ایک تحریک کی اقدار- حصہ دوم
– سٹیو سمتھ –
اس مضموُن کے پہلے حصے میں ایک تحریک کی اقدار میں سے ایک اہم قدر،” صرف اور صرف کلام کے اختیار کی اطاعت “پر بات کی گئی تھی۔ زیرِ نظر مضموُن میں دیگر اقدار پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔
فرمانبرداری : کلام کی کہی ہوئی ہر بات کی اطاعت اور فرمانبرداری
تحریکوں کو بائبل کی حدود کے اندر چلاتے رہنے کے لئے دوسری قدر کلام کی مکمل فرمانبرداری ہے
کرنتھیوں کے نام پہلے خط کے 5 ویں باب میں پولوس کرنتھیوں کی کلیسیا کو اطاعت سِکھاتا ہے:
“ کیونکہ مَیں نے اِس واسطے بھی لِکھا تھا کہ تُمہیں آزما لُوں کہ سب باتوں میں فرمانبردار ہو یا نہیں۔ “(2 کرنتھیوں 2:9)
اُن کے لئے ایساکرنا مشکل کام تھا لیکن پھر بھی انہوں نے فرمانبرداری کا مظاہرہ کیا مسیح کے پیروکاروں کی حیثیت سے محبت بھری فرمانبرداری اُن کی بنیادی اقدار میں سے ایک تھی ۔
صرف فرمانبرداری پر مبنی شاگردی ہی CPM کو اصولوں اور راستبازی کی حدود کے اند ررکھ سکتی ہے۔ CPM کی تحریک کے دوران ہر ہفتے کلام کے مطالعے کے وقت آپ لوگوں کو فرمانبرداری کا درس دے سکتے ہیں۔ اگلی میٹنگ میں آپ اُن سےاُس اطاعت اور فرمانبرداری کا حساب بھی بہت پیار سے طلب کر سکتے ہیں ۔اس سے فرمانبرداری مستحکم ہوتی ہے اس کے بغیر شاگرد صرف کلام سُننے والے بن کر رہ جاتے ہیں اور عمل کرنے والے نہیں رہتے ۔
دُشمن ہر وقت سر گرمی کے ساتھ دھوکہ دینے اور مسائل پیدا کرنے میں مشغول ہے ۔ لیکن اگر اطاعت اور فرمانبرداری کے اصول قائم رہیں تو آپ بھٹک جانے والے ایماندار کو واپس بُلا سکتے ہیں ۔کرنتھیوں کے نام پہلے خط کے 5 ویں باب میں یہی ہوا ۔
فرمانبرداری میں مسئلے کے حل کے لئے گروپ کا نظم و ضبط بھی اہم ہے ،جیسا کہ کرنتھیوں کی کلیسیا میں ہوا۔ شاگردوں کو اس بات پر ایمان رکھنا چاہیے کہ کلام کی اطاعت لازمی ہے اور اگر وہ گناہ کی راہ پر آگے بڑھتے جائیں تو اصلاح کے لئے نتائج اور تکلیفیں بھی انہیں ہی برداشت کرنا پڑیں گی ۔
ایک کیس سٹڈی – بیوی کی پٹائی کرنے والے
ہم میں سے کئی لوگوں نے 12 مقامی راہنماؤں کی ایک ہفتے کے لئے تربیت کی منصوبہ بندی کی جو مشرقی ایشیا میں ابھرتی ہوئی CPM کی تحریک کے 80 اینا چرچز کی نمائندگی کر رہے تھے ۔ طے شدہ بنیادی اصول یہ تھا : اُن کے سوالوں کے جواب نہ دیں بلکہ یہ پوچھیں ،” بائبل اس بارےمیں کیا کہتی ہے؟ ” یہ کہنا آسان تھا لیکن کرنا مشکل تھا !
ایک شام میرے ساتھی پاسٹر صاحب نے ایک گھنٹے تک افیسوں کے باب نمبر 5 کی تعلیم دی : شوہر بیویوں سے محبت رکھیں ۔اس حکم پر عمل انتہائی واضح نظر آتا تھا ۔
انہیں سِکھانے کے بعد میں نے پوچھا کہ کیا اُن کے کوئی سوالات ہیں ۔ پچھلی قطار سے ایک 62 سالہ بوڑھے شخص نے ڈرتے ڈرتے ہاتھ اُٹھایا ،” میں یہ جاننا چاہوں گا کہ کیا اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنی بیویوں کی پٹائی کرنا چھوڑ دیں ؟ “
میں اور میرے ساتھی پاسٹر دوست حیرت زدہ رہ گئے۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ کلام سے اتنی واضح تعلیم ملنے کے بعد بھی کوئی بیوی کو مارنے کے بارے میں ایسا سوال پوچھ بھی سکے ۔
ہم نے پہلے سے طے شدہ اصول سے مدد لی : ” اس بارے میں بائبل کیا کہتی ہے ؟” یہ وہ مقام تھا جب روح القدس کی قوت پر ہمارے ایمان کی آزمائش ہونے لگی ۔
ہم نے بہت محتاط ہو کر پورے گروپ سے کہا :
اگر ہم دعا کریں تو روح القدس خود ہمیں سِکھائے گا۔ اگر ہم روح القدس کے کلام کا مطالعہ کریں تو وہ ہمیں بیویوں کو مارنے کے بارے میں واضح جواب دے گا ۔
سب سے پہلے میں چاہوں گا کہ پورا گروپ روح القدس کو پکارے اور کہے :” اے روح القدس ہمیں سِکھا !ہم تجھ پر انحصارکرتے ہیں !ہمیں فہم ودانش عطا کر !”
