Categories
حرکات کے بارے میں

خدا کس طرح سادہ چیزوں کو ترقی اور افزائش دے رہا ہے

خدا کس طرح سادہ چیزوں کو ترقی اور افزائش دے رہا ہے

لی وُوڈ –

مارچ 2013 میں میں نے شاگردی کی تربیت کے ایک میٹا کیمپ میں شرکت کی جس کی سہولت کاری کرٹس سارجنٹ کر رہے تھے۔ تربیت کا مرکز فرمانبرداری اور دوسروں کو اس بات کی تربیت دینا تھا کہ وہ ایسے شاگرد بنائیں جو کہ آگے مزید شاگرد بنا سکیں ۔جس کے ذریعے سادہ گھریلو چرچزکی تعداد میں اضافہ ہو۔  میں اپنی موجودہ کارکردگی سے غیر مطمٔن ہو کر شاگرد سازی کے جذبے کے ساتھ اس تربیت میں شامل ہوا  ۔میں سمجھ گیا کہ ہمیں شاگرد بنانے کے لئے کیوں بلایا جارہاہے – تاکہ دنیا جان سکے – لیکن یہ کیسے ہو گا؟ میں اس بارے میں الجھن کا شکار تھا۔ تربیت کے دوران ہم نے سیکھا کہ یہ کس طرح ہو گا ۔ اس کے ساتھ ہم نے شاگرد سازی کو خُدا اور انسانوں کی محبت کے اظہار کے طور پر ایک اہم ترین عنصر کے طور پر بھی جان لیا ۔

میں وہاں سے بہت پُر جوش ہو کر نکلا کہ ان اصولوں کا اطلاق کروں : اپنی کہانی سُنائیں ،خُداکی کہانی سُنائیں ، گروپ بنائیں اور انہیں یہی سب کرنے کی تربیت دیں ۔ بہت تیز رفتاری سے آگے بڑھتے ہوئے ہم نے پہلے سال میں 63 گروپوں کی ابتدا کی اور دوسروں کو بھی ایسا ہی کرنے کی تربیت دی۔ کچھ گروپ افزائش پا کر چوتھی نسل تک پہنچ گئے۔ پہلے دو سالوں میں سینکڑوں گروپ بن گئے لیکن  کمزور جائزہ کاری اور روابط کی وجہ سے وہ قائم نہیں رہ پا رہے تھے اور نہ ہی اُس طرح سے تعداد میں بڑھ رہے تھے جیسا کہ ہونا چاہیے تھا ۔ ہم نئے گروپ بنانے میں اتنے مصروف رہے کہ ہم اپنے سیکھے ہوئے اصولوں پر پوری طرح عمل کرنے میں ناکام رہے ۔

شُکر ہے کہ کرٹس نے ہمارا ہاتھ نہیں چھوڑا ۔وہ لگاتار ہماری تربیت کرتا رہا اور انتہائی اہم ترین اصولوں پر باربار زور دیتا رہا :

  1. اپنی منسٹری کی گہرائی پر کام کریں۔ خُدا اُس کی وسعت کا  خود ذمہ دار ہے ۔
  2. ایسے چند لوگ جوکہ پوری طرح فرمانبرداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں انہیں زیادہ سے زیادہ تربیت اور حوصلہ دیں ۔
  3. جو کچھ آپ کر رہے ہیں اُسے کرتے چلے جائیں اور آپ جلد ہی اُسے بہت بہتر طور پر کرنے لگ جائیں گے ۔ 
  4. آسان چیزیں ترقی کرتی ہیں  آسان چیزیں بڑھتی ہیں ۔
  5. دوسروں کی فرمانبرداری کریں اور انہیں تربیت دیں ۔

