت گانے پر مجبور کریں  جن پر وہ ایمان نہیں رکھتے ۔لیکن اس کے باوجود گروپ کی خصوصیات میں عبادت کا عنصر قائم کرنا اور عبادت کا بیج بونا ممکن  ہے ۔

جب وہ اُن چیزوں کے بارے میں  بات کرتے ہیں جن کے لئے وہ شکر گزار ہیں، تو یہ عبادت کا ایک انداز بن جاتا ہے جب وہ کلام سُننے کے جواب میں اپنی زندگیوں میں تبدیلیاں لاتے ہیں  تو یہ بھی عبادت کا ہی ایک انداز ہے  ۔جب وہ اپنے معاشروں میں  لانے والی تبدیلیوں  پر خوشی منا رہے ہوتے ہیں ، تو یہ بھی عبادت بن جاتی ہے ۔ 

حمد وثنا اور عبادت کے گیت عبادت کا لازمی حصہ نہیں ہیں ۔عبادت تو خُدا کے ساتھ ایک تعلق کا نام ہے۔ خُدا کی حمد وثنا کے لئے گیت گانا خُدا کے ساتھ ہمارے تعلق سے حاصل ہونے والی خوشی کا اظہار ہے ۔ یقیناً بالآخر وہ حمد وثنا کے گیت گانے لگیں گے  ۔ تاہم عبادت کی خصوصیت گیت گانے سے بہت پہلے ہی گروپوں میں  قائم کرنا بہت لازمی ہے ۔



خُدا کا کلام 

خُدا کا کلام گروپوں کی میٹنگ کا مرکزی حصہ ہے۔ گروپ میں  شامل لوگ کلام پڑھتے ہیں اُس پر بات چیت کرتے ہیں ،ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کلام کے اقتباسات یاد کرتے ہیں اور کلام پر عمل کے لئے حوصلہ افزائی پاتے ہیں ۔ کلام کسی بھی استاد کے مقابلے میں ثانوی حیثیت نہیں رکھتا ۔کلام سب سے بڑا استاد ہے ۔اس پر ہم گروپوں کی خصوصیات اور لازمی عناصر کے اگلے حصے میں  مزید بات کریں گے ۔

دریافت

بھٹکے ہوئے لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم کلام کی وضاحت سے گریز کریں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ایسا دکھائی دے گا کہ ہم استاد  اور اختیار کے حامل ہیں  ۔اور یوں ہمارے بغیر کلام کا پھیلاؤاور تقلید مشکل ہو جائے گی ۔اس کے نتیجے میں مزید گروپ تشکیل نہیں پا سکیں گے اور نہ ہی اُن کے نتیجے میں مزید گروپوں کی افزایش ہو گی

 یہ کافی مشکل کام ہے۔ ہمیں تعلیم دینا بہت اچھا لگتا ہے۔ ہم سوالوں کے جواب جانتے ہیں اور ہم دوسروں کو تعلیم دینا پسند کرتے ہیں۔  لیکن اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم ایسے شاگرد تخلیق کریں جو اپنے سوالوں کے جوابوں کے لئے  کلام اور روح القدس کی جانب دیکھیں، تو پھر ہمیں اس کردار کو چھوڑنا ہو گا ۔ ہمیں بس اُن کی مددکرنی ہے کہ وہ خود یہ دریافت کریں کہ خُدا اپنے کلام کے ذریعے اُن سے کیا کہتا ہے ۔