ہم نے مل کر سر جھکائے اور بار بار خُدا سے دعا کی دعا کے دوران میں نے گروپ سے کہا:
روح القدس کی راہنمائی میں افسیوں کا 5واں باب کھولیں ۔اسے مل کر پڑھیں اور خُدا سے دعا کریں کہ وہ آپ کو اس سوال کا جواب دے ۔ جب آپ سب کسی جواب پر متفق ہو جائیں تو ہمیں بتا دیں ۔ وہ بارہ لوگ اکٹھے ہو کرتیزی سے اینا زبان میں باتیں کرنے لگے جو ہم میں سے کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی اس دوران ہم اکٹھے ہو کر دعا کرنے لگے۔ ہم نے خدا سے التجا کی : “اے خُدا انہیں یہ مسئلہ سمجھنے میں مدد دے۔ بیویوں کو مارنے پیٹنے والے لوگ ہمیں اس تحریک میں نہیں چاہیں !”ہمیں یقین تھا کہ گروپ میں موجود روح القدس ایک یا دو لوگوں کی الجھنوں اور اعتراضات پر غالب آ جائے گا ۔
اس دوران اینا گروپ میں جذبات کا اُتار چڑھاؤ جاری رہا ۔ایک شخص اُٹھ کر کچھ کہتا اور دوسرا اُسے ڈانٹ دیتا۔ پھر کوئی اور اپنی رائے پیش کرتا اور دوسرے اُس سے اتفاق کرتے۔ بالآخر ایک بہت طویل انتظار کے بعد ایک راہنما کھڑا ہوا اور اُس نے ہمیں اپنا فیصلہ سُنایا :
” کلام پڑھنے کے بعد ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم بیویوں کو مارنا پیٹنا چھوڑ دیں گے !”
ہمیں بہت اطمینان ہو الیکن میں نے سوچا : ” اس فیصلے تک پہنچنے میں اتنی زیادہ دیر کیو ں لگی ؟!”
ایک دو دن کے بعد اُن بارہ میں سے اینا زبان بولنے والا ایک شخص جو میرا قریبی دوست بھی تھا،میرے پاس آیا اور اُس نے مجھے اُن کی گفتگو کے بارے میں آگاہ کیا ۔
” اینا زبان میں ایک کہاوت ہے : اگر آپ صحیح معنوں میں ایک مرد ہیں تو آپکو روزانہ اپنی بیوی کو مارنا پیٹنا چاہے “
میں فوری طور پر اُس 62 سالہ بوڑھے شخص کے سوال کی اہمیت سمجھ گیا اور مجھے جواب میں تاخیر کی وجہ بھی سمجھ میں آ گئی ۔ اصل سوال یہ نہیں تھا کہ،” کیا ہمیں اپنی بیویوں کو مارنا پیٹنا نہیں چاہیے ؟” بلکہ خُدا کے راستے کے پاکیزہ طور طریقوں اور اُن کے اپنی تہذیب کی روایتوں کے ٹکراؤکی وجہ سے اصل سوال یہ تھا :
کیا میں مسیح کا پیروکار بن کر بھی اپنی تہذیب میں ایک مرد کی حیثیت سے زندہ رہ سکتا ہوں یا نہیں ؟
اگر اُن کا جواب بائبل کے اصولوں کے خلاف ہوتا تو کیا ہم مداخلت کرتے ؟ یقینا ہم ایسا کرتے لیکن اگر ہم اس پورے عمل کو مختصر کر کے خود ہی انہیں جواب دے دیتے تو وہ خُدا کے پیغام کو گہرائی میں جا کر سمجھنے سے محروم ہو جاتے ۔
اُس روز اور اُس کے بعد کئی مرتبہ کسی تہذیبی روایت یا بائبل کے استاد کی بجائے خُداکا کلام حتمی اختیار کے طور پر مستحکم ہوا ۔ نئے ایمانداروں کے ایک گروہ نے سچائی تک پہنچنے کے لئے روح القدس کی راہنمائی پر بھروسہ کیا اور پھر روح القدس کے دیئے ہوئے جواب کی فرمانبرداری کا فیصلہ کیا ۔گروپ کو یقینا اُس معاشرے میں مزاق کا نشانہ بنے کا چیلنج در پیش تھا ۔
اپنے علاقے میں خُدا کی بادشاہی کی تحریکیں جاری رکھیے۔ لیکن جب تک آپ تحریکوں کے دریا کے لئے حدود تیار نہ کر لیں، یہ دعا نہ کیجیے کہ سیلاب ان دریاؤں کو تیز رفتاری سے بھر کر بہانے لگے! ابتدا کرتے ہی پہلے چند منٹوں اور گھنٹوں میں یہ حدود اورخواص متعین کر لیجیے ۔
مشن فرنٹئیرز www.missionfrontiers.orgکے جنوری-فروری 2014 کے شمارے میں صفحات نمبر 31-29 پر شائع ہونے والے مضمُون کی تدوین شدہ شکل۔ 4:14 – A Testimony to All Peoples کے صفحات نمبر 95- 87پر بھی موجود ہے۔ 24:14 یا Amazon پر بھی دستیاب ہے۔