پھر ہم واپس گئے کہ جو کچھ بچ سکتا ہے اُسے بچا لیں۔ ہم نے اُن لوگوں کو مزید تربیت دی جو واضح طور پر اپنی بلاہٹ کی تعمیل کر رہے تھے ( اپنی ابتدائی کاوشوں میں ایسا نہ کرنا ہماری بہت بڑی ناکامی تھی )۔ ہم ارادی طور پر ٹیمپا کے بدترین علاقوں میں  دعا کر کے چہل قدمی کرتے رہے تاکہ ہمیں سلامتی کے فرزند مل جائیں جو مسیح کو قبول کر کے بادشاہی کی خوشخبری کھوئے ہوئے اور سب سے زیادہ اور سب سے دور نارسا لوگوں میں اپنے رابطوں تک لے کر جائیں۔ جب ہم نے مزید چیزیں سیکھیں تو ہم دوسرے لوگوں کو مقامی اور با لآخر عالمی سطح پر تربیت دینے لگے ۔ صحت مند گروپ افزائش پانے لگے ۔ یہ تحریک فلوریڈا کے دیگر شہروں اور چار مزید ریاستوں تک پھیل گئی  ۔ ابتدائی شاگردوں میں سے کچھ کی مددکے ساتھ یہ تحریک 10 اور ممالک تک پھیلتی چلی گئی ۔ہم نے دو سالوں میں  مکمل طور پر غیر مرکزی تحریک  سے نارسا اور غیر سر گرم قوموں کے گروہوں میں مشنری بھیجنے شروع کیے ۔

ایک اور نیٹ ورک کے ساتھ شراکت میں ہم نے 70 سے زیادہ ملکوںمیں تربیت کار بھیجے ہیں  جہاں ایسی افزائشی تحریکیں یاتو شروع ہو رہی ہیں یا شروع ہو چکی ہیں ،جن میں شامل لوگ مسیح کی خاطر اپنے ہی لوگوں تک رسائی حاصل کر رہے ہیں ۔اس کے علاوہ دیگر لوگ شمولیت کی تربیت کے لئے ہمارے شہر آنے لگے، تاکہ وہ ایک ایسے ابھرتے ہوئے شہری چرچ کے نمونے کی تربیت حاصل کر سکیں جو کہ معاشروں میں تبدیلی کے لئے   CPM کے ذریعے سر گرم ہو ۔

یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ ہم نے لوگوں کو اپنی ذاتی کہانی سُنائی کہ یسوع نے کس طرح ہماری زندگیاں بدلیں ۔،یسوع کی کہانی ( انجیل ) سُنائی اور چند سادہ اصولوں پر عمل کیا : چند لوگوں کو انتہائی گہرائی میں  تربیت دینا ، چیزوں کو آسان رکھنا ،  خُود کر کے سیکھنا اور نتائج کے لئے خُدا پر بھروسہ کرنا ۔

کیسے؟ خُدا سے محبت کریں ، دوسروں سے محبت کریں اور ایسے شاگرد بنائیں جو آگےچل کر مزید شاگرد بنائیں۔ آسان چیزیں ترقی کرتی ہیں  اور آسان چیزیں بڑھتی ہیں ۔

  لی  وُوڈ  اِبتدا  میں ایک یتیم، زیادتی کا شکار  اور نشے کے عادی نوجوان تھے۔ 23 سال کی عمر میں یسوُع کو قبول کرنے کے بعد اُن کی زندگی پُوری طرح بدل گئی۔   اُن کی بھر پُور توانائی اُن کے آس پاس کے لوگوں کو بھی مُتاثر کرتی ہے۔  وہ شاگرد سازی کا جذبے سے معمُور ہیں، جب تک کہ ساری دُنیا کے لوگ کلام سُن نہ لیں۔ 

  مشن فرنٹئیرز        www.missionfrontiers.orgکے جنوری-فروری 2018  کے شمارے میں صفحہ  نمبر 22 پر شائع ہونے والے مضمُون سے   ماخُوذ۔

اور   24:14 – A Testimony to All Peoples  کے صفحات 138-136 پر بھی شائع ہُوا۔          24:14     یا           Amazonپر بھی دستیاب ہے۔ 

Categories
حرکات کے بارے میں

CPM ( چرچز کی تخم کاری کی تحریک )کیا ہے ؟ حِصہ دوم

CPM ( چرچز کی تخم کاری کی تحریک )کیا ہے ؟ حِصہ دوم

– سٹین پارکس 

چرچز کی تُخم کاری کی جدید تحریکوں میں ہم وہی اصول کار فرما دیکھتے ہیں جنہیں خُدا نے ابتدائی چرچ میں استعمال کیا:

