24:14 گُزشتہ کاوشوں سے مختلف کیوں ہے؟
– ولیم او برائن اور آر۔ کیتھ پارکس –
ہر دور میں ایسے با صلاحیت اور بُلاہٹ کے حامل بین التہذیبی مشنری موجود رہے ہیں جو پوری دُنیا کو یسوع کے بارے میں آگاہ کرنے میں کردار ادا کرنے کی خواہش کے حامل تھے ۔ ستفنس کی سنگساری کے بعد راہ ِ حق کے پیروکار اپنی جانیں بچانے کے لیے سامریہ اوردیگر علاقوں میں بھاگ گئے ۔ کلام کی کہانیاں سُنانے والے اِن بے نام لوگوں نے قول اور فعل کے زریعے خوشخبری پھیلائی ۔ 1989 میں ڈیوڈ بیرٹ نے نشاندہی کی کہ 33 عیسوی سے آج تک انجیل کی منادی کے 788 منصوبے بنائے گئے۔ تب سے آج کے دور تک بہت سے نئے منصوبے بھی اُبھرے ہیں ۔ سوال اُٹھ سکتا ہے :”14: 24 کِس لحاظ سے مختلف ہے ؟”
ادارہ جاتی بمقابلہ بُنیادی کاوش : ماضی میں زیادہ تر منصوبے کسی نہ کسی تنظیم ، ادارے یا فرقے پر مرکوز رہے ہیں اگرچہ اِس کے نتیجے میں مشنری سرگرمیاں اور دُنیا بھرمیں مسیح کی جانب آنے والے لوگوں کی تعداد بڑھی لیکن اُن لوگوں تک رسائی کی کوششیں نہیں کی جاسکیں جن تک کلام نہیں پہنچ سکا تھا ۔ اِس کے علاوہ ایسی ایماندار جماعتیں بھی قائم نہ ہو سکیں جو خود اپنی افزائش کرتیں ۔
24:14کسی تنظیم یا فرقے سے منسلک نہیں ہے اِس کی تشکیل تنظیمی راہنماوں نے محض نظریات کی بنا پر نہیں کی اِس کی چلانے والوں میں زمینی حقائق سے با خبر سرگرم کارکُنان ہوتے ہیں جو اصلی تحریکوں میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ زیادہ تر عملی اور نسبتاً کم نظریاتی معیار کی حامل ہے ۔ اِس تنظیم کا مرکزِ نگاہ یہ مقصد ہے کہ تمام نا رسا قوموں تک موثر انداز میں پہنچ کر اُن کو سرگرم کیا جائے ۔
بندھنوں سے آزاد، بھیجنے کا عمل : 24:14 کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ کارکُنان بین التہذیبی گروپوں تک محدود نہیں ہیں اور کثیر مالی وسائل کا تقاضا نہیں کرتے ۔نئے ایماندار خوشخبری کے منادوں کہ شراکت کار بن جاتے ہیں اور یوں کلام کی گواہی دینے والوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے ۔
جدید ٹیکنالوجی کی دستیابی : یہ بھی ایک اہم عنصر ہے ۔اِن میں سے سب سے زیادہ قابل ذکر ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی رابطے ہیں اِس کے نتیجے میں کلام کا ترجمہ تیز رفتار اور تربیتی وسائل کی تقسیم بہتر ہو جاتی ہےاِس کے علاوہ ٹیم کے ممبران کے ساتھ رابطے زیادہ تواتر کے ساتھ ہوتے ہیں اور کامیابی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ تاہم، ہم سمجھتے ہیں کہ ٹیکنالوجی روبرو ملاقات کا متبادل نہیں ہو سکتی اِس لیے اِس منصوبے کو آگے بڑھانے میں روبرو مُلاقاتیں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔
بہتر جائزے اور اعدادو شمار سے اگاہی : ٹیکنالوجی کے استعمال سے نا مکمل کام کی درست ترین تصویر سامنے آتی ہے۔ 1974 میں عالمی منادی کے موضوع پر لوسین کانفرس میں بہت سے کامیابیاں ملیں ۔ اِن میں سے ایک ” نا رسا قوموں کے گروہ” کی اصطلاح تھی جو فُلر تھیولاجیکل سیمنری کے رالف وینٹر نے پیش کی۔ ماضی میں تمام منصوبے پوری پوری قوموں کے لیے بنائے جاتے رہے اور قوموں میں موجود مختلف نسلی گروہوں اور زبانوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا ۔ 24:14 کے پاس اب ایسے اعدادو شمار اور معلومات موجود ہیں جو زیادہ قابل ِ بھروسہ اور قابل ِ استعمال ہیں۔ ذمہ داری کو مخصوص انداز میں بیان کر دیا گیا ہے۔ اِس سے بڑھ کر نا صرف سر گرمی بلکہ سی پی ایم کی سرگرمیوں کی معلومات بھی حاصل کی جا رہی ہے ۔ اِس کے نتیجے میں شاگردوں کی وہ ضروری افزئش ہو رہی ہے جو کسی نارسا گروہ تک حقیقی رسائی کے لیے ضروری ہے ۔
بائبل کی بُنیادوں پر قائم : 14 :24 کا طریقہ کار بائبل کے اصولوں پر مبنی ہے جو تنظیم کو بے انتہا فائدہ پہنچاتا ہے ۔ ماضی میں غیر مُلکیوں کو روحانی راہنمائی کے لیے لازمی سمجھا جاتا تھا اور گروپوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ساتھ مشنریوں کا وقت ، توانائی اور وسائل دباؤ میں آ جاتے تاہم 14 : 24 لوقا 10 میں مذکور سلامتی کے فرزند کا اصول استعمال کرتے ہوئے اُن کے رابطوں اور تعلقات کے زریعے دِل جیت لیتی ہے ۔ دریافتی بائبل سٹڈی اور روح القدس کی راہنمائی سے شاگرد بنا کر اُنہیں فرمابرداری سِکھائی جاتی ہے پھر ہر گروپ شاگرد سازوں کی مزید نسلیں بڑھتا جاتا ہے یوں غیر مُلکیوں پر دباؤ نہیں پڑتا بلکہ مقامی راہنما اپنی قوم کے لوگوں کو شاگرد بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ۔
مصدقہ کامیاب ماڈل : 14 :24 کے اتحاد کی تحریکیں شاگردوں اور چرچز کی بے انتہا افزائش دیکھ رہی ہیں ۔ تہذیبی تناظر سے مطابقت رکھنے والے یہ ماڈل انسانی وسائل پر انحصار نہیں کرتے خُداوند اِن ماڈلوں کو تمام نارسا قوموں تک پہنچنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے ۔ 24:14 کے کلیدی راہنما اِس کام کے آغاز اور اِس کی کامیابی کے تعین کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں گُذشتہ دو دہائیوں میں وہ ایسے عوامل کی نشاندہی کر چُکے ہیں جو کسی تحریک کو تیز رفتار یا سُست بنا سکتے ہیں ۔ماضی میں کئی مرتبہ جب کوئی نئے اسلوب استعمال کئے گئے تو اُن کے فوائد جانچنے کے لیے جائزہ کاری کی مہارتیں موجود نہیں تھیں ۔ اَب انجیل کے منا د مسلسل تبدیلیاں کرنے کے اہل ہیں جن میں قیادت کی تبدیلی ، قریبی گروپوں کے ساتھ رابطے یا تجربے کے حامل افراد کی فراہمی ہو۔