اس تصور کو مزید مستحکم کرنے کے لئے ہم باہر سے آ کر گروپوں کی ابتدا کرنے والے لوگوں کو ” سہولت کار “کہتے ہیں۔  وہ تعلیم نہیں دیتے بلکہ سہولت کاری کرتے ہیں۔ اُن کا کام ایسے سوالات پوچھنا ہے جن کے نتیجے میں  بھٹکے ہوئے لوگ کلام کا مطالعہ کرنے لگیں ۔کوئی ایک اقتباس پڑھنے کے بعد وہ پوچھتے ہیں  ،”  یہ الفاظ خُدا کے بارے میں  کیا بتاتے ہیں ؟” اور ،” یہ الفاظ انسانوں یا انسانیت کے بارے میں ہمیں کیا بتاتے ہیں ؟”اور ،” اگر آپ کو یقین ہے  کہ یہ خُدا کے الفاظ ہیں تو آپ اپنی زندگیاں تبدیل کرنے کے لئے کیا کریں گے ؟” دریافت کا عمل تقلید اور افزائش کے لئے انتہائی ضروری ہے ۔اگر گروپ خود ہی کلام  میں سے روح القدس پر انحصار کر کے جواب تلاش نہیں  کریں گے ، تو وہ توقعات کے مطابق  ترقی نہیں  کریں گے ۔اور عین ممکن ہے کہ اُن کی افزائش بالکل ہی نہ ہو سکے ۔

گروپ کی اصلاح 

ہمارے گروپوں  کے  زیادہ  ترراہنمااور چرچز کے راہنما کسی ادارے میں بائبل کی تربیت کے حامل نہیں ہیں۔ جب لوگ یہ سُنتے ہیں تو کہتے  ہیں کہ کیا اس میں  بدعت کا امکان نہیں ہے ؟ آپ ان گروپوں کو غلط راہ پر چلنے سے کیسے روک سکتے ہیں ؟ یہ بہت اہم سوالات ہیں ۔اور راہنماؤں کی حیثیت سے ہمیں  یہ سوالات پوچھنے بھی چاہیٔیں ۔

پہلی بات یہ ہے کہ ابتدا میں تمام گروپوں میں بدعت کی جانب چلے جانے کا رجحان ہوتا ہے ۔وہ خُدا کے کلام کے علاوہ کچھ زیادہ نہیں  جانتے۔ وہ خُدا کو دریافت کرنے کے عمل سے گزر رہے ہوتے ہیں جو انہیں فرمانبرداری در فرمانبرداری کی طرف لے جاتا ہے ۔لیکن ابتدا سےہی یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ سب کچھ جان لیں ۔ جب گروپ مزید کلام پڑھتے چلے جاتے ہیں تو وہ یہ بہتر طور جاننے لگتے ہیں کہ خُدا اُن سے کیا چاہتا ہے۔ سوا س طرح بدعت اور بھٹکنے کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں ۔یہ شاگرد سازی کا حصہ ہے ۔

اگر ہم یہ دیکھیں کہ وہ کلام سے بہت ہی دور جا بھٹکے ہیں ،تو ہم فوری طور پر ایک نیا اقتباس متعارف کرواتے ہیں  اور اُس اقتباس پر انہیں دریافتی بائبل سٹڈی کے عمل سے گزارتے ہیں۔ ( یاد رہے کہ میں نے سکھانے یا اصلاح کرنے کے الفاظ استعمال نہیں کیے ۔ اصلاح کرنے کے لئے روح القدس خود ہی  کلام کا استعمال کرے گا۔انہیں صرف کلام کے درست حصے کی جانب راہنمائی کی ضرورت ہو گی) اضافی مطالعہ کر لینے کے بعد وہ جان جاتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ اہم بات یہ  ہے کہ وہ کرتے بھی ہیں ۔

دوسری بات یہ، کہ بدعت کی ابتدا عموما ًزیادہ متاثر کُن راہنماؤں سے ہوتی ہے جو کچھ   حد تک تربیت یافتہ ہوتے ہیں  اور گروپ کو سکھاتے ہیں  کہ بائبل کیا کہتی ہے، اور انہیں اُس کی تعمیل کے لئے کیا کرنا ہے ۔ایسی صورت حال میں  گروپ راہنما کی تعلیمات قبول کر کے اُن پر عمل شروع کرتا ہے اور خود سے کبھی بھی کلام کے حوالہ جات دیکھنے کی زحمت  نہیں کرتا  ۔