  • روح القدس اختیار دیتا ہے اور بھیجتا ہے ۔ جدید CPM کی تحریکوں کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ اس میں عام لوگ اپنا کردار ادا کرتے ہیں ۔ خُدا نے اپنے کام کے لئے محض تربیت یافتہ، پیشہ و ر لوگوں کو ہی منتخب نہیں کیا۔ اس کی بجائے ہم دیکھتے ہیں کہ روح القدس عام لوگوں کو کلام پھیلانے ، بدروحیں نکالنے ، بیماروں کو شفا دینے اور شاگردوں اور چرچز کی افزائش کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ ان تحریکوں میں ناخواندہ لوگ بہت سے چرچز کا قیام عمل میں لا رہے ہیں ۔ بالکل  نئے ایماندار، پوری قوت سے کلام کو نئے مقامات پر لے جا رہے ہیں۔ یہ بالکل عام سے لوگ ہیں جو ایک غیر معمولی طور پر قادر خُدا کے روح کی قوت سے بھرے ہوئے ہیں ۔
  • ایماندار مسلسل دعا میں مشغول رہتے ہیں اور اپنے عظیم ایمان کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ کسی کا یہ کہنا ہے کہCPM  کے آغازسے پہلے ہمیشہ ایک دعائیہ تحریک ہوتی ہے۔ CPM بذات ِخودبھی  ایک دعائیہ تحریک ہی ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ جب ہم دعا کرتے ہیں تو خُدا کام کرتا ہے ۔ اور CPM خُدا کا کام ہے، نہ کہ انسانوں کا ۔ اور یہ بھی، کہ دعا کرنا یسوع کے بنیادی احکامات میں  سے ایک ہے ۔ سو ہر شاگرد یہ سمجھتا ہے کہ اُس کی اپنی ذات اور تحریک کی ترقی کے لئے دعا بہت لازمی ہے ۔
  • ان شاگردوں کے لوگوں کے ساتھ سلوک کی بنا پر ایک موثر گواہی ۔دنیا بھر میں بہت سے مسیحیوں اور چرچز نے مادی پہلوؤں کو روحانی پہلوؤں سے الگ کر دیا ہے ۔ کچھ مسیحی گروپ ایسے  ہیں جو محض روحانی معاملات کے بارے میں فکر مند ہیں ، لیکن اپنے آس پاس کے لوگوں کی مادی ضروریات نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ تاہم ان تحریکوں میں شامل شاگرد، کلام کی فرمانبرداری پر توجہ دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ لوگوں کے لئے خُدا کی محبت کا  پُر جوش اظہار کرتے ہیں ۔ کلام کی فرمانبرداری کے ذریعے وہ اپنے پڑوسی سے محبت کرنے لگتے ہیں ۔ اس طرح ان تحریکوں میں شامل  افراد اور چرچ ،بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہیں، بیواؤں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، یتیموں کا خیال رکھتے ہیں   اور ناانصافی کے خلاف جنگ کرتے ہیں۔ بائبل کسی بھی طور دینی اور دنیاوی معاملات کو الگ کر کے نہیں دِ کھاتی ۔خُدا چاہتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں اور معاشروں میں خوشخبری کے ذریعے ایک جامع اور مکمل تبدیلی لے کر آئیں ۔
  • شاگردوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد ۔اعمال کی کتاب میں ابتدائی چرچزکی طرح CPM کی یہ جدید تحریکیں بھی بہت تیزی سے ترقی کرتی ہیں۔ اس تیز رفتاری کی ایک وجہ روح القدس کی قوت ہے۔ اس کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ان تحریکوں میں بائبل کے اصولو ں پر پوری طرح عمل کیاجاتاہے۔ مثال کے طور پر تحریکوںمیں شامل لوگوں کا ایمان ہے کہ “ہر ایماندار   ایک شاگرد ساز ہے ” ( متی28:19) ۔اس طرح شاگرد بنانے کا عمل محض چند تنخواہ دار پیشہ واروں تک محدود ہو کر نہیں رہ جاتا  ۔ان تحریکوں میں  شامل شاگرد، چرچز اور راہنما  یہ سیکھتے ہیں کہ اُن کی کارکردگی کا ایک بڑا اہم حصہ یہ ہے کہ وہ پھل لائیں ۔ اور وہ یہ پھل جس قدر جلد اور جتنا زیادہ ممکن ہو ، لاتے  چلے جاتےہیں ۔
  • یہ شاگرد خُدا کے فرمانبردار بنتے ہیں۔ CPM میں شامل شاگرد کلام کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں ۔ہر ایک سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ حقیقی طور پر  خُدا کے کلام کا شاگرد بنے۔  ہر ایک کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ دوسرے کو سوال کر کے یہ چیلنج دے : ” آپ خُدا کے کلام میں کیا دیکھتے اور سمجھتے ہیں ؟” ایماندار پوری توجہ سے انفرادی اور اجتماعی طور پرخُدا کا کلام پڑھتے اور سُنتے ہیں۔ خُدا سب سے پہلا اُستاد ہے اور وہ جانتے ہیں کہ وہ اُس کے کلام  پر عمل کرنے کے لئے اُس کے سامنے جواب دہ ہیں۔ اور     اُس کاکلام انہیں یہی سِکھاتا ہے ۔ 
  • خاندانوں کو نجات ملتی ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے اعمال کی کتاب میں  ذکر ہے ، ہم کئی خاندانوں اور کئی معاشروں کو خُدا کی طرف آتا دیکھ رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر تحریکیں نارسا قوموں میں جاری ہیں، جن میں مغربی تہذیب کے برعکس قبائلی رنگ زیادہ نمایاں ہے ۔ ان تہذیبوں میں فیصلے خاندانوں یا قبائل کی سطح پر کئے جاتے ہیں ۔   ان جدید CPM کی تحریکوں میں بھی ہمیں اسی قسم کی فیصلہ سازی نظر آتی ہے ۔ 
  • مزاحمت اور ایذارسانی۔  یہ تحریکیں عام طور پر دشوار ترین علاقوں میں سر گرم ہیں اور ان کے نتیجے میں بہت زیادہ حد تک ایذارسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بد قسمتی سے چند تسلیم شدہ چرچز ان  نئی تحریکوں کی سر گرمیوں  سے  حکام کو آگاہ کر دیتے ہیں ، کیو نکہ وہ نہیں چاہتے کہ انہیں حکومت یا مذہبی بنیاد پرستوں کی جانب سے کسی منفی درعمل کا سامنا کرنا پڑے ۔ اکثر ایذارسانی مذہبی یا حکومتی قوتوں کی طرف سے آتی ہے جو خُدا کی ان تحریکوں کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔  لیکن یہ تحریکیں خُدا کے برّے کے خون اور اپنی گواہی کے الفاظ کے ذریعے  اس ایذارسانی پر فتح پاتی ہیں ۔اس مقصد کے لئے ایک قیمت تو ادا کرناہی ہوتی ہے اور ان تحریکوں سے منسلک بہت سے لوگ یہ قیمت ادا کر رہے ہیں۔
  • شاگرد روح القدس اور خوشی سے بھر پور ہوتے ہیں۔  مزاحمت اور ایذارسانی کے باوجود ہم ایمانداروں کو خوشی سے بھر پور پاتے ہیں کیو نکہ وہ گہری تاریکی سے روشنی کی طرف آ چُکےہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو کلام کی خوشخبری دینے کے لئے بہت زیادہ متحرک ہوتے ہیں ۔ ایذارسانی کا شکار ہونے والوں میں سے بہت  سے لوگوں کو یہ  بھی کہتے سُنا گیا کہ وہ خوش ہیں کہ خُدا نے انہیں اس قابل جانا کہ وہ اُس کے نام پر تکلیفیں اُٹھائیں ۔
  • خُدا کا کلام پورے علاقے میں پھیل رہا ہے۔ اعمال کی کتاب کے 19  ویں باب میں  ہم دیکھتے ہیں کہ محض دو سالوں میں خُدا کا کلام ایشیا کےپورے رومی  صوبے میں پھیل گیا ۔یہ بات حیرت انگیز دِکھائی دیتی ہے۔ ان تحریکوں میں  بھی ہم ایسی ہی قوت اور حرکت دیکھتے ہیں۔ واقعی، چند سال کے عرصےمیں، مختلف علاقوں میں ہزاروں  بلکہ لاکھوں لوگ پہلی مرتبہ انجیل کا پیغام سُن رہے ہیں،  اور یہ اس وجہ سے ہے کہ شاگردوں کی تعداد بہت تیز رفتاری کے ساتھ بڑھتی چلی جا رہی ہے ۔ 
  • کلام نئی زبانوں اور نئی قوموں تک پھیل رہا ہے۔ اگر کوئی تحریک سماجی اور تہذیبی  تناظر سے مطابقت نہ رکھتی ہو تو وہ ناکام ہو جاتی ہے۔ اس کی ابتدا کسی قوم کے لوگوں کے ساتھ پہلے رابطے سے ہوتی ہے ۔ باہر سے آنے والا کسی ایسے مرد یا عورت ،یعنی سلامتی کے فرزند کی تلاش کرتا ہے جو بعد میں چرچ کا قیام کرنے والا بن جاتاہے۔ اگر باہر سے آنے والا خود چرچ کا قیام کرنے والا ہو تو وہ ایمان کا ایک ایساانداز متعارف کرائے گا ،جس سے اُس علاقے کے لوگ ناآشنا ہوں گے۔ اگر کسی علاقے کے لوگ خود ہی چرچ کا قیام کریں تو باہر سے لایا گیا کلام کا بیج آسانی اور آزادی کے ساتھ پھلے پھولے اور بڑھے گا ۔خوشخبری کا یہ بیج ایک قدرتی انداز سے پھل لائے گا جو کہ اُس تہذیب کے مطابق ہو گا ،لیکن اُس کی جڑیں کلام میں ہوں گی ۔ اس طرح انجیل زیادہ تیز رفتاری سے پھیلتی ہے ۔یاد رہے کہ یہ تحریکیں عموما کسی ایک قوم کے گروہ یا آبادی کے ایک حصے کے اندر رہتے ہوئے ہی آغاز کرتی ہیں ۔کسی دوسری زبان  یا تہذیبی تناظر میں جانے کے لئے عموما زیادہ تربیت اور ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے ،جو دوسری تہذیب میں جا کر کام کرنے کہ صلاحیت رکھتے ہوں ۔ آج زیادہ تر CPM کی تحریکیں نارسا قوموں  میں جاری ہیں ۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مقامی تحریکیں اُن مقامات پر زیادہ بہتر طور پر زور پکڑتی ہیں ، جن تک ابھی مغربی انداز کی منادی نہیں پہنچی ہوتی ۔

CPM کی کچھ مخصوص خصوصیات ہیں 

    1. اس بات کا ادراک کہ صرف خُدا ہی ایک تحریک شروع کر سکتا ہے ۔شاگرد بیک وقت دعا، بیج بونے اور بیج کو پانی دینے کے بائبلی اصولوں پر عمل کر سکتے ہیں، جو اعمال کی کتاب میں مذکور تحریکوں جیسی تحریک کے آغاز میں مدد دیتے ہیں ۔
  • مسیح کے ہر پیروکار کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ محض ایک نیا مسیح بن کر نہ رہے بلکہ مزید  افزائش کرنے والا شاگرد بنے ۔
  1. ہر شخص کے لئے خُدا کی فرمانبرداری کا باقاعدہ اور مسلسل احتساب۔  ہر ایک سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایک محبت بھرے   رشتے میں رہتے ہوئے خُدا کے کلام کی سچائی  دوسروں تک پہنچائیں ۔اس مقصد کا حصول چھوٹے گروپوں میں  رہ کر  سر گرم شمولیت کے ذریعے ہوتا ہے ۔
  2. ہر شاگرد روحانی بلوغت کا حامل ہوتا ہے۔ ہر شاگرد کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ کلام کو سمجھ کر اُس کا ا طلاق کر سکے ،ایک جامع دعائیہ زندگی گذار سکے ،  مسیح کے عظیم بدن کا ایک حصہ بن کر جی سکے ، اور تکلیفوں اور ایذارسانی پر مثبت ردِعمل دے سکے۔اس کے نتیجے میں ایماندار نہ صر ف کلام قبول کرنے والے بنتے ہیں، بلکہ خُدا کی بادشاہی کی پیش روی کے لئے متحرک قوت بن کر بھی ابھرتے ہیں ۔
  3. ہر شاگرد کو ایک مقصد دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے تعلقاتی نیٹ ورک تک رسائی حاصل کرے اور زمین کی انتہا ؤں تک خُدا کی بادشاہی کو پھیلائے ۔ سب سے پہلی ترجیح  تاریک ترین علاقوں کو دی جاتی ہے اور یہ عہد کیا جاتا ہے کہ دنیا کا ہر شخص کلام تک رسائی حاصل کر لے ۔ ایماندار ہر تناظر میں رہتے ہوئے مسیح کے بدن میں شامل دوسرے لوگوں کی خدمت کرتے اور اُن کے ساتھ شراکت اور رفاقت کرتے ہیں ۔
  4.  شاگردوں کی افزائش در افزائش کے عمل کے دوران مزید چرچز کی افزائش کرنے والے چرچ قائم ہوتے ہیں ۔ CPM کا مقصد یہ ہے کہ  1۔ شاگردوں    2۔  چرچز  3۔ راہنماؤں  4۔ تحریکوں کی افزائش در افزائش روح کی قوت سے  مسلسل ہوتی رہے ۔ 
  5. CPM کا مرکزِ نگاہ چرچز کی نسل در نسل افزائش کی تحریکوں کا آغاز ہوتا ہے۔ ( کسی ایک گروپ میں قائم ہونے والے پہلے چرچ کو پہلی نسل کے چرچ کہا جاتا ہے ، جو دوسری نسل کے چرچ کا آغاز کرتے ہیں اور  جو بعد ازاں تیسری نسل کے چرچ قائم کرتے ہیں ۔تیسری نسل کے یہ چرچ بعد ازاں  چوتھی نسل کے چرچ   کا قیام عمل میں لاتے ہیں ۔اور یوں یہ سلسلہ چلتا چلا جاتاہے )
  6. راہنما پورے عمل کا جائزہ لیتے ہیں اور افزائش اور ترقی کے لئے ضروری تبدیلیاں کرتے ہیں ۔ وہ اس بات کو یقینی  بناتے ہیں کہ کردار ،علم، شاگرد سازی کی مہارتوں اور تعلقات سازی کی مہارتوں کا ہر عنصر   سب سے پہلے بائبل کی بنیاد پر ہو اور بعد میں شاگردوں کی اگلی نسلوں کے لئے قابل ِ عمل ہو۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اس عمل میں شامل تمام چیزوں کو بہت سادہ رکھا جائے ۔ 

اب ہم دنیا کے بہت سے علاقوں میں اعمال کی کتاب ہی کی طرح انجیل کو پھیلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں ۔ ہماری خواہش ہے کہ ہماری نسل میں ہی انجیل  ہر قوم اور ہر مقام تک پھیل جائے !

سٹین پارکس    24:14 اتحاد کی سہولت کاری کی ٹیم  کے رُکن، بییانڈ تنظیم    کی گلوبل سٹریٹیجی کے نائب صدر اور ایتھنی کی لیڈرشپ ٹیم  کے رُکن ہیں۔ وہ دُنیا بھر میں CPM       کی کئی تحریکوں کے تربیت کار اور کوچ ہیں۔ 1994 سے نا رسا  قوموں کے درمیان خدمات انجام دے رہے ہیں۔

یہ مواد    ۔     24:14 – A Testimony to All Peoples کے صفحات 43-39  سے لیا گیا ہے۔    24:14 یا Amazon   پر دستیاب ہے۔ مشن فرنٹیٔرز، www.missionfrontiers.org  کے جولائی-اگست 2019  کے شُمارے  میں دوبارہ شائع کیا گیا۔