ایک بہت خاص اتحاد : مجموعی طور پر 24:14 دو لازمی اور ایک دوسرے سے مربوط موضوعات کا مرکب ہے : نا رسا قومیں اور ثمر آور تحریکوں میں مِل کر کام کرنا ہم جانتےہیں کہ خوشخبری کی منادی دُنیا کی تمام اُمتوں اور قوموں کے لیے ہے 24:14 میں شامل لوگ مختلف قومیتوں کی ایک وسیع پس منظر سے آتے ہیں اور مغربی تہذیب کی قید سے آزاد ہوتے ہیں ۔
دُعا: بے شک دُنیا میں انجیل کی منادی کے تمام منصوبوں کے لیے دُعا ایک لازمی عنصر رہی ہے تا ہم اِن میں سے اکثر کے لیے دُعاوں کا دائرہ کسی ایک تنظیم یا فرقے تک محدود رہا اِس کے برعکس اِس منصوبے کا آغاز ہی دُنیا بھر میں تمام لوگوں کی دُعاؤں سے ہوا اور پھر جب نئے شاگرد شامل ہوتے ہیں تو ایمان میں آنے والے نا رسا لوگ دُعا کو ایک نیا پہلو دے دیتے ہیں جو کہ اِس منصوبے کی کامیابی کے لیے لازمی ہے ۔ یہ عالمگیر دُعائیں 24:14 کا خاصہ ہیں ۔
1985 میں ہم دُنیا کے نقشے پر نظر ڈالی اور یہ جانا کہ دُنیا کے نصف سے زائد ممالک جو روایتی مشنریوں کے لیے ممنوع ہیں ، پوری دُنیا تک پہنچنے کے ہمارے جُرات مندانہ منصوبوں کا حصہ ہی نہیں۔ اِن ممالک میں انجیل سے محروم قوموں کی بہت بڑی اکثریت تھی ۔ہم نے دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر مشن کے طریقہ ِ کار تبدیل کرنے کی کوشش کی تا کہ اِس تلخ حقیقت کو بدلا جا سکے۔
خُداوند نے 1985 سے جو کُچھ کیا ہے ہم اُس پر بہت پرُ جوش ہیں اور ہم دُنیا بھر میں اپنے بہت سے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ 24:14 کے اتحاد میں شامل ہیں ۔ ہمارا مقصد اُس دِن کو قریب لانا ہے جب خوشخبری کی منادی دُنیا کی ہر قوم ، قبیلے ، زبان اور اُمت تک پہنچ جائے ۔
ولیم او برائین انڈونیشیا میں ایک سر گرم مشنری، امریکہ میں چرچ کے تخم کار اور پاسٹر، آئی ایم بی کے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ، سیمفورڈ یونیورسٹی میں گلوبل سنٹر کے بانی ڈائرکٹر اور بِیسن ڈیونِٹی سکول میں مشنز کے پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چُکے ہیں۔ وہ 1998 میں “چوُزِنگ اے فیوچر فار یو ایس مشنز” نامی ایک کتاب کی تصنیف میں بھی شریک مصنف رہے۔
آر۔ کیتھ پارکس ساؤتھ ویسٹرن بیپٹسٹ تھیولاجیکل سیمنری سے ڈاکٹر اِن تھیالوجی کی ڈگری رکھتے ہیں۔ وہ انڈونیشیا میں مشنری، آئی ایم بی کے صدر اور سی بی ایف کے گلوبل مشنز کو آرڈینیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چُکے ہیں۔ اُن کی اہلیہ ہیلین جین ہیں اور اِس جوڑے کے چار بچے اور سات نواسے،نواسیاں/پوتے پوتیاں ہیں۔ آج کل وہ سی ایف بی رچرڈسن، ٹیکساس میں غیر مُلکی طلبا کو بائبل سٹدی پڑھاتے ہیں۔
مشن فرنٹئیرز www.missionfrontiers.orgکے جنوری-فروری 2018 کے شمارے میں صفحات نمبر 38-39 پر شائع ہونے والے مضمُون کی تدوین شدہ شکل۔ یہ مضمون 24:14 – A Testimony to All Peoples کے صفحات 206-209 پر شائع ہُوا اور24:14 اورAmazon پر دستیاب ہے۔