تمام گروپوں  کو یہ سکھاتے ہیں کہ وہ کلام پڑھیں۔ پھر ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ گروپ کا ہر رکن اُس پر کیا ردِعمل دیتا ہے گروپوں کو ایک آسان سا سوال کرنا سکھایا جاتا ہے ۔ ، ” کلام کے اس حوالے میں آپ کیا دیکھتے ہیں؟” جب کو ئی فرمانبرداری  کے تصور پر مبنی کوئی عجیب سی بات کہتا ہے تو گروپ یہ ہی سوال پوچھتا ہے۔ جب کوئی کلام کے اس حوالے میں اپنی جانب سے کوئی تفصیلات شامل کرتا ہے تو گروپ یہ ہی سوال پوچھتا ہے ۔اس سوال کے نتیجے میں گروپ کے تمام ارکان  صرف اُسی حوالے پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں اور اپنے تاثرات اور فرمانبرداری کے تصور سے دوسروں کو آگاہ کرتے ہیں ۔

سہولت کار گروہی اصلاح کا نمونہ پیش کرتا ہے ۔سہولت کار کاکا م یہ بھی ہے کہ وہ نظروں  کے سامنے موجود حوالے پر توجہ مرکوز کئے رکھنے کو ممکن بنائے ۔

ایمانداروں کی کہانت 

نئے ایمان داروں اور ایسے لوگوں کو جو ابھی تک ایمان میں نہیں آئے، یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اُن کے اور مسیح کے درمیان کوئی اور تیسرا شخص موجود نہیں ہے ۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم وہ تما م رکاوٹیں دور کریں۔ اسی وجہ سے کلام ہی سب سے اہم سمجھا جانا چاہیے ۔اسی وجہ سے باہر سے آنے والے تعلیم دینے کی بجائے محض سہولت کاری کرتے ہیں۔  یہ ہی وجہ ہے کہ گروپوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ کلام پر عمل کرتے ہوئے خود اپنی اصلاح کریں ۔

جی ہاں، راہنما ضرور ابھر کر سامنے آئیں گے۔  ایسا ہونا قدرتی سی بات ہے۔ لیکن راہنمائی  محض اُن کے کردار کی بنیاد پر راہنمائی کہلاتی ہے ۔راہنما کسی بھی طرح روحانی طور پر یا طبقاتی نُکتۂ نظر سے  کوئی مختلف یا بلند تر طبقہ نہیں  ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے   کہ اُن کا احتساب اعلیٰ سطح پر ہوتا ہے ۔ لیکن یہ احتساب کسی بھی طور انہیں بلند تر درجہ عطا نہیں کرتا ۔

اگر ایمان داروں میں کہانت کا عنصر موجود نہ ہو تو آپ  ایک چرچ تخلیق نہیں کر سکیں گے اس لئے شاگرد سازی کے عمل میں اس مخصوص عنصر اور خصوصیت کو شامل کیا جانا ضروری ہے ۔

گروپوں کی میٹنگز میں ان لازمی عناصر ااور عوامل کو استعمال کرتے ہوئے ہم نے دیکھا ہے کہ بھٹکے ہوئے لوگ  یسوع کے فرمانبردار شاگرد بنتے ہیں جو جا کر نئے شاگرد بناتے ہیں اور نئے گروپوں کی تشکیل کرتے ہیں جو بعدازاں  چرچز بن جاتے ہیں ۔ 

    پال نے امریکہ اور کینیڈا میں شاگرد سازوں کی جماعت اور شاگرد سازی کے اصولوں کے اطلاق کے لئے کانٹیجٔس ڈیسا یٔپل میکنگ (www.contagiousdisciplemaking.com) کی بُنیاد رکھی۔  وہ World Christian Movement میں پرسپیکٹوز کے  باقاعدہ تربیت کار ہیں اور اُنہوں نے اپنے والد، ڈیوڈ واٹسن کے ساتھ مِل کر          Contagious Disciple Making: Leading Others on a Spiritual Journey of Discovery نامی کتاب بھی تحریر کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